Can't connect right now! retry
Advertisement

پاکستان
30 نومبر ، 2017

اسلام آباد دھرنے کے خاتمے کیلئے کسی نے کردار ادا کیا تو اچھی بات ہے، سپریم کورٹ

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں فیض آباد دھرنے کے خلاف نوٹس پر سماعت کے دوران جسٹس قاضی فائز عیسیٰ شدید برہم ہوگئے۔

جسٹس مشیر عالم اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر مشتمل سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے 21 نومبر کو دھرنے کا نوٹس لیا تھا۔

سپریم کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے آج کیس کی دوسری سماعت کی، عدالت نے حکومت سے دھرنا مظاہرین کو فیض آباد انٹرچینج سے ہٹانے کے لئے پیشرفت رپورٹ کی تھی جس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے آئی ایس آئی اور آئی بی کی سربمہر رپورٹ عدالت میں جمع کرائی۔

سماعت کے آغاز پر عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل نے سوال کیا کہ فیض آباد آپریشن میں کتنی اموات ہوئیں؟ جس پر انہوں نے بتایا کہ ہلاکت کا کوئی واقعہ نہیں ہوا، واقعے میں 173 پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا رپورٹ دی جائے ، بتایاجائے کیا ہوا؟ جس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ نقصان سے متعلق معلومات پنجاب حکومت دے سکتی ہے، پنجاب حکومت کی غیر دستخط شدہ رپورٹ موصول ہوئی ہے، رپورٹ کے مطابق 146 ملین روپےکا نقصان ہوا۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل کے جواب پر جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ اگرآپ کومعلوم نہیں توصحافیوں سےپوچھ لیں، صحافی آپ کو بتادیں گے میٹرو کا کتنا نقصان ہوا، لوگوں کا کتنا نقصان ہوا، یہ عوام کاپیسا ہے،کون بتائےگا یہ نقصان کون پورا کرےگا؟ اسلام کے نام پر سرکاری اور نجی املاک کےنقصان کی اجازت کہاں ہے؟

جسٹس قاضی فائز نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے،کیا یہاں اسلام پربات نہیں ہوسکتی؟ پاکستان اسلامی نظریےپرہی چلےگا۔

دوران سماعت آئی ایس آئی کے نمائندے عدالت میں پیش ہوئے۔ جسٹس قاضی فائز نے آئی ایس آئی اور آئی بی پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملکی ایجنسیاں کر کیا رہی ہیں؟ کیا ہرکام میں تفریق ڈالنا ہی رہ گیاہے؟ ہر چیز سیاسی ایجنڈا نہیں ہوتی،کبھی ملک کے لیے بھی سوچا کریں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جو کچھ ہوا اس سے نہ اسلام اور نہ ہی پاکستان کی خدمت ہوئی، اگر میں آپ سے متفق نہیں تو کیا میں پتھر ماردوں؟ اڑاؤ ، تباہ کرو، بس یہ ایجنڈا بنالیا گیا ہے، صورتحال یہاں تک آگئی ہے کہ اب شیشے میں اپنی شکل بھی اچھی نہیں لگتی۔

معزز جج کا کہنا تھا کہ آرمی حکومت کا حصہ ہے، دھرنے کے خاتمے کے لیے کسی نے کردار ادا کیا تو اچھی بات ہے، فوج حکومت سے الگ نہیں، اسے بدنام نہ کیا جائے۔

بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔

خیال رہے کہ آئین میں ختم نبوت کے حلف نامے میں ترمیم کے معاملے پر اسلام آباد اور راولپنڈی کے سنگم فیض آباد انٹرچینج پر تحریک لبیک کی جانب سے 22 روز تک دھرنا دیا گیا۔

مظاہرین کے مطالبے پر وزیر قانون کے استعفے اور حکومت سے معاہدے کے بعد فیض آباد دھرنا ختم کردیا گیا تھا تاہم لاہور میں اب بھی دھرنا جاری ہے۔

Advertisement