Can't connect right now! retry
Advertisement

بلاگ
09 جنوری ، 2018

امریکا سے کیسے نمٹیں؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یکم جنوری کو اپنے ٹوئٹر پیغام میں پاکستان پر شدید تنقید کی—۔فائل فوٹو/ اے ایف پی

ممتاز امریکی پولیٹیکل سائنٹسٹ این بریمز نے ایک بار لکھا تھا، ”سپر پاور وہ ملک ہوتا ہے جس کے پاس اتنی فوجی، سیاسی اور معاشی قوت ہو جس کے ذریعے وہ دنیا کے کسی بھی حصے میں موجود اقوام سے وہ سب کچھ کروا سکے جس کا عام حالات میں تصور بھی نہ کیا جاسکتا ہو“۔ اگر غصے اور شدید طیش کی عینک اتار کے دیکھیں تو امریکا شاید اب بھی ایک عالمی سپر پاور ہے اور ایسا بہت کچھ کرنے کی طاقت رکھتا ہے جس کا این بریمر نے عندیہ دیا ہے۔

یہ تصویر کا ایک انتہائی اہم رخ ہے۔ آج امریکا جیسے اہم معاشی، فوجی اور سیاسی قوت کے حامل ملک کے ہر طرح کے 'ریموٹ کنٹرول' پر جو شخص قابض ہے وہ ڈونلڈ ٹرمپ جیسی کافور صفت شخصیت ہے۔ ایک ایسی شخصیت جس کا صدر بننے سے پہلے عالمی وژن نہ ہونے کے برابر تھا اور جو مخصوص سفارتی اور سیاسی حر حرکیات کا ادراک نہیں رکھتا لیکن بہرحال امریکی صدر ہونے کے ناطے اب دنیا کا طاقتور ترین شخص کہلایا جاتا ہے۔

ٹرمپ ایک بڑ بولے اور کم فہم آدمی کے طور پر مشہور ہے۔ ایسے لوگوں کو بظاہر اپنی عقل پر بڑا ناز اور فیصلوں پر بڑا گھمنڈ ہوتا ہے، لیکن ان کی سب سے خطرناک صفت دنیا پر اپنے گہرے نقوش چھوڑ جانے کی شدید بلکہ بد ترین خواہش ہوتی ہے۔ ایسے لوگوں کے دوست اور دشمن دونوں یہ یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ وہ ”سیف زون“ میں ہیں یا نہیں۔

 اقوام عالم پر ایک طائرانہ نظر ڈالیں تو پاکستان کو فی الوقت امریکا کا دوست ہرگز نہیں گردانا جا سکتا۔ جس طرح کے الزامات کی بوچھاڑ حالیہ دنوں میں امریکا کی جانب سے کی گئی ہے اور جس طرح کے جوابی بیانات ہماری طرف سے جاری کیے جا رہے ہیں، ہوسکتا ہے کہ پاکستان کا شمار کچھ ہی دنوں میں امریکا کے حریفوں میں کیا جانے  لگے ۔ اقوام عالم کی صف بندی میں یہ صورتحال کسی طور پر بھی پاکستان اور خطے کے لیے حوصلہ افزا نہیں کہی جاسکتی۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا موجودہ جارحانہ انداز امریکا کی کسی نہ کسی خاص حکمت عملی کا عکاس ہے؟ ہوسکتا ہے امریکا فوری طور پر دباؤ ڈال کر پاکستان سے کسی خاص طرح کا کام نکلوانے کی کوشش کررہا ہو لیکن ایک لمحے کو پیچھے ہٹ کر سوچیں اور اپنے ارد گرد ممالک پر نظر ڈالیں تو ایسا لگتا ہے کہ ہمارے اطراف ایک نہایت گھنا اور پیچیدہ جال بُنا جارہا ہے اور اگر ہم نے بر وقت اور مکمل سوچ سمجھ کے ساتھ اس پر ردعمل نہ دیا یا اقدام نہ کیے تو ہم اس میں پھنس کر خدانخواستہ بے بس ہوسکتے ہیں۔

ممکنہ ردعمل کے حوالے سے پاکستان کے پاس کیا آپشن ہیں؟ سب سے پہلے تو ایسے قدم اٹھانا جن سے عالمی برادری میں ہمارا بہتر امیج سامنے آسکے یا بحال ہونے کا آغاز ہوسکے۔جماعت الدعوۃ اور حافظ سعید کے خلاف کیے گئے اقدامات شاید اس سلسلے کی ایک کڑی ہوں لیکن اس سے بڑا سوال یہ ہوگا کہ پاکستان پڑوسی ممالک کے ساتھ اعتماد بحال کرنے والے اقدامات کتنی تیزی یا تواتر سے کرتا ہے اور ان اقدامات پر ہمارے پڑوسی ممالک کس حد تک یقین کرتے ہیں۔ 

یقیناً ان اقدامات سے فوری طور پر پاک-امریکا تعلقات پر کوئی فرق نہیں پڑے گا لیکن بہرحال ان سے ہم دنیا کو یہ بتانے کی کوشش کر سکتے ہیں کہ ایک تو ہم اتنے برے نہیں، دوسرے ہم کچھ ایسا کرنے کے لیے تیار ہیں جس سے ہم خوامخواہ کے شک کے دائرے سے باہر آسکیں۔

بن لادن معاملے کے بعد امریکا کی جانب سے پاکستان کے لیے امداد میں شدید کٹوتی اور حکام کے بیانات کے ذریعے احتساب کیے جانے کا معاملہ سامنے آیا تھا۔ ٹرمپ کی سخت زبان نظر انداز کرکے دیکھیں تو اس کی دھمکی میں کوئی بہت زیادہ نیا پن نہیں۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ پہلے ڈھکے چھپے الفاظ میں یا کسی چھوٹے اہلکار کے ذریعے کوئی معنی خیز جملہ سامنے آتا تھا لیکن اس بار ٹرمپ نے بقلم خود ایک بڑی اور شدید بڑھک ماری ہے جس کو پورا کرنے یا جس میں حقیقت کا رنگ بھرنے کے لیے امریکا ضرور کچھ نہ کچھ انتہائی قدم اٹھائے گا (ماہرین اسی خدشے کا اظہار کر رہے ہیں)۔

کیا وہ اقدامات نئی یا سخت پابندیوں کی صورت ہوں گے؟ یا کسی بھی طرح کی پابندیوں کی صورت میں امریکا پاکستان کے ساتھ ہر طرح کی بات چیت کے دروازے بند کرنے کا رسک لے سکے گا؟ یہ بات مشکل ضرور لگتی ہے لیکن نا ممکن نہیں۔ٹرمپ کی صورت میں اس وقت ایک ایسا صدر امریکا میں موجود ہے جو کوئی بھی انتہائی قدم اٹھانے کی کوشش کرسکتا ہے اور اس کے آس پاس موجود سینئر انتظامیہ یا اہلکار اتنے طاقتور نظر نہیں آتے کہ اسے ان اقدامات سے باز رکھ سکیں۔

ٹرمپ کو امریکی صدارت سنبھالے ابھی زیادہ عرصہ نہیں ہوا۔ 4 سال کی مدت، کئی دہائیوں سے قائم سیاسی، معاشی اور فوجی تعلقات کو بگاڑنے کے لیے کافی ہے اور یہ انتہائی خطرناک بات ہے۔

ان تعلقات کی گہرائی میں جا کر دیکھیں تو گذشتہ کئی برسوں سے پاکستان اور امریکا کے مابین ایک خاص طرح کا عدم اعتماد کا رشتہ پایا جاتا ہے۔ پینٹاگون، سی آئی  اے اور سفارتی ذرائع سب پاکستان کے حوالے سے اپنا اپنا ایک خاص موقف رکھتے ہیں اور یہ چیز کسی بھی طور اچھائی میں شمار نہیں کی جاسکتی۔ تو پھر ان معاملات پر ہم امریکا کو کیسا جواب دیں؟ 

پاکستان کی جانب سے اب تک اعلی سیاسی اور فوجی حوالوں سے کوئی حتمی یا جارحانہ بیان سامنے نہیں آیا جو کہ ایک نہایت خوش آئند بات ہے اور جس کی کسی بھی سمجھدار انتظامیہ سے توقع کی جاسکتی ہے۔ ہمارے جو سیاستدان یا ماہر غصے یا شدید ردعمل کی بات کر رہے ہیں، حکومتی جانب سے ان کی کوئی خاص پزیرائی نہ کیا جانا ایک مستحسن عمل ہے اور ایسے افراد کو حکومت کو پریشر گروپس کے طور پر ہی استعمال کرنا چاہیے۔ باقی رہے ہمارے ”مخصوص میڈیا ماہرین“ تو چند ایک کو چھوڑ کرباقی تمام کے موقف کو فی الوقت نظرانداز کرنا ہی بہتر ہے۔

اب تک کی صورتحال سے بظاہر یہ بات سامنے آتی ہے کہ اگر امریکا کی جانب سے کوئی فوجی اقدام یا جارحیت نہ کی گئی تو ہمارے لیے چپ چاپ اپنی صورتحال بہتر بنانا اور اپنے آس پاس کے ممالک کے ساتھ معاملات بہتر بناتے ہوئے امریکا پر اپنا انحصار کم کرنا آسان ہوگا، لیکن امریکا کی جانب سے کسی فوجی اقدام کی صورت میں پاکستان کے پاس آپشن بہت کم ہوجائیں گے۔ٹرمپ کے عہد صدارت تک ہمیں بہرحال کسی بھی صورتحال کے لیے تیار رہنا ہوگا اور بد سے بدتر حالات کی تیاری رکھنا ہوگی۔ 

بین الاقوامی سفارتی دنیا میں جذبات نہیں ہوتے۔ اقوام اور حالات کو اپنے لیے دوست اور موافق بنایا جاتا ہے اور اس کے لیے کبھی کبھار کڑوے گھونٹ بھی لینا پڑتے ہیں۔ اگر پاکستان کو امریکا کی جانب سے کھڑی کی گئی اس مشکل سے نکلنا ہے تو اپنے تمام ذرائع اور چالوں کا جائزہ لینا ہوگا اور ضروری ہوا تو انھیں بدلنے یا کھیل کو دوسرے رخ سے کھیلنے میں بھی کوئی مذائقہ نہیں۔

بہرحال ٹرمپ کی حرکتوں کی وجہ سے امریکا اس وقت ایک خاص طرح کی عالمی تنہائی کا شکار ہے اور اگر پاکستان اپنے پتے اچھی طرح کھیلے تو چین، روس اور خطے کے دیگر ممالک کی مدد سے امریکی جارحیت کو کسی طرح ”نیوٹرالائز “ کرسکتا ہے اور ایسا کامیابی سے کرنے کی صورت میں مستقبل میں بھی پاکستان کو اس بات کا بہت فائدہ ہو سکتا ہے۔ 

آنے والی امریکی حکومت اور صدور، پاکستان پر کسی بھی طرح کا دباؤ ڈالنے سے پہلے ہزار دفعہ سوچنے پر مجبور ہوں گے۔ موجودہ صورتحال میں امریکا کو دشمن بنانا یا اسے اشتعال دلانا کسی بھی طور ہماری پالیسی نہیں ہونی چاہیے لیکن ہمیں اس بات کا بھی خیال رکھنا ہے کہ اس دوران امریکا ہمارے اطراف کوئی خطرناک جال نہ بُن سکے اور اسے ہمارے قریب میں ہمارے دشمن نہ مل سکیں۔


خرم صدیقی کو ٹوئٹر پر فالو کیا جاسکتا ہے، ان کا ٹوئٹر ہینڈل ہے: @siddiqi__


جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Advertisement