Time 01 جون ، 2021
بلاگ

شہباز بنام نواز شریف

تصور کر لیتے ہیں کہ شہباز شریف عدالتی موشگافیوں سے نکل کر بیرون ملک جانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ لندن جاکر وہ اپنے بھائی نواز شریف سے کیا بات کریں گے، اس کی کچھ جھلکیاں ذیل میں درج کی جا رہی ہیں۔

نواز شریف :ویلکم شہباز، اب صحت کیسی ہے اپنا مکمل چیک اپ کروا کے جانا،واپس جانے میں اتنی جلدی نہ کرنا۔

شہباز شریف : چیک اپ کروا کے ہی جاؤں گا۔آپ کے حکم کی تعمیل کرونگا۔میں خاص طور پر اس لئے بھی حاضر ہوا ہوں کہ آپ سے عاجزانہ درخواست کروں کہ آپ بھی قومی مصالحت کے لئے رضامندی ظاہر کریں تاکہ ملک کو سب مل جل کر چلانے کی تدبیر کریں ۔

نواز:شہباز !ہماری طرف سے ریاست اور ملک کو چلانے میں کونسی رکاوٹ ڈالی گئی ہے نہ ہم تحریک عدم اعتمادلائے نہ لانگ مارچ کیا، ہمارے احتجاجی بیانات کو اگر جنگ سمجھا جا رہا ہے تو یہ بڑی زیادتی ہے ۔

شہباز :میں آپ کی بات سے اتفاق کرتا ہوں لیکن جب تک قومی مصالحت نہیں ہو گی ملک آگے نہیں چل سکے گا میں نے ریاست کے کارپردازان سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ مخاصمانہ ماحول کو ختم کرکے سازگار سیاسی ماحول بنانے میں مدد گار ثابت ہوں۔

نواز :تمہاری مصالحانہ کوششوں کے باوجود تمہیں بار بار جیل بھیجا جاتا رہا ہے، حمزہ طویل جیل کاٹ کے آیا ہے ۔مریم کو بھی گرفتاری کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ کیپٹن صفدر کبھی لاہور اور کبھی پشاور کی عدالتوں میں دھکے کھا رہا ہے ایسے میں مصالحت کی بات کیسے ہو سکتی ہے؟

شہباز:یہ درست ہے کہ حکومت کا رویہ جانبدارانہ اور منتقمانہ ہے میں خود جیل میں رہ کر اس ظلم کو جھیلتا رہا ہوں لیکن اس کے باوجود حل جارحانہ رویے نہیں بلکہ مصالحانہ رویے ہی ہیں اگر تو ملکی مسائل کا دیرپا حل نکالنا ہے تو اس کے لئے پھر سے قومی مصالحت کی طرف ہی جانا ہو گا۔

نواز:مصالحت یکطرفہ نہیں ہوتی ایک طرف خواجہ آصف اور جاویدلطیف کو جیلوں کی سیر کروا ئی جا رہی ہے دوسری طرف ہم صلح کے ڈھول پیٹیں یہ کوئی صحیح طریقہ نہیں ۔مصالحانہ رویوں کا آغاز حکومت اور مقتدرہ کی طرف سے ہونا چاہئے ہم کونسی جنگ کر رہے ہیں حملے تو حکومت ہمارے لیڈروں پر کرکے انہیں جیلوں میں بھجوا رہی ہے ہمیں قائل کرنے سے پہلے حکومتی رویوں کو تبدیل ہونا چاہئے ۔

(نوازویٹر کو آواز دیتے ہوئے کہ برمنگھم سے جو کباب آئے ہیں، وہ شہباز صاحب کے لئے لائیں)

شہباز :آپ کی بات درست ہے مگر جب ہم مصالحت اور مفاہمت کا اظہار کرینگے تو مقتدرہ پر اس کا اثر پڑے گا۔ لڑائی لڑنے سے ہم مقتدرہ سے دور جا رہے ہیں اگر ہم نے کامیابی حاصل کرنی ہے تو ہمیں مقتدرہ سے مفاہمت کی راہ تلاش کرنی چاہئے۔

نواز :لڑائی تو مقتدرہ نے کی ۔مجھے نکالا ۔اور ہمارے خلاف مقدمات بنائے پھر ہمارے مخالف عمران خان کی مدد کی اور اسے اقتدار میں لائے۔اگر مقتدرہ عمران کا ساتھ نہ دیتی تو وہ کبھی برسر اقتدار نہیں آ سکتا تھا یہ دونوں ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے ہیں۔ ان سے بات کرنے کا فائدہ نہیں ان سے لڑائی میں ہی فائدہ ہے لڑائی سے یہ کمزور ہونگے۔

شہباز :کچھ غلطیاں ہماری بھی تھیں ہم نے بھی حالات کو سمجھے بغیر کنفرنٹیشن کی پالیسی اپنائی، اس پالیسی سے ہمارا بے تحاشا نقصان ہوا اور اگر یہی پالیسی جاری رہی تو ہمارا مزید نقصان ہو گا۔میں تو خلوصِ دل کے ساتھ یقین رکھتا ہوں کہ آپ نے معاملات کو اچھے طریقے سے چلانے کی کوشش کی لیکن اس حوالے سے دوسرے فریق کا جائزہ لینے کی بھی ضرورت ہے۔

نواز :ہمارے پاس لڑنے کے علاوہ چوائس نہیں ہے، ہم اگر مزاحمت بھی نہیں کریں گے تو ہمارا وجود ہی ختم ہو جائے گا، مزاحمت کرینگے تو ہماری کوئی حیثیت ہو گی اور تب ہی کوئی ہم سے بات کرے گا۔ مزاحمت ہی کی پالیسی کی وجہ سے پنجاب میں ابھی تک ہمارا ووٹ بینک قائم ہے اور اسی وجہ سے ہم ضمنی انتخابات جیت رہے ہیں ۔

شہباز :اگر ملک نے آگے جانا ہے تو ہمارے اور مقتدرہ کے درمیان حائل خلیج کو پر ہونا چاہئے عمران خان کے اب صرف دو سال باقی ہیں آئندہ انتخابات کی بازی لگنے و الی ہے ہمیں اس کے لئے فیئر چانس ملنا چاہئے اور یہ تبھی ممکن ہے اگر مقتدرہ اور ہمارے تعلقات بہتر ہوں۔

نواز:شہباز!دیکھو برف وہاں سے پگھلنی چاہئے ساری زیادتیاں اس طرف سے ہوئی ہیں مداوا بھی ادھر سے ہی ہونا چاہئے وہ کب پھول لیکر آئے ہیں جو ہم نے قبول نہیں کئے وہ تو ہمیں کانٹے اور ہتھکڑیاں ہی روانہ کرتے رہے ہیں۔

شہباز:تالی دو ہاتھوں سے ہی بجتی ہے ہمیں تو اپنے ہاتھ کی پیشکش کرنی چاہئے اس سے مقتدرہ کے پاس متبادل چوائس آ جائےگی فی الحال مقتدرہ کو متبادل کا مسئلہ ہے۔ نہ ن لیگ قابل قبول ہے تو نہ پیپلز پارٹی، ایسے میں ہمیں بند راستوں کوکھولنا چاہئے۔

نواز:شہباز تم ہمیشہ سے مصالحت کی بات کرتے ہو۔ یہ تمہارا یکطرفہ ایجنڈا ہے یا اس کی کسی کونے سے حمایت بھی ہے، کھل کر بتاؤ کیا اسٹیبلشمنٹ بھی تمہارے فارمولے کی حامی ہے۔

شہباز:ابھی تو یہ میرا ہی فارمولا ہے لیکن مجھے اعتماد ہے کہ بالآخر ملکی مسائل کا حل یہی فارمولا بنے گا ابھی اگر اسٹیبلشمنٹ حمایت نہیں بھی کر رہی تو آنے والے دنوں میں اسے اس فارمولے کی ضرورت پڑے گی۔

نواز:شہباز پہلے دوسری طرف سے بھی کوئی مثبت سگنل آ لینے دو پھر تمہارے فارمولے پر غور کریں گے۔

شہباز:پی ڈی ایم کا کیا کرنا ہے؟ پیپلز پارٹی اور اے این پی کو ساتھ ملا کر رکھنا ہی اچھی سیاست ہوگی، دو اپوزیشن دھڑے فائدے کی بجائے نقصان دہ ہوں گے۔

نواز:پیپلز پارٹی اندر سے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ملی ہوئی ہے، اس نے جان بوجھ کر پی ڈی ایم کو تباہ کیا ہے ان کو دوبارہ سے پی ڈی ایم میں لانے کا فائدہ نہیں، ویسے بھی ہمیں پنجاب میں پیپلز پارٹی اور اے این پی کی جلسے، جلوسوں اور احتجاج کے لئے ضرورت ہی کب ہے؟

شہباز:قومی سطح پر پیپلز پارٹی اور اے این پی کے ساتھ ہونے سے ملک گیر تاثر قائم تھا پارلیمنٹ میں ہم اکٹھے ہیں تو پی ڈی ایم میں بھی کوئی راستہ نکالنا چاہئے۔

نواز:ابھی فی الحال ایسا ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ پیپلز پارٹی اور ہمارے مقاصد میں واضح فرق اور تضاد ہے اس لئے ان کے ساتھ چلنا ممکن نظر نہیں آ رہا۔

شہباز:قومی مصالحت کے ایجنڈے کو آگے بڑھاؤں؟امید ہے آپ بھی اپنا وزن میرے پلڑے ہی میں ڈالیں گے۔

نواز:میں نے ہمیشہ تمہاری امداد اور تعاون کیا ہے لیکن شرط یہ ہے کہ آغاز دوسرے کریں ہم فی الحال مزاحمت ہی کریں گے جب تک کہ خود مقتدرہ کی طرف سے مصالحت کا آغاز نہیں ہوتا۔


جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔