Time 13 اکتوبر ، 2017
کاروبار

’پاکستانیوں نے 14 سال میں 480 ارب ڈالر کی اشیا خریدیں‘

پاکستان اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے درآمدی اشیاء پر انحصار کرتا ہے جو آبادی کے ساتھ ساتھ بڑھ رہی ہیں۔ان چودہ سالوں میں پاکستان دنیا سے تقریباً 480 ارب ڈالر کی مصنوعات بشمول ان کے کرایہ خرید چکا ہے۔

اسے ایک اور طریقے سے سمجھیں تو پاکستانی 172 مہینوں سے مسلسل 2 ارب 80 کروڑ ڈالر کا سامان دنیا سے خرید رہے ہیں ، اگر اس کا موزانہ ایک سال کی درآمدات سے کیا جائے تو بارہ مہینوں میں  پاکستانیوں نے اوسطاً ہر ماہ 4 ارب 21 کروڑ ڈالر کا سامان درآمد کیا۔

اب ہم سامان کیا منگوارہے ہیں؟

تقریباً 147 ارب ڈالر کی پیڑولیم مصنوعات، 67 ارب کی مشینری، 59 ارب کے کیمیکل، 34 ارب کی دھاتیں، 23 ارب کی پلاسٹک مصنوعات، 23 ارب ڈالر کا خوردنی تیل، 23 ارب کی زرعی مصنوعات اور 23 ارب روپے کی پاکستانیوں نے باہر سے گاڑیاں منگوائیں جبکہ 7 ارب روپے کھانے پینے کے سامان خریدنے پر بھی خرچ کیے۔

اس سامان کی خریداری کے لئے زرمبادلہ چاہیے جسے ہم اپنی برآمدات سے کماتے ہیں اور کچھ زر بیرونی سرمایہ کاری سے مل جاتا ہے جب کہ کچھ بیرون ملک پاکستانی رقم بھیجتے ہیں۔

اس سب کے باوجود بھی ہر مہینے ایک ارب سے زائد ڈالر کی قلت کا سامنا رہتا ہے جسے کرنٹ اکاونٹ خسارہ کہتے ہیں، اس خسارے کو پورا کرنے کے لیے قرض لیا جاتا ہے نہیں تو زرمبادلہ کے ذخائر سے ادا کیا جاتا ہے جس سے یہ کم ہوتے ہیں اور ملک کے لیے پریشانیاں بڑھتی ہیں۔

پاکستان کی صورت میں یہ دونوں چیزیں ہورہی ہیں۔

گذشتہ مالی سال پاکستان کے بیرونی قرضوں کے حجم میں 961 ارب کا اضافہ ہوا جب کہ ایک سال کے دوران زرمبادلہ ذخائر بھی ایک ارب 67 کروڑ ڈالر کم ہوئے ہیں۔

جس ملک کے پاس تین ماہ کی درآمدات کے مساوی زرمبادلہ ہوتا ہے وہ کاروبار کے قابل ہے یہ ایک عالمی معیار ہے لیکن پاکستان کے ذخائر تین ماہ کی برآمدات کے لئے کافی نہیں ہیں۔

 گئے برس چین سے قرض لے کر اس کمی کو پورا کیا گیا تھا لیکن اس وقت بھی کچھ نیا قرض لینے کے اندازے لگائے جارہے ہیں۔

اور کوشش کی جارہی ہے کہ ہمارے درآمدات میں کھانے پینےکی تیار اشیاء پر سالانہ جو خرچ ہورہا ہے اسے قابو کیا جائے لیکن بڑھتی ہوئی مڈل کلاس تو اپنی گنجائش اور پسند کے مطابق چیزوں کی ڈیمانڈ تو کرے گی۔

پریشانی اس وقت ہوتی ہےجب یہ مقابلےکی شکل اختیار کرلیتی ہے، اس لیے مستقبل کی پلاننگ اہم ہے۔ 

ہمیں زرمبادلہ کمانے کے نئے طریقے ڈھونڈنا ہوں گے کیوں کہ آمدنی بڑھے گی تو بڑھتی آبادی کی ضروریات پوری ہوں گی۔

مزید خبریں :