Time 23 اپریل ، 2024
پاکستان

ضمنی انتخابات میں ووٹر ٹرن آؤٹ عام انتخابات کی نسبت کم رہا، فافن رپورٹ جاری

رپورٹ کے مطابق نتائج کی شفافیت اور بیلٹ پیپرز اجرا کے عمل میں بے ضابطگیوں کے کچھ واقعات بھی مشاہدے میں آئے—فوٹو: فائل
رپورٹ کے مطابق نتائج کی شفافیت اور بیلٹ پیپرز اجرا کے عمل میں بے ضابطگیوں کے کچھ واقعات بھی مشاہدے میں آئے—فوٹو: فائل

فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹورک (فافن) نے ضمنی انتخابات کے حوالے سے رپورٹ جاری کردی۔

فافن کی ضمنی انتخابات سے متعلق رپورٹ کے مطابق ضمنی انتخابات کے دوران ووٹر ٹرن آؤٹ 8 فروری کے عام انتخابات کی نسبت تبدیل ہوتا ہوا نظر آیا، ضمنی الیکشن میں ووٹر ٹرن آؤٹ 8 فروری کے انتخابات کے مقابلے میں کم تھا۔ 

ضمنی انتخابات میں ووٹر ٹرن آؤٹ کی شرح 36 فیصد رہی، خواتین کے ووٹ ڈالنے کی شرح میں 12 فیصد جبکہ مردوں کی ووٹ ڈالنے کی شرح میں 9 فیصد کمی ہوئی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لاہور میں ضمنی انتخابات میں ووٹر ٹرن آؤٹ واضح طور پر کم ہوا، گجرات، خضدار اور قلعہ عبداللہ میں ووٹرن آؤٹ کی شرح بلند ہوئی۔

رپورٹ کے مطابق ضمنی انتخابات میں گنتی سے خارج ووٹوں کی تعداد بھی آدھی ہوگئی، مجموعی طور پر 35 ہزار 574 ووٹ مسترد ہوئے جبکہ 8 فروری کے عام انتخابات میں ان حلقوں میں 72 ہزار 472 ووٹ مسترد ہوئے تھے، 4 حلقوں میں مسترد شدہ ووٹوں کی تعداد جیتنے والے امیدوار کی جیت کے فرق سے زیادہ تھی جبکہ عام انتخابات میں ایسا کوئی حلقہ نہیں تھا جہاں مسترد ووٹوں کی تعداد جیت کے فرق سے زیادہ ہو۔

ضمنی انتخابات کے لیے کل رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد میں 75 ہزار 640 کا اضافہ ہوا، پی پی 36، وزیر آباد اور پی پی 93 بھکر کے علاوہ تمام حلقوں میں عام انتخابات کے دوران جیتنے والی جماعتوں نے اپنی جیتی گئی نشستیں برقرارر کھیں۔ 

ان دو حلقوں میں 8 فروری کو پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار کامیاب ہوئے تھے جبکہ ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار ان نشستوں پر کامیاب ہوئے۔ 

پی پی 36 وزیر آباد اور پی پی 93 بھکر میں کامیاب امیدوار اور دوسرے نمبر پر آنے والے امیدوار کے درمیان جیت کا فرق 8 فروری کے مقابلے میں کم ہوا۔ ضمنی انتخابات کے دیگر تمام حلقوں میں جیت کے فرق میں اضافہ دیکھا کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق نتائج کی شفافیت اور بیلٹ پیپرز اجرا کے عمل میں بے ضابطگیوں کے کچھ واقعات بھی مشاہدے میں آئے، پولنگ کا عملہ، پولنگ اسٹیشنز کا قیام، ووٹرز کی شناخت، بیلٹ پیپرز کا اجرا اور  ووٹوں کی گنتی، بڑی حد تک مناسب طریقہ کار کے مطابق تھی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ پی پی 22 چکوال اور پی پی 36 وزیرآباد میں آزادانہ مشاہدے پر پابندیاں دیکھنے میں آئیں، 19 پولنگ اسٹیشنز پر سکیورٹی حکام یا پریذائیڈنگ آفیسرز نےفافن کے مبصرین کو انتخابی عمل کے مشاہدے سے روکا۔ 

رپورٹ میں کہاگیا کہ این اے 207 شہید بینظیر آباد اور پی ایس 80 دادو میں امیدوار بلامقابلہ منتخب ہوئے، بلا مقابلہ جیت کی حوصلہ شکنی اور یکساں مواقع کے اصول کو برقرار رکھنے کے لیے انتخابی امیدواروں کی طرف سے دستبرداری اور استعفوں کی دفعات پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے۔

مزید خبریں :