Time 27 اکتوبر ، 2022
بلاگ

ہمارے تعصبات اور اپنا اپنا ’’قاتل‘‘

اینکر ارشد شریف مرحوم ایک بڑے ہی افسوس ناک سانحہ کا شکار ہو گئے۔اللہ تعالی اُن کی مغفرت فرمائے، آمین۔ اُنہیں کینیا میں پولیس نے بڑی بے دردی سے قتل کر دیا جبکہ اُن کا نہ کوئی جرم تھا نہ قصور۔ 

کینیا کی پولیس کی ابتدائی انکوائری کے مطابق ارشد شریف کی گاڑی کو، جس میں وہ سوار تھے، کسی چوری شدہ گاڑی کے لیے لگائے گئے ناکے پر نہ رُکنے کی وجہ سے غلط فہمی کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا اور فائر کی گئی گولیوں میں سے ایک گولی ارشد شریف کے سر پر لگی جس سے وہ جاں بحق ہو گئے۔ 

ارشد شریف کے سانحہ نے سب کو افسردہ کر دیا۔ ابھی کینیا کی پولیس نے اس واقعہ کی مکمل تحقیقات کرنی ہیں جبکہ پاکستان نے بھی اپنی ایک انکوائری ٹیم کینیا بھیج دی ہے۔ انکوائری کمیشن بنانے کا بھی حکومت نے اعلان کر دیا ہے۔ بہت سے سوال ہیں جن کا جواب مانگا جا رہا ہے۔یہ واقعہ کیسے پیش آیا؟ مقتول صحافی کن حالات میں پاکستان سے گئے؟ کس نے باہر جانے پر مجبور کیا؟ وہ بیرونِ ملک کہاں کہاں اور کس کے پاس رہے؟ کس کے مشورے پر اور کیوں کینیا گئے؟ وہاں کس کے پاس ٹھہرے؟ اُن کا ڈرائیور جو اُن کے ساتھ سانحہ کے وقت موجود تھا، وہ کہاں ہے؟

 اُس کا بیان ابھی تک سامنے کیوں نہیں آیا؟ وہ اُنہیں کیوں سانحہ والی جگہ پر لے کر گیا؟ کیا یہ ایک غلطی کے نتیجے میں رونما ہونے والا سانحہ تھا یا کوئی سازش اور سوچا سمجھامنصوبہ ؟ کیا اس سازش کا پاکستان سے کوئی تعلق ہے؟ کیا کوئی سیاسی جماعت یا کوئی ادارہ اس مبینہ سازش کے پیچھے ہے؟ ان سوالوں کا جواب معلوم کرنا ہماری حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن جس بات کا مجھے بے انتہا افسوس ہے وہ یہ کہ اس سانحہ کے بعد سامنے آنے وا لے سوالوں کے جواب ملنے سے پہلے ہی سب نے اپنے اپنے نتیجے نکالنا شروع کر دیے ہیں۔

اگر کسی نے شریف فیملی پر الزام تراشی شروع کر دی تو عمران خان پر بھی سوالات اُٹھائے جا رہے ہیں، جو میری نظر میں ہمارے معاشرے میں اُس نفرت کی سیاست کا نتیجہ ہے جس نے ہماری سیاست، معاشرے اور ملک کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ سب سے زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ ایک طبقے نے تو سیدھا سیدھا پاکستان کے اداروں پر انگلیاں اُٹھانا شروع کر دیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ عمران خان جیسے بڑے سیاستدان، جن کے کروڑوں ووٹرز اور سپورٹرز ہیں، نے تو سیدھا سیدھا کہہ دیا کہ ارشد شریف کی اُنہوں نے ٹارگٹ کلنگ کی جو اُن کو پاکستان میں نامعلوم فون کر کے دھمکاتے تھے، جنہوں نے موجودہ حکمرانوں کو،جن کو وہ چور ڈاکو کہتے ہیں، قوم پر مسلط کیا۔

 عمران خان نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ اُن کو یہ اطلاعات ملی تھیں کہ ارشد شریف کو قتل کرنے کا پروگرام بنا لیا گیا تھا اور اور اسی لیے اُنہوں نے صحافی کو فوری طور پر پاکستان چھوڑ کر ملک سے باہر جانے کا کہا گیا ۔ خان ، اُن کی پارٹی اور سوشل میڈیا تو ریاستی اداروں کی طرف ہی اشارے کر رہے ہیں۔یوں لگتاہے کہ اُنہوں نے فوری فیصلہ کر لیا ہےکہ ارشد شریف کا قاتل کون ہے؟ اگر کسی کو شک ہے کہ پاکستان میں بیٹھ کر کسی نے صحافی کو کینیا میں قتل کروادیا تو ایسے میں اُٹھنے والے سوالوں کے جواب اور ٹھوس شواہد کے بغیر کیسے کوئی نتیجہ اخذ کر سکتا ہے کہ اس جرم میں کوئی ریاستی ادارہ ملوث ہے؟

سوشل میڈیا پر غیر ذمہ دارانہ باتیں تو ہوتی ہی ہیں اور بے بنیاد الزامات بھی لگائے جاتے ہیں لیکن ایسے معاملے میں سوشل میڈیا کو دیکھ کر اگر ہمارے سیاسی رہنما اور صحافیوں کا ایک طبقہ اپنے ہی اداروں کے متعلق یہ ذہن بنا کر بیٹھ جائے کہ وہی ذمہ دار ہیں تو یہ بہت ہی نامناسب بات ہے۔ جس ریاستی ادارے کی ہم بات کر رہے اُس کی سیاست میں مداخلت پر ہمیں اعتراض ہے ، یہ بھی درست ہے کہ ایجنسیاں صحافیوں کے ساتھ زیادتیاں کرتی رہیں اور میڈیا پر بھی اثر انداز ہوتی ہیں لیکن اگر بغیر کسی ثبوت کے ہم اپنے ہی ملک کے ایک ایسے ادارے پر سنگین الزامات لگائیں گے جو پاکستان کے دفاع، اس کی سالمیت اور ہمارے جوہری پروگرام کا ضامن ہے اور جس نے دہشت گردی کے خلاف ہزاروں قربانیاں دے کر جنگ لڑی اور آج بھی یہ قربانیاں دی جا رہی ہیں تاکہ عوام محفوظ رہیں، تو پھر عوام اور اس ادارے کے درمیان مضبوط رشتہ کیسے قائم رہے گا۔

 جو لوگ بغیر ثبوت کے اپنے ریاستی ادارے کے متعلق یہ فیصلہ کر چکے کہ یہ جرم اُنہی نے کیا ہے وہ اپنے اپنے سیاسی اور ذاتی تعصبات میں اندھے ہو چکے ہیں، انہیں پاکستان کی خاطر اپنے طرزِعمل پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ ہاں اگر کسی کے پاس کوئی ثبوت ہے تو وہ سامنے لائے لیکن اپنے اپنے ذاتی اور سیاسی مفادات یا تعصبات کی وجہ سے ایسی کوئی غیرذمہ دارانہ حرکت نہ کریں کہ پاکستان کو ہی کمزور کردیں۔

(کالم نگار کے نام کے ساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں 00923004647998)


جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔