Can't connect right now! retry

بلاگ
26 جون ، 2020

عثمان بزدار اب پہلے والے نہیں

فوٹو: فائل

بے شک انہوں نے دو سال میں گھاٹ گھاٹ کا پانی پی لیا ہے۔ ایک ہی زخم میں تنقید کے خنجر بار بار لگتے رہے مگر انہوں نے اُف تک نہیں کی۔ بس اپنے کام میں مگن رہے اور اب تو وہ جومخالف ہوا کرتے تھے، مراسم استوار کرنا چاہتے ہیں۔ اب وہی کہتے ہیں۔ ’’بردباری اور دانشمندی عثمان بزدارکو اپنے والد سردار فتح محمد خان سے ورثے میں ملی ہے۔ 

ہمیں ان کی لیڈرشپ پر مکمل اعتماد ہے۔ انہوں نے سچ مچ سب کو ساتھ لے کر چلنے کا فن سیکھا ہے‘‘۔ ویسے شروع شروع میں ان کا جو رویہ تھا اس پر اب غور کرتا ہوں تو احمد ندیم قاسمی کا یہ شعر یاد آجاتا ہے

اس کے اندر کوئی فنکار چھپا بیٹھا ہے

جانتے بوجھتے جس شخص نے دھوکا کھایا

کیسی عجیب بات ہے کہ آج بیورو کریسی کی تتلی بھی ان کی مٹھی میں ہے اور ’’پولیٹکل کریسی‘‘ (سیاسی حرارکی) کی جان جس طوطے میں ہے وہ بھی ان کے کاندھے پر بیٹھا ہوا ہے۔ انہوں نے دونوں محاذوں پر بھرپور انداز میں پرفارمنس دکھائی ہے۔ اتحادیوں کو بھی اپنی انگلی سے لپیٹ لیا ہے اور تحریک انصاف میں نئے آنے والے کو بھی اپنے حصار میں رکھا ہے۔ رفتہ رفتہ اپنے اندر حسن و خوبی کے سارے استعارے جمع کر لئے ہیں۔

جنوبی پنجاب، خاص طور پر ڈی جی خان یا راجن پور وغیرہ اس دھرتی کے ایسے اضلاع ہیں جہاں مختلف قبیلوں کے سردار سندھی وڈیروں جیسے نہیں ہوتے۔ وہ سردار ہونے کے ساتھ قبیلے کا ایک عام فرد بھی ہوتے ہیں۔ 

اپنے لوگوں کے ساتھ برابری کا سلوک کرتے ہیں اور مشکلات میں ان کی مسیحائی کی بھی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے مرحوم والد سردار فتح محمد خان بزدار کی مثال سامنے ہے۔ ان کے علاقے میں نہ صرف کرائم ریٹ زیرو تھا اور ہے بلکہ تعلیم کا نظام اور معیار بھی پنجاب کے کئی ترقی یافتہ شہروں سے بہتر تھا۔ 

سردار کے لئے ضروری نہیں ہوتا کہ اسے اپنے قبیلے کی تقدیر بدلنے کیلئے وزیراعلیٰ بننا پڑے۔ وہ ویسے ہی اپنے قبیلے کا وزیراعلیٰ ہوتا ہے۔ پانچوں انگلیاں ایک جیسی نہیں ہوتیں۔ کئی سردار اپنے قبیلے کے لوگوں کو اپنا محتاج رکھنے کے لئے، ان پراپنا اثر و رسوخ قائم رکھنے کیلئے، اپنےعلاقہ کو خود پسماندہ رکھتے ہیں۔ نواب امیر محمد خان نواب آف کالا باغ جو پورے مغربی پاکستان کے گورنر تھے، کی مثال بھی آپ کے سامنے ہے۔ 

میں سردار ریاض محمود خان مزاری کی قومی اسمبلی کے اجلاس میں کی گئی شکوئوں بھری تقریر کی مثال ضرور دوں گا۔ اس کی تقریر مجھے نالائق طالب علم کے اس رزلٹ کارڈ جیسی لگی، جس نے اپنا امتحانی نتیجہ اپنے گھر والوں سے چھپا کے رکھا اور جب گھر والوں کو رزلٹ کا معلوم ہوا تو طالبعلم نے سارا الزام اپنے استاد پر لگا دیا کہ میں اس لئے فیل ہوگیا ہوں کہ استاد کو پڑھانا ہی نہیں آتا تھا۔

ایک شکوہ ان کا یہ بھی تھا کہ راجن پور کے عوام کو کورونا ٹیسٹ کروانے کیلئے سکھر یا ملتان جانا پڑتا ہے، حالانکہ پنجاب کے تمام اضلاع میں کورونا ٹیسٹ کیلئے سیمپل لینے کی سہولت موجود ہے اور اگر ان کو پھر بھی شہر سے باہر جانے کی حاجت ہو تو ملتان یا سکھر جانے کی بجائے بہاولپور یا ڈی جی خان میں قائم لیبز سے بھی ٹیسٹ کروایا جا سکتا ہے، جو قدرے نزدیک ہیں۔

جہاں تمام اضلاع کی مساوی تعمیر و ترقی کیلئے حکومت عوامی نمائندوں کو فنڈز دے رہی ہے وہاں سوشل اور ڈویلپمنٹ سیکٹر کے متعدد منصوبوں پر اربوں روپے پچھلے دو برس میں لگائے جا چکے ہیں۔ 

اگر کسی کو لگتا ہے کہ اس کی حالت ابھی بھی نہیں بدل رہی تو یا وہ جھوٹ بول رہا ہے یا شاید اس تبدیلی میں اصل رکاوٹ طالبعلم خود ہے اور اس ناکامی کی وجہ طالبعلم کا نکما ہونا بھی ہو سکتی ہے۔ ایسے کچھ طالبعلم اور بھی ہیں جو اپنی کوتاہیوں کو حکومت کی خامیاں بیان کرتے ہیں۔ 

جیسے کہ قومی اسمبلی کے رکن راجہ ریاض اور خواجہ شیراز محمود۔ ان دونوں کا شکوہ کچھ یوں ہے کہ کورونا سے معاشی طور پر متاثر لوگوں کیلئے بنائے جانے والے احساس سینٹرز پر وزٹ کرنے کے دعوت نامے ان سیاستدانوں کو موصول نہیں ہوئے۔ شکوہ مناسب سمجھا جاتا اگر یہ دعوت ولیمہ ہوتی یا کوئی تہوار۔

یہ ایک قومی ذمہ داری تھی۔ تمام پارلیمنٹیرینز کو احکامات جاری کئے گئے تھے کہ وہ اپنے علاقوں میں قائم احساس سینٹرز کا دورہ کریں اور وہاں سسٹم کو چیک کرنے کے ساتھ ساتھ ایس او پیز پر عملدرآمد بھی یقینی بنائیں۔ جن نمائندوں کو ذمہ داری کا احساس تھا انہوں نے انتظامیہ کے ساتھ مل کر بھر پور کام کیا مگر جیسے شادی کی تقریب میں کچھ مہمان ریفریشمنٹ سے لطف اندوز ہونے کے باوجود کھانوں میں نمک کی کمی کی شکایت کرتے رہتے ہیں، ان کے لئے میزبان کے پاس مسکراہٹ سے زیادہ کچھ اور دے کر رخصت کرنا ممکن نہیں۔ 

مسکراہٹ سے یاد آئے وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری۔ میرا ان کے ساتھ ایک محبت کا تعلق ہے مگر میں ابھی تک عمران خان کے ساتھ ہوں۔ ان سے عرض ہے کہ اگر وہ پارٹی سے مطمئن نہیں، پارٹی چھوڑ کیوں نہیں دیتے، اگر نظام اتنا برا چل رہا ہے تو اس سب برائی کا حصہ بننے سے دستبردار کیوں نہیں ہو جاتے؟ ان کا رویہ اپنی سمجھ میں نہیں آرہا۔


جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM