04 اپریل ، 2012
لاہور …لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس مظہر اقبال سدھو نے اس امر کا نوٹس لیا ہے کہ جیلوں میں افسروں کی ملی بھگت سے ناصرف قیدیوں کو ہیروئن، شراب اور دیگر منشیات سپلائی ہوتی ہیں بلکہ نوجوان قیدی لڑکیوں کو بھی جیلوں کے باہر سپلائی کیا جاتا ہے۔عدالت نے یہ نوٹس سیالکوٹ جیل میں 2003 میں پولیس آپریشن کے دوران ماتحت عدالتوں کے ججوں کی ہلاکت کے معاملے میں سابق ڈی آئی جی ملک اقبال اور دیگر پولیس افسروں کی بریت کے خلاف اپیلوں کی سماعت کے دوران لیا۔ سپرنٹنڈنٹ سیالکوٹ جیل نے عدالت کو بتایا کہ اس قسم کے واقعات جیلوں کے ماتحت عملے کی ملی بھگت سے ہوتے ہیں۔ جسٹس مظہر اقبال نے کہا کہ عدالت کے سامنے ایسے واقعات پر مبنی بہت سارے کیس زیرسماعت ہیں۔ جس کی سینئر فوجداری وکیل آفتاب باجوہ نے تائید کی۔ عدالت نے اپیلوں پر کارروائی کل تک ملتو ی