Can't connect right now! retry

بلاگ
17 جنوری ، 2020

مصباح نے دو ٹی20سیریز میں 13کھلاڑی تبدیل کر دیے

— فائل فوٹو

پاکستان کرکٹ بورڈ کی سلیکشن پالیسی آخر کیا ہے؟ بطور چیف سلیکٹر اور ہیڈ کوچ بیک وقت ایک ساتھ کام کرنے والے مصباح الحق کیا اپنے کام کے ساتھ انصاف کے تقاضے پورے کر رہے ہیں؟ یہ وہ دو بڑے اور اہم سوالات ہیں، جو ایک بار پھر بنگلادیش کے خلاف تین ٹی 20 میچو ں کے 14 ارکان پر مشتمل اسکواڈ کے اعلان کے بعد سر اٹھا رہے ہیں۔

مصباح الحق سلیکشن کے معاملے میں مکمل طور پر الجھن کا شکار دکھائی دے رہے ہیں اور خلاصہ کر رہا ہے، سلیکشن کے معاملے میں ان کا طرز عمل۔ گزشتہ سال اکتوبر میں سری لنکا کے خلاف لاہور میں تین ٹی 20 میچو ں میں ناکامی کے بعد انہوں نے کپتان سرفراز احمد، محمد نواز، فہیم اشرف،عثمان خان شنواری ،احمد شہزاد اور عمر اکمل کو ٹیم سے ڈراپ کر دیا۔

اب بنگلادیش کے خلاف ٹیم منتخب کرتے ہو ئے، انہوں نے آسڑیلیا میں تین ٹی 20میچوں کے اسکواڈ کا حصہ امام الحق، فخر زمان، محمد عامر، وہاب ریاض، محمد عرفان، آصف علی اور حارث سہیل کے نام بھلا دیے ہیں۔ درست کہ بیشتر کھلاڑی اپنی کارکردگی کی بنیاد پر سلیکشن کے پیمانے پر پورا نہیں اترے، البتہ سوال یہاں یہ اٹھ رہا ہے کہ رواں سال 28 مئی کو اپنی 46 ویں سالگرہ کا کیک کاٹنے والے سابق کپتان مصباح الحق جس تیزی سے سلیکشن کرتے ہوئے کھلاڑیوں کے نام کاٹتے جا رہے ہیں، اس طرح تو ٹیم نہیں بن سکتی۔

تسلسل ٹیم کے انتخاب میں ایک اہم کڑی سمجھی جاتی ہے اور اس معاملے میں مصباح الحق بہت پیچھے دکھائی دے رہے ہیں۔ پھر ڈومیسٹک کرکٹ کو اہمیت دینے کی بورڈ اور چیف سلیکٹرکی باتیں دیوانے کا خواب دکھائی دے رہی ہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو ڈومیسٹک ٹی 20کے بہترین بولر سہیل تنویر یوں منہ دیکھتے نہ رہ جاتے۔ دوسری جانب بنگلادیش پریمیئر لیگ کی کارکردگی پر شعیب ملک اور بگ بیش کی پرفارمنس پر حارث رؤف کو منتخب کرکے پاکستان کرکٹ کی ڈومیسٹک کر کٹ کو حقیر ثابت کرنے کی کیا کوشش نہیں کی جا رہی  جس پر چیئرمین پی سی بی احسان مانی اور چیف ایگزیکٹو وسیم خان اربوں روپے پھونک چکے ہیں۔

بطور چیف سلیکٹر مصباح الحق کے اپنی نام نہاد سلیکشن کمیٹی اور بظاہر مسلط کیے گئے کوآرڈینیٹر ندیم خان کی موجودگی میں سلیکشن کے طریقہ کار اور کھلاڑیوں کے انتخاب کو دیکھ کر یہ لکھنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کر رہا کہ سلیکشن نے شفافیت کے تقاضے پو رے نہیں کیے۔ 

اگر ایسا ہوتا، تو اوپنر احسن علی ڈومیسٹک ٹی20 میں 26.20 کی اوسط سے 5 میچو ں میں 131رنز بنا کر ٹیم میں یوں منتخب نہ ہو جاتے اور احمد شہزاد 4 میچوں میں ایک سینچری اور ایک نصف سنچری کے ساتھ 181رنز بنانے پر یوں نظر انداز نہ ہو تے۔ پھر پرتھ میں گزشتہ سال 8 نومبر کو آسڑیلیا کے خلاف ٹی 20ڈیبیو کرنے والے خوشدل شاہ ضرور اچھے مڈل آرڈر بیٹس مین ہیں اور  ون ڈے کرکٹ کی ڈومیسٹک سطح پر 24 سال کا بائیں ہاتھ کا بیٹسمین 8سنچریاں بنا چکے ہیں مگر ٹی 20کرکٹ میں پانچویں نمبر پر کھیلنے والے خوشدل کا 119کا اسڑائیک ریٹ اس کی سلیکشن پر سوال اٹھا رہا ہے، کیوں کہ اس نمبر پر اس سے زیادہ بہتر کھلاڑی موجود ہیں۔

اس بات کی صداقت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ خوشدل شاہ جو اس مرتبہ پاکستان سپر لیگ میں ملتان سلطان کے اسکواڈ کا حصہ ہیں اور پہلی بار منتخب ہو ئے ہیں۔ مصباح الحق کے آنے کے بعد قومی ٹیم 6 ٹی20مقابلوں میں سے 5 ہار چکی ہے اور اس فارمیٹ میں پہلی کامیابی کی منتظر ہے۔  آئی سی سی ٹی 20رینکنگ میں پہلے نمبر پر براجمان ٹیم پاکستان کی پہلی پوزیشن اس وقت شدید خطرے میں ہےاور مصباح الحق اگر اسی انداز میں فیصلے کرتے رہے تو ٹیم کا مستقبل آنے والے دنوں میں شدید خطرات سے دوچار دکھائی دے رہا ہے۔


جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM