2 پائلٹس کی 64 دن سے زائد عرصے تک بلارکے طیارہ اڑانے کی دلچسپ داستان

یہ وہ طیارہ ہے / فوٹو بشکریہ AdolfGalland/Flickr
یہ وہ طیارہ ہے / فوٹو بشکریہ AdolfGalland/Flickr

کیا آپ کو معلوم ہے کہ دنیا میں طویل ترین فاصلے تک مسلسل پرواز کا ریکارڈ کب قائم ہوا تھا؟

یقین کرنا مشکل ہوگا مگر دہائیوں قبل 2 پائلٹس نے دنیا کی طویل ترین مسلسل پرواز کا ریکارڈ قائم کیا جس کے دوران طیارہ 2 ماہ سے زائد عرصے تک فضا میں رہا۔

جی ہاں واقعی رابرٹ ٹم اور جان کک نامی پائلٹس نے 1958 اور 1959 کے دوران یہ ریکارڈ قائم کیا۔

ان دونوں نے 64 دن 22 گھنٹے اور 19 منٹ تک لاس ویگاس کے اوپر پرواز کی۔

ان کے طیارے نے اس عرصے میں 2 لاکھ 40 ہزار کلو میٹر تک پرواز کی، جو زمین کے گرد 6 چکر لگانے کے برابر ہے۔

یہ فضائی ریکارڈ 65 سال بعد بھی برقرار ہے اور بغیر پائلٹ والے خودکار طیارے بھی اسے توڑ نہیں سکے۔

2022 میں سولر پاور سے چلنے والا ڈرون Zephyr اس کے قریب ضرور آیا مگر 64 دن 18 گھنٹے اور 26 منٹ بعد کریش کر گیا، یعنی 4 گھنٹے کے فرق سے ریکارڈ قائم نہیں کر سکا۔

دنیا کی طویل ترین پرواز کے پیچھے چھپی کہانی بھی بہت عجیب اور دلچسپ ہے۔

1956 میں لاس ویگاس میں ایک ہوٹل Hacienda کھلا تھا اور اس کے مالکان بہت زیادہ پبلسٹی کرنا چاہتے تھے۔

اس مقصد کے لیے انہوں نے ایک طیارے پر ہوٹل کا نام لکھوایا اور اسے دنیا کی طویل ترین پرواز کے لیے استعمال کیا۔

رابرٹ ٹم دوسری جنگ عظیم کے دوران ائیر فورس پائلٹ رہے تھے اور اس زمانے میں وہ ہوٹل میں ملازمت کر رہے تھے۔

طویل ترین پرواز کے لیے سیسنا 172 نامی طیارے کو منتخب کیا گیا۔

یہ سنگل انجن طیارہ تھا جس میں متعدد تبدیلیاں کی گئی تھیں تاکہ اسے طویل ترین پرواز کے لیے تیار کیا جا سکے۔

مگر سب سے ضروری چیز یہ تھی کہ پرواز کے دوران طیارے میں ایندھن کو کیسے بھرا جائے، اس زمانے میں سیسنا 172 کو فضا میں ایندھن فراہم کرنے کا کوئی طریقہ موجود نہیں تھا۔

طیارے میں ایندھن بھرنے کا منظر / فوٹو بشکریہ  San Diego Air and Space Museum Archive
طیارے میں ایندھن بھرنے کا منظر / فوٹو بشکریہ  San Diego Air and Space Museum Archive

تو طیارے میں اضافی ایندھن بھرنے کے لیے 95 گیلن کا فیول ٹینک نصب کیا گیا جسے زمین پر کھڑے ایک ٹرک سے بھرا جاتا۔

جب طیارے کو ایندھن کی ضرورت ہوتی تو اسے اسے بہت نیچے لاکر بہت ہلکی رفتار سے اڑایا جاتا، جس کے دوران ٹرک سے ایک پائپ کے ذریعے ایندھن کو طیارے میں منتقل کیا جاتا۔

یہ کافی ڈرامائی تھا کیونکہ اکثر طیارے کو رات کو ایندھن کی ضرورت ہوتی تھی۔

ہر بار کیلیفورنیا اور ایریزونا کی سرحد پر موجود ایک ایسی شاہراہ میں ایندھن بھرا جاتا جہاں سے ٹریفک نہیں گزرتی تھی۔

ایندھن کے ساتھ ساتھ پائلٹس کو غذا، پانی اور دیگر اشیا بھی فراہم کی جاتی تھیں۔

رابرٹ ٹم کی ابتدائی 3 کوششیں مختلف وجوہات جیسے ری فیولنگ کے مسائل کے باعث ناکام رہی تھیں۔

مگر انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور 4 دسمبر 1958 کو چوتھی بار اپنے ساتھی جان کک کے ساتھ McCarran ائیر پورٹ سے روانہ ہوئے اور پھر اگلے 64 دن تک زمین پر قدم نہیں رکھا۔

اس طویل سفر کے لیے ایک فولڈ ایبل ٹوائلٹ طیارے میں رکھا گیا تھا جس میں موجود فضلے کو بیگز میں بھر کر صحرا میں اچھال دیا جاتا۔

طیارے کے چھوٹے کیبن میں ایک بستر بھی موجود تھا مگر اس چھوٹے طیارے میں سونا آسان نہیں تھا جس کے باعث پائلٹس نیند کی کمی کے شکار ہوئے جبکہ تھکاوٹ اور بیزاری کا سامنا بھی ہوا۔

درحقیقت نیند کی کمی کے باعث دونوں پائلٹ موت کے منہ میں بھی پہنچ گئے تھے۔

پرواز کے 36 ویں دن رابرٹ ٹم طیارے کو اڑاتے ہوئے سو گئے اور وہ آٹو پائلٹ سسٹم پر 1200 میٹر بلندی پر ایک گھنٹے سے زائد وقت تک اڑتا رہا۔

اس کے چند دن بعد آٹو پائلٹ سسٹم ہی خراب ہوگیا۔

65 ویں دن دونوں پائلٹس نے زمین پر اترنے کا فیصلہ کیا اور ان کا ریکارڈ اب تک ٹوٹ نہیں سکا۔