Time 22 فروری ، 2024
بلاگ

ایم کیوایم گورنرسندھ کا عہدہ کیوں چاہتی ہے؟

فوٹو: فائل
فوٹو: فائل

مَدو جَزر کا شکار ملکی سیاست کا ایک اونٹ بالآخر کسی کروٹ بیٹھ ہی گیا، ن لیگ نے پیپلزپارٹی کی شرائط قبول کرتے ہوئے حکومت سازی کا بڑا مرحلہ طے کرلیا تاہم ایک اور سیاسی اونٹ ابھی کسی کروٹ بیٹھنا باقی ہے۔

ایم کیوایم اور ن لیگ کے درمیان اہم مذاکرات آج اسلام آباد میں ہو رہے ہیں جن میں ان دونوں جماعتوں کے درمیان شراکت اقتدار کا فارمولا طے کیا جائے گا۔

ن لیگ کے پاس 79 اور پیپلزپارٹی کے پاس 54 نشستیں ہیں۔ قومی اسمبلی میں جنرل نشستوں کی تعداد 266 ہے ،خواتین کیلئے 60 اور غیر مسلموں کیلئے 10 نشستیں مختص ہیں۔

اس طرح قومی اسمبلی کی مجموعی تعداد 336 ہے۔ یعنی مضبوط حکومت بنانے کے لیے ن لیگ کو 17نشستوں والی ایم کیوایم سمیت بعض دیگر سابق اتحادی بھی درکار ہیں۔

ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے مذاکرات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا ہےکہ شہبازشریف وزیراعظم،آصف زرداری صدر ہوں گے۔ چیئرمین سینیٹ پیپلزپارٹی کا اور ڈپٹی چیئرمین ن لیگ کا ہوگا،اسپیکر قومی اسمبلی ن لیگ اور ڈپٹی اسپیکر پیپلزپارٹی کا ہوگا۔

صوبائی گورنروں سے متعلق بھی پیشرفت ہوئی ہے کہ گورنر پنجاب جیالاہوگا جبکہ ن لیگ سندھ اوربلوچستان کے گورنر نامزد کرے گی۔

ایم کیوایم کی ایک سرکردہ شخصیت نے راقم الحروف کو بتایا کہ 17 نشستوں کے ساتھ اتحاد کیلئے ایم کیوایم جن عہدوں پر آج اصرار کرے گی، ان میں سندھ کی گورنری بھی شامل ہے۔

یہ تو واضح نہیں کہ ن لیگ سندھ کے گورنر کا عہدہ ایم کیوایم کو دے گی یا نہیں تاہم پیپلزپارٹی کوسندھ کی گورنری سے دور کرکے ن لیگ نے اس بات کو یقینی بنالیا ہے کہ اس عہدے پر ایم کیوایم سے بات چیت کی جاسکتی ہے۔

سوال یہ ہے کہ ایم کیوایم کیلئے ایک ایسا آئینی عہدہ اہم کیوں ہے جس میں اختیارات نہ ہونے کے برابر ہیں؟ گورنر ہاؤس کا سالانہ بجٹ اتنا کم ہے کہ پروٹوکول کی گاڑیوں کا پیٹرول اورمینٹیننس اور عملے کی چائے پانی بھی پوری ہوجائے تو بڑی بات ہے۔

محمد کامران خان ٹیسوری کے اقدامات پر نظر ڈالی جائے تو ان سب باتوں کا جواب سامنے آجائے گا۔

فوٹو: فائل
فوٹو: فائل

یہ وہی کامران خان ٹیسوری ہیں جنہیں ایک عرصے تک ایم کیوایم کے سرکردہ رہنماؤں نے موومنٹ میں قبول کرنے کے قابل تک نہ سمجھا تھا۔ نوبت یہ تھی کہ کامران خان ٹیسوری کی وکالت کرنے والے فاروق ستار کو بھی اہمیت نہیں دی جاتی تھی۔ قبول کرلیا تب بھی کامران ٹیسوری کو سوتیلے بیٹا سمجھا۔

10 اکتوبر 2022 کو جب کامران خان ٹیسوری نے گورنر کا عہدہ سنبھالا تو عام خیال یہی تھا کہ وہ اپنی جگہ نہیں بناسکیں گے۔ ملک کی فلمی تاریخ سے ناواقف عمران خان نے تو اپنے تئیس تمسخر اڑاتے ہوئے انہیں 'مولاجٹ' قرار دے ڈالا تھا۔

سیاسی جغادریوں کو غلط ثابت کرتے ہوئے کامران ٹیسوری نے گورنر ہاؤس کے دروازے عوام کیلئے کھولے اور پھر صنعتکاروں اور تاجروں کی مدد سے ایک کے بعد دوسرا فلاحی منصوبہ شروع کیا۔یہاں تک کہ گورنر ہاؤس میں ہی ایک ایسی جدید یونیورسٹی کھول دی جہاں آئی ٹی جیسی مہنگی تعلیم مفت دی جا رہی ہے۔

فوٹو: فائل
فوٹو: فائل

ان اقدامات سے گورنر ٹیسوری نے صوبے خصوصاً کراچی جیسے اہم ترین شہر میں تیزی سے اپنا نام بنایا،ساتھ ہی اُس ایم کیوایم کی ساکھ بہتر کی جو 22 اگست کی متنازعہ تقریر کے بعد سے متاثر تھی اور اس تحریک کے منتخب نمائندے بھی عوام میں جاتے ہوئے بظاہر کترانے لگے تھے۔

2سال سے کم عرصے میں کامران ٹیسوری نے ایسا چمتکار کیا ہے کہ نہ صرف تاجر اور کاروباری حلقوں میں نام بنایا ہے کہ وہ مختلف ممالک کے سفارتکاروں کے بھی ہر دلعزیز بن گئے۔

کامران ٹیسوری کے علاوہ سندھ کا شاید ہی کوئی گورنر ایسا گزرا ہو جس کا ایک پیر کراچی میں تو دوسرا اسلام آباد یا ملک کے دیگر علاقوں میں ہوتا ہو۔

مختلف ممالک کے قومی دن ہوں تو گورنر ٹیسوری نہ صرف کراچی میں مہمان خصوصی ہوتے ہیں بلکہ اسلام آباد میں منعقد تقریبات میں بھی انہیں اسپیشل گیسٹ کے طورپر مدعو کیا جاتا ہے۔

روایت اور پروٹوکول کا تقاضا ہوتا ہےکہ اگر صدر یا وزیراعظم کسی صوبے کے گورنر ہاؤس آئے اور گورنر ملک میں موجود ہو تو وہ اس موقع پرضرور اپنی سرکاری رہائش گاہ میں ہوتا ہے۔

نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ چند روز پہلے کراچی آئے جہاں انہوں نے گورنر ہاؤس میں انفارمیشن ٹیکنالوجی سیکھنے والے ہزاروں طلبہ سے خطاب کیا۔حکومت سازی سے متعلق ایم کیوایم کی مذاکراتی ٹیم کا حصہ ہونے کے سبب گورنر ٹیسوری اسلام آباد میں ہی رُکنے پر مجبور تھے۔ جدید تعلیم سے متعلق گورنر کے اقدام کے متعرف نگران وزیراعظم نے یہ جانتے ہوئے بھی دورہ ملتوی نہیں کیا۔

فوٹو: فائل
فوٹو: فائل

ذاتی حیثیت میں کامران خان ٹیسوری نے اس عرصے میں ن لیگ کی قیادت سے بھی گہرے تعلقات قائم کیے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ نوازشریف کی وطن واپسی سے پہلے گورنر ٹیسوری لندن گئے تو میاں نوازشریف اور اسحاق ڈار سے خصوصی ملاقات کی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ن لیگ کیلئے بھی وہ گورنر کی حیثیت سے قابل قبول شخصیت ہیں۔

ان اقدامات کی وجہ سے کامران خان ٹیسوری نے شُہرت تو کمائی،ساتھ ہی ایم کیوایم کے بعض حلقوں میں ان کی رقابت بھی بڑھی ہے۔ سیاسی جماعتوں کے افراد میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش اپنی جگہ، ایم کیوایم شاید اس لیے بھی سندھ کی گورنری لینے کے لیے ن لیگ سے اصرارکر رہی ہے کہ کامران ٹیسوری اس مشکل وقت میں ایم کیوایم کا پازیٹو امیج بنے ہوئے ہیں۔

یہ بھی کہ ن لیگ کو وزیراعلی ہاؤس پنجاب اور وزیراعظم ہاؤس ملے، پیپلز پارٹی کو ایوان صدر تو سندھ سے 17 قومی اور 28 صوبائی اسمبلی کی نشستیں لینے والی اتحادی ایم کیوایم کو بیٹھنے کے لیے  علامتی ہی سہی گورنر ہاؤس تو ہو۔


جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔