Can't connect right now! retry

بلاگ
22 ستمبر ، 2021

کاش تم نہ آتے

ابھی تو میدان آباد ہوئے تھے کہ غیریقینی کے بادل پھر سے چھا گئے۔ غیرملکی ٹیموں اور کھلاڑیوں نے آنا شروع ہی کیا تھا کہ ایک فیصلے نے پرانے زخم دوبارہ تازہ کردئیے۔ نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم کا 18سال بعد یہاں آنا اور پہلے میچ سے قبل ہی واپس چلے جانا ہمارے لئے خطرے کی گھنٹی ہے۔

 ابھی یہ کہنا قبل ازوقت ہے کہ کوئی سازش تھی یا کوئی سنجیدہ سکیورٹی معاملہ مگر بس اتنا سمجھ لیجئے کہ کرکٹ اب محض کھیل نہیں رہا۔ خارجہ اور سکیورٹی پالیسی کا مسئلہ بن گیا ہے۔ غرض یہ کہ ہر وہ عمل جس سے لوگوں کو قریب آنے کا موقع ملے اس میں رکاوٹ ڈالو۔ کرکٹ کو بھی سیاست کی نظر لگ گئی ہے۔

وزیر داخلہ شیخ رشید احمد صاحب ایک بزرگ سیاست دان ضرور ہیں مگر نجانے کیوں وزیر داخلہ نہیں لگتے ورنہ سب سے پہلے تو وہ اس سکیورٹی الرٹ لیٹر کا نوٹس لیتے جو 13؍ستمبر کو جاری ہوا۔ اگر وہ ایک جنرل الرٹ تھا تو اس میں نیوزی لینڈ ٹیم کا ذکر کرنا کیوں ضروری سمجھا گیا۔

 کیا ضروری تھا کہ اس قسم کے الرٹ جاری کئے جائیں جو میرے نقطہ نگاہ سے صرف نوکری بچانے یا کارکردگی دکھانے کے لئے ہوتے ہیں تاکہ اگر کوئی واقعہ ہوجائے تو کہا جائے ’’ہم نے تو الرٹ کردیا تھا‘‘۔ یہ ایک غیر ذمہ دارانہ لیٹر تھا جو عین ممکن ہے بنیاد بنا ہو۔ ماضی میں کئی واقعات میں ایسا ہی ہوتا رہا ہے۔

نیوزی لینڈ کی ٹیم کا دورہ کئی لحاظ سے بہت ضروری تھا۔ اس دورہ کے فوراً بعد تین بڑی ٹیموں کو پاکستان آنا تھا لیکن اب کرکٹ آسٹریلیا اور انگلش کرکٹ بورڈ کے بیانات سے تشویش میں اضافہ ہورہا ہے۔ مگر عین ممکن ہے ہمیں ویسٹ انڈیز کرکٹ بورڈ سے اچھی خبر ملے یہ دورہ ستمبر سے مارچ 2022ء تک ہے۔

میں آج بھی سمجھتا ہوں کہ مجموعی طور پر پاکستان کھیلوں کے حوالے سے ایک محفوظ ملک ہے اور ایک دو واقعات کے علاوہ یہاں بھارت کی کرکٹ ٹیموں کے دورے میں بھی شاید ہی کوئی واقعہ اس نوعیت کا ہوا ہو۔ جس سے کھلاڑیوں کی زندگیوں کو خطرہ ہو۔

 ایک دلچسپ واقعہ مجھے یاد ہے جب کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں ایک لڑکا میدان میں آگیا تھا جس کو عمران خان نے پکڑ لیا تھا اور بلا اٹھا لیا تھا۔ اس دن کراچی میں ایک طلبہ تنظیم نے احتجاج کی کال دی تھی اپنے کسی لیڈر کی رہائی کے لئے۔

ایک وقت ایسا بھی آیا کہ بھارت کے انتہا پسندوں نے پچ خراب کردی تھی۔ پاکستان کی ٹیم کے دورہ سے پہلے اور شیوسینا کے لیڈر بال ٹھاکرے نے دھمکی دی تھی کہ پاکستان کی ٹیم کو بھارت کی سرزمین پر قدم نہیں رکھنے دیں گے۔ ایسے میں ہر قسم کے تھریٹ کے باوجود اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف نے ٹیم کو بھیجنے کا فیصلہ کیا جس کا بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے خیرمقدم کیا۔ انڈین فاسٹ بولر کپل دیو نے انتہا پسندوں کو پیغام دیا کہ کرکٹ کو سیاست سے دور رکھو اور ہمیں کھیلنے دو۔

نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم کی پاکستانیوں کی نظر میں بہت عزت ہے جس طرح انہوں نے وہاں مسجد میں حملے کے بعد مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا تھا، زخموں پر مرہم رکھا تھا۔ شاید انہیں وزیر اعظم عمران کے فون اور یقین دہانی کے بعد ٹیم کو فیصلے پر نظرثانی کا کہنا چاہئے تھا۔

 ان کی شاید مشکل یہ تھی کہ انہیں جس طرح کی رپورٹ اپنے ہائی کمیشن سے ملی تھی اس کے بعد اگر دورہ کے دوران ایک واقعہ بھی ہوجاتا تو ان کا وزیر اعظم رہنا مشکل ہوجاتا۔اہم بات یہ ہے کہ سکیورٹی الرٹ تھا یا نہیں اور نیوزی لینڈ کی انٹیلی جنس کو ایسی کیا رپورٹ ملی تھی اور کہاں سے۔ شیخ صاحب سے صرف درخواست ہے کہ دستانے اور بغیر دستانے والوں کو تلاش کریں سازش کہنے سے پہلے اندر کے معاملات درست کریں یہ سنجیدہ معاملہ ہے ورنہ تو ؎ تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے۔

کھیل اب سیاست کا حصہ ہوگیا ہے خاص طور پر ان ممالک میں جہاں اس کے چاہنے والوں کی تعداد کروڑوں میں ہے جیسا کہ پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا۔ لہٰذا ہمیں سکیورٹی کے حوالے سے بہت سے عوامل کو پیش نظر رکھنا پڑے گا۔

 اگر آپ 2009ء کو لاہور میں سری لنکا کی ٹیم پر حملے کے پس پردہ عوامل کو دیکھیں تو پتا چلتا ہے کہ تامل ٹائیگرز اور بھارت کو پاکستان کی سری لنکن حکومت کی حمایت پسند نہیں تھی۔ ہم نے وہاں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن میں ان کی مدد کی تو انہوں نے اس کا بدلہ یہاں لے لیا۔ 

مگر اس سے بھی بڑا سوال یہ تھا کہ ہم نے کیسے سنگین غلطی کی اور ٹیم کو نشانہ بننے دیا۔ جو افسران سکیورٹی پر مامور تھے انہوں نے بغیر کلیئرنس کیسے سری لنکن ٹیم کی بس کو جانے دیا۔ اس وقت اگر ڈرائیور کمال مہارت کا مظاہرہ نہ کرتا تو کئی کھلاڑی ہلاک ہوسکتے تھے۔ کس کو سزا ہوئی اور سزا تو دور کی بات جو لوگ اس میں مبینہ طور پر ملوث تھے ان میں سے کچھ آج بھی موجود ہیں۔

 اگر مرتضیٰ بھٹو کے قتل میں ملوث افسران تمام مراعات کے ساتھ ریٹائر ہوئے یا آج بھی نوکری پر ہیں تو بس پھر سمجھ لیں کہ کوئی بھی الرٹ ’’فیک‘‘ نہیں ہو سکتا۔ 2002ء میں بھی نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم اچانک سیریز منسوخ کرکے چلی گئی تھی۔ گوکہ اُس وقت بات کچھ سمجھ میں آنے والی تھی۔ میں نے وہ واقعہ کور کیا تھا۔

 ٹارگٹ ٹیم نہیں سامنے والے ہوٹل پر کھڑی بس میں بیٹھے فرانسیسی انجینئر تھے مگر جس وقت حملہ ہوا غالباً صبح کے آٹھ یا نو کا وقت تھا اور اسی وقت ٹیم کو اسٹیڈیم کے لئے نکلنا تھا کہ اچانک دھماکہ ہوا اور باہر کھڑے کھلاڑی اور لابی میں ٹیم مینجمنٹ ہل سی گئی۔ خبر بھی سب سے پہلے نیوزی لینڈ ریڈیو نے بریک کی جس کی ٹیم میچ کوریج کے لئے آئی ہوئی تھی۔ شاید اگر ٹیم گراؤنڈ پر پہنچ جاتی تو سیریز بچ جاتی۔

وزیر اعظم عمران خان کو معاملات کو سنجیدہ لینا ہوگا۔ اس قسم کے واقعات کا تعلق افغانستان کی بدلتی سیاسی صورت حال اور پاکستان میں دہشت گردی کے کچھ اہم واقعات سے ہوسکتا ہے۔

 افغانستان میں طالبان کی حکومت کی تشکیل میں مدد کرنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ آپ کے وفاقی دارالحکومت میں کیا ہورہا ہے۔ اگر یہاں طالبان کا جھنڈا لہرایا جارہا ہے تو کیا پیغام جائے گا۔

 حال ہی میں نامزد اور منتخب ہونے والے چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ رمیز راجہ کو بھی سمجھنا ہوگا کہ کرکٹ اب محض کھیل نہیں ہے سیاست اور ڈپلومیسی کا حصہ ہے لہٰذا بیان دینے میں جوش سے زیادہ ہوش کی ضرورت ہے کیونکہ ہماری پہلی ترجیح اپنے ملک کو محفوظ اور اپنی ٹیم کو مضبوط بنانا ہے۔

 ہم اس ورلڈ کپ میں اچھی کارکردگی دکھا کر دنیا کو مثبت پیغام دے سکتے ہیں۔ ہمیں دو مضبوط ٹیموں بھارت اور نیوزی لینڈ کو شکست دے کر صرف یہ پیغام دینا ہے کہ چاہے تم ہمارے میدان آباد نہ ہونے دومگر ہم کھیل کے میدان میں آگے بڑھتے رہیں گے۔


جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM