بلاگ
21 نومبر ، 2022

نئے آرمی چیف سے واحد توقع

یہ اسلام آباد کی ایک سرد شام تھی، ایک مغربی سفارتکار کے ڈرائنگ روم میں مجھ سے ایسا سوال پوچھا گیا کہ سرد موسم میں مجھے ماتھے پر پسینہ محسوس ہونے لگا۔

اس محدود سی محفل میں تین سیاستدان، تین مختلف ممالک کے سفارتکار اور یہ خاکسار موجود تھا۔

ایک یورپی ملک کے سفیر نے مجھے پوچھاکہ اگر پاکستان ڈیفالٹ کرگیا تو مارشل لا لگ سکتا ہے یا نہیں؟ میں نے اس خطرناک سوال کا جواب دینے کی بجائے چہرے پر مسکراہٹ سجائی اور اپنے بائیں طرف بیٹھے ہوئے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس سوال کا جواب تو آپ کو دینا چاہئے۔

وزیر دفاع نے میری اس گستاخی پر کمال صبر و تجمل کا مظاہرہ کیا اور سفیر صاحب کو ایک تفصیلی جواب دیا جس کا خلاصہ یہ تھا کہ نہ تو پاکستان ڈیفالٹ کرے گا اور نہ مار شل لا لگے گا اور نئے آرمی چیف کی تقرری کے بعد معاملات بہتر ہو جائیں گے۔

وزیر دفاع سے بار بار پوچھا جا رہا تھا کہ اگلا آرمی چیف کون ہوگا اور وہ بار بار ایک ہی جواب دے رہے تھے کہ بس چند دنوں میں فیصلہ ہو جائے گا۔

ایک گھاگ سفارت کار مجھے کھینچ کر کونے میں لے گیا اور پوچھا کہ کیا آپ اپنے وزیر دفاع کے اس دعوے پر یقین کرنے کے لئے تیار ہیں کہ پاکستان ڈیفالٹ نہیں کرے گا؟

میں نے اسے بتایا کہ وزیر دفاع وہی کہہ رہا ہے جو وزیر خزانہ اسحاق ڈار بھی کہہ چکے ہیں۔ میں نے جان چھڑانے کے لئے کہا کہ میں ماہر معاشیات نہیں ہوں۔

سفارتکار نے بڑی سنجیدگی سے کہا کہ کچھ دن قبل آپ کی موجودگی میں ایک اہم شخصیت نے مارشل لا کی باتیں کیوں کیں؟

میں نے جواب میں کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں چار اعلانیہ مارشل لا لگ چکے ہیں لہٰذا جب مارشل لا نہیں ہوتا تو ہم غیر اعلانیہ مارشل لا کو کوستے رہتے ہیں۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے اور ہم اس خطرے کو ٹالنے کے لئے ہر وقت اس کی مذمت کرتے رہتے ہیں۔

سفارتکار میری جان چھوڑنے کو تیار نہ تھا۔ اس نے اپنی عینک اتاری، شیشہ صاف کیا اور پوچھا کہ اگر آپ سیاست میں فوج کے کردار کے خلاف ہیں تو آپ کی تمام سیاسی اشرافیہ اور میڈیا کا سب سے اہم ترین مسئلہ اگلے آرمی چیف کی تقرری کیوں ہے؟ آرمی چیف تو سیکرٹری دفاع کو جوابدہ ہوتا ہے لیکن پاکستان میں آرمی چیف کا عہدہ صدر اور وزیراعظم سے بھی زیادہ طاقتور نظر آتا ہے، ایسا لگتا ہے کہ کسی آرمی چیف کی نہیں بلکہ فیلڈ مارشل کی تقرری ہونے والی ہے۔

میری نظریں جھک چکی تھیں، بات تو سچ تھی لیکن بات تھی رسوائی کی۔

اس سے زیادہ رسوائی کیا ہوگی کہ ہفتہ کی شام پاکستان کے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے ایک پریس کانفرنس کی اور صدر مملکت عارف علوی کو متنبہ کیا کہ اگر آپ نے آرمی چیف کی تعیناتی میں گڑ بڑ کی تو پھر نتیجہ بھگتنے کے لئے تیار ہو جائیں۔

ہم پاکستانیوں کو تو ایک دوسرے کو دھمکیاں اور گالیاں سننے کی عادت پڑ چکی ہے لیکن جب کوئی وزیر خارجہ اپنے ہی ملک کی افواج کے سپریم کمانڈر اور صدر مملکت کو ’’تڑی‘‘ لگاتا ہے تو ساری دنیا کے کان کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اس ’’تڑی‘‘ کے کچھ دیر بعد میں نے حکومت کی ایک اہم شخصیت سے پوچھا کہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے جمعہ کو صدر مملکت سے ملاقات کی اور یہ تاثر ملا کہ سب معاملات ٹھیک ہیں اور صدر کو آرمی چیف کی تقرری کے لئے جو بھی نام بھیجا جائے گا اس پر صدر کی طرف سے کوئی اعتراض نہیں کیا جائے گا لیکن اگلے ہی روز وزیر خارجہ نے صدر کو دھمکیاں کیوں دیں؟

جواب ملا کہ صدر صاحب اپنے آئینی عہدے کے تقاضوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے آرمی چیف کی تقرری پر حکومت اور عمران خان کے درمیان اتفاق رائے کی کوششوں میں مصروف تھے۔ اس دوران وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی نے بھی عمران خان کو مشورہ دیا کہ نیا آرمی چیف مقرر کرنے کی بجائے جنرل قمر جاوید باجوہ کو کچھ عرصہ کے لئے توسیع دلوانے کی کوشش کی جائے اور مارچ یا اپریل 2023ء میں نئے انتخابات کے بعد نئی حکومت نئے آرمی چیف کا تقرر کرے۔

مجھے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ مسلم لیگ (ن) کے ایک سینئر رہنما نے بھی پچھلے دنوں لندن اور راولپنڈی کے بہت چکر لگائے اور وہ بھی جنرل قمر جاوید باجوہ کو توسیع دلوانے کے لئے سرگرم تھے۔ غور طلب نکتہ یہ تھا کہ آئی ایس پی آر کی طرف سے واضح کیا چکا ہے کہ جنرل باجوہ ان دنوں الوداعی ملاقاتیں کر رہے ہیں لیکن دوسری طرف مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کے اندر سے انہیں توسیع دلانے کی کوشش بھی ہو رہی تھی۔ وزیر خارجہ کی پریس کانفرنس دراصل اس کوشش کو مسترد کرنے کا اعلان تھا۔

وزیر خارجہ کی پریس کانفرنس کے ساتھ ہی عمران خان کا یہ اعلان سامنے آگیا کہ وہ 26 نومبر کو راولپنڈی میں خطاب کریں گے اور آئندہ کا لائحہ عمل دیں گے۔ عمران خان کی طرف سے 26 نومبر کی تاریخ کا اعلان صاف بتا رہا ہے کہ ان کی سیاست کا محور بھی اپنی مرضی کے آرمی چیف کی تقرری یا نئے آرمی چیف پر دبائو ڈالنا ہے۔

عمران خان اس غلط فہمی سے نکل آئیں کہ وہ پاکستان کے سب سے پاپولر لیڈر ہیں نیا آرمی چیف ان سے ڈکٹیشن لینے پر مجبور ہو جائے گا۔ انہوں نے جس اینٹی امریکہ اور اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیے پر پچھلے کچھ ضمنی انتخابات میں کامیابی حاصل کی اس بیانیے کا جنازہ انہوں نے خود نکال دیا ہے۔

پہلے تو فنانشل ٹائمز سے انٹرویو میں انہوں نے امریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات کی خواہش کا اظہار کرکے اپنے کئی مداحوں کو مایوس کیا اور پھر 19 نومبر کے خطاب میں کہا کہ اگر اسٹیبلشمنٹ نے ان کے خلاف سازش نہیں بھی کی تو دو خاندانوں کو دوبارہ اقتدار میں آنے سے کیوں نہیں روکا؟

دوسرے الفاظ میں عمران خان کی فوج سے لڑائی کی وجہ صرف یہ ہے کہ اس نے تحریک عدم اعتماد کو ناکام کیوں نہیں بنایا؟ جنہیں میر جعفر کہا، جن پر غداری کا الزام لگایا اور لفظ نیوٹرل کو گالی بنایا اب ان سے دوبارہ محبت کی پینگیں ڈالنے کی کوشش عمران کی سیاسی کج فہمی کے سوا کچھ نہیں۔

اگر وہ اتنے ہی پاپولر تھے تو قبل ازوقت انتخابات کیوں نہ کرا سکے؟ نہ فوری الیکشن کرا سکے، نہ اپنی مرضی کا آرمی چیف لگوا سکے، نہ چیف الیکشن کمشنر سے استعفیٰ لے سکے اور نہ اپنے پر قاتلانہ حملے میں مرضی کی ایف آئی آر درج کراسکے۔ آخر میں توشہ خانہ اسکینڈل کے گرداب سے نکلنے کے لئے ہاتھ پائوں مار رہے ہیں۔

حکومت کی حالت بھی کچھ مختلف نہیں۔ حکومت بھی اپنے تمام مسائل کا حل نئے آرمی چیف کی تقرری میں دیکھ رہی ہے حالانکہ آرمی چیف کے پاس کوئی الٰہ دین کا چراغ نہیں ہے جس کے ذریعہ وہ حکومت کی مشکلات کا حل نکالیں گے۔

آرمی چیف کی ترجیح ریاست کا مفاد ہونا چاہئے حکومت کا مفاد نہیں۔ ریاست کا مفاد آئین کی بالادستی میں ہے۔ نیا آرمی چیف اپنے قول و فعل سے یہ ثابت کر دے کہ وہ پاکستان کے آئین کے تابع ہے اور آئین سے زیادہ طاقتور نہیں تو پاکستان کے آدھے مسائل حل ہو جائیں گے۔


جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM