04 اپریل ، 2012
اسلام آباد…چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا کہ انہیں مجبور نہ کیا جائے اور وہ وقت نہ آئے کہ اپنے فیصلوں پر عمل درآمد کیلئے کسی اور کو بلانا پڑے منگل کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی صدارت میں تین رکنی بینچ نے کوئٹہ میں امن وامان کے حوالے سے دائر پٹیشن کی سماعت کی۔ چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ عدالت عظمیٰ نے کراچی کے حالات پر ایک تفصیلی حکم جاری کیا تھا کہ نو گوایریا کو ختم ‘ پولیس سے سیاسی عناصر کا خاتمہ اور کراچی شہر کو اسلحہ سے پاک کیا جائے مگر عدالتی احکامات پر عمل نہیں کیا گیا۔ آج اس شہر کے حالات سب کے سامنے ہیں بے گناہ لوگ مررہے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ انہیں مجبور نہ کیا جائے اور وہ وقت نہ آئے کہ اپنے فیصلوں پر عمل درآمد کیلئے کسی اور کو بلانا پڑے۔ سپریم کورٹ نے بلوچستان میں اغوا برائے تاوان، ٹارگٹ کلنگ، لاپتہ افراد اور مسخ شدہ لاشوں سے متعلق پیش کی جانے والی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اغوا اور دیگر جرائم میں ملوث وزرا کے خلاف فوری کارروائی کا حکم دیا، جبکہ چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ بلوچستان حکومت شہریوں کے تحفظ میں ناکام ہوگئی ہے۔ مسخ لاشیں ملنے سے پوری دنیا میں پاکستان کی بدنامی ہو رہی ہے، لگتا ہے کسی کو بلوچستان کا کوئی درد ہی نہیں ہے۔