19 اگست ، 2014
کراچی…محمدرفیق مانگٹ......برطانوی اخبار’’ فنانشل ٹائمز‘‘لکھتا ہے کہ پاکستان میں جاری احتجاج نے فوجی بغاوت کے خدشات میں اضافہ کردیا، فوج بظاہر تو اقتدار سے دور ہے لیکن پالیسی پر ان کا مضبوط کنٹرول ہے۔خدشہ ہے کہ فوجی مداخلت سے پاکستان بھی مصر اور تھائی لینڈ جیسے ممالک کی صف میں کھڑا ہوجائے گا۔قیاس آرائیاںہے کہ فوج کنٹرول سنبھالنے کی مضبوط منصوبہ بندی کیے ہوئے ہے۔جوہر ی ملک میں تشدد آپے سے باہر ہوگیا تو فوج ملک کا کنٹرول سنبھالنے کا اقدام کر سکتی ہے،متبادل منظر نامہ یہ بھی ہے کہ جنرل راحیل شریف کا جھکاؤ نواز شریف کی طرف ختم اور انہیں جھکنے پرمجبور کیا جارہا ہے،مغربی حکام سمجھتے ہیں کہ عمران اور قادری سے گفت وشند کرکے نواز شریف ملٹری ایکشن سے ملک بچا سکتے ہیں۔ مداخلت کی صورت میں تادیبی بین الاقوامی پابندیوں کے خدشات جرنیلوں کو روک سکتے ہیں۔نواز شریف کے حامی سمجھتے ہیں کہ سینئر جرنیلوں نے عمران خان اور قادری کو منتخب جمہوری حکومت کمزور کرنے کیلئے اسپانسر کیا، وزیراعظم جنرل مشرف کے خلاف مقدمہ چلانے کے مطالبے کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔ اخبار اپنی تفصیلی رپورٹ میں لکھتا ہے کہ اسلام آباد میںہزاروں کارکنوں کے ساتھ احتجاج کرتے عمران خان وزیر اعظم نواز شریف سے استعفیٰ کا مطالبہ کررہے ہیں جس سے پاکستان میں بڑھتی افراتفری نے فوج کے کردار کی سمت اشارہ کردیا ہے۔ پاکستان کے آخری فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف کے جانے کے چھ سال بعد پاکستان جمہوری راستے پر واپس آ چکاتھا،فوج خیالی طور پر تو اقتدار سے دور رہی لیکن ان کا پالیسی پر مضبوط کنٹرول انہیں مزید مضبوط کیا۔وزیرستان میں آپریشن نے عمران خان کے احتجاج کوپس منظر فراہم کیا۔اس مسلسل دباؤ کا اشارہ اس ہفتے اس وقت سامنے آیا جب فوج کے سربراہ سے ہنگامی ملاقات کیلئے نواز شریف کے طاقتور چھوٹے بھائی شہباز شریف لاہور سے راولپنڈی آئے۔ان کے معاونین کے مطابق ملاقات کا ایجنڈا آخری منٹ میں اس احتجاج کو روکنا تھا۔تاہم اس ملاقات کی فوج یا حکومت کی طرف سے عوامی سطح پر تصدیق نہیں کی گئی۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ دباؤ کا شکار وزیر اعظم آخری لمحوں میں فوجی حمایت کے خواہاں تھے جو فوج کے طاقتور کردار کی یاد دہانی فراہم کرتا ہے۔یہ حیران کن بات نہیں کہ نواز شریف حکومت درپیش تازہ ترین چیلنج کو عمران خان کے خطاب کے بعد اس وقت وسیع پیمانے پر قیاس آرائیوں نے تقویت پکڑی کہ فوج مرکز ی اسٹیج پر آنے کے لئے مضبوطی سے منصوبہ بندی کررہی ہے۔اگرچہ مکمل فوجی بغاوت کا امکان نہیں۔ بہت سے مقامی تجزیہ کاروں کو خدشہ ہے کہ پاکستان جلد ہی مصر اور تھائی لینڈ جیسے ممالک کی فہرست میں شامل ہو سکتا ہے جہاں داخلی سیاست کو فوجی مداخلت کاسامنا کرنا پڑا۔ ایک ریٹائرڈ آرمی جنرل نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اخبار کو بتایا کہ فوج بذات خوداسے ایک فرض سمجھتی ہے کہ پاکستان یکجا رہے۔ جوہری ہتھیاروں سے مسلح دنیا کے واحد اسلامی ملک پاکستان میں اگر تشدد آپے سے باہر ہو گیا تو فوج کے لئے ملک کاکنٹرول سنبھالنے کے عمل کو متحرک کردے گا۔ انہوں نے کہا کہ واقعات کی ترتیب کے بارے کوئی شک وشبہ نہیں۔گزشتہ دنوں معمولی سی جھڑپ کے علاوہ احتجاج پر امن ہے۔یہ صورت حال کچھ مبصرین کو ایک متبادل منظر نامے کی پیشن گوئی کرتا ہے جس میں جنرل راحیل شریف کا جھکاؤ نواز شریف کی طرف ختم ہو کر اور انہیں مخالفین کے سامنے جھکنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ سابق وزیر محمد علی درانی کا کہنا ہے کہ براہ راست فوجی مداخلت کا خطرہ ایک بڑھتا ہوا خطرہ بن جائے گا۔اگر کنٹرول بدامنی سے باہر ہو جاتا ہے تو فوج کوچارج لینے کے لئے دھکیلا جا سکتا ہے۔احتجاج سے باخبر رہنے والے مغربی حکام کہتے ہیں کہ نواز شریف کے پاس ملٹری ایکشن سے بچنے کا موقع ہے۔ خاص کر وہ طاہر القادری اور عمران خان کے ساتھ گفت شنید کرسکتے ہیں۔ایک سنئیر سفارت کار کا کہنا ہے کہ کسی بھی مداخلت کی صورت میں تادیبی بین الاقوامی پابندیوں کے خدشات جرنیلوں کو روک سکتے ہیں۔کسی بھی قسم کے مذاکرات سے احتجاج کے خاتمہ نظر نہیں آتا،جو دونوں اطراف کے اختلاف کو واضح کرتا ہے۔عمران کو انتخابی دھاندلی پر غصہ ہے جب کہ طاہر القادری اشرافیہ سے مغلو ب سیاسی نظام کو بنیادی طور پر تبدیل کر درمیانے اور کم آمدنی والے گروپوں کے لئے مواقع پیدا کرنا چاہتے ہیں۔بہر حال، نواز شریف پیچھے ہٹنے کو تیار نظر نہیں آتے۔ان کے حامی یہ سمجھتے ہیں کہ ان احتجاجوں کے پیچھے فوج کا ہاتھ ہے اور دعویٰ کرتے ہیں کہ سینئر جرنیلوں کی طرف سے عمران خان اور قادری دونوں کو ملک کی منتخب جمہوری حکومت کو کمزور کرنے کیلئے اسپانسر کیا گیا ہے۔ نواز شریف کی جماعت کے ایک سینئر رہنما کہتے ہیں وزیراعظم جنرل مشرف کے خلاف مقدمہ چلانے کے مطالبے کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔ ممتاز اخباری مبصر ایاز امیر کہتے ہیں صرف ملک کے سیاسی رہنماا ب پاکستان کی مدد کرسکتے ہیں کہ دوبارہ تلخ مناظر نہ دہرائے جائیں اگر خلاء رہ جائے گا ور سیاستدان کچھ کرنے میں ناکام ہو گئے تو کسی کو آنا پڑے گا۔