04 اپریل ، 2012
کراچی…امریکانے پاکستان کی قومی ایئرلائن پر نئی پابندی عائدکردی ہے۔ ایسی پابندی دنیاکی کسی اورایئرلائن پرنہیں لگائی گئی۔ پی آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ اس پابندی کے نتیجے میں پی آئی اے کا امریکاکیلئے فضائی آپریشن تباہی کاشکارہوجانے کا خدشہ ہے۔ مبصرین اسے نیٹوسپلائی بند کرنے کاردعمل بھی قراردے رہے ہیں۔امریکی ادارے ٹی ایس اے یعنی ٹرانسپوٹیشن سیکیورٹی ایڈمنسٹریشن نے پابندی عائد کردی ہے کہ 22اپریل کے بعد امریکا آنے سے پہلے پی آئی اے کی تمام پروازوں کے مسافروں،اِن کے سامان اورکارگوکی برطانیہ کے مانچسٹرایئرپورٹ پر دوبارہ جانچ پڑتال کی جائے گی۔ پی آئی اے کی مانچسٹر کے راستے ہفتہ وار تین پروازیں امریکی شہرنیویارک جاتی ہیں۔ یہ پروازیں دیڑھ گھنٹے کیلئے مانچسٹر ایئرپورٹ پر رکتی ہیں، نئی امریکی پابندی کے بعد پروازوں کوچھ سے سات گھنٹے تک مانچسٹرمیں رکناپڑے گا، ذرائع کے مطابق مانچسٹر ایئرپورٹ پرسہولتیں بہت محدود ہیں، اس لئے پی آئی اے کی پروازوں کوگھنٹوں انتظارکرناہوگا جبکہ پاکستانی مسافروں گھنٹوں مسافروں کیلئے انتہائی تکلیف دہ بھی ہوگا۔ دوسری جانب ایئرپورٹ پر طیارے کی زیادہ دیر تک پارکنگ اور لاوٴنچز کی فیس ، بیگج اور کارگو کی اسکینگ کے چارجز اور مسافروں کے کھانے پینے کی مد میں پی آئی اے کو لاکھوں روپے کی اضافی اخراجات کاسامناہوگا۔امریکا کیلئے پروازوں کے دورانیہ میں اضافے سے پی آئی اے کا شیڈول بھی متاثرہوگا۔کیونکہ پی آئی اے کوپہلے ہی طیاروں کی کمی کاسامنا ہے۔اس طرح پی آئی اے کے مسافروں کا دیگرایئرلائنزپرچلے جانے کا خدشہ بڑھ جائے گا جس سے پی آئی اے کو کئی ملین ڈالرز کا نقصان ہوگا۔امریکا نے دُنیا کی کسی ایئرلائن پرپی آئی اے جیسی پابندی عائد نہیں کی۔مبصرین اُسے نیٹوسپلائی بند کرنے کا ردعمل بھی قرار دے رہے ہیں۔پی آئی اے کے انتظامی ذرائع کے مطابق امریکی انتظامیہ نے اپنے خط میں پابندی کی کوئی وجہ نہیں بتائی ہے۔ اُدھر امریکا کی دی گئی مہلت میں صرف 19 دن رہ گئے ، پی آئی اے نے وزرات دفاع کو لکھا بھی ہے ، لیکن حکومت نے ابھی تک امریکا سے اس بارے میں کوئی رابطہ نہیں کیا ہے۔