اپنے بچوں کو تباہی سے بچائیں

لاہور کے ایک انگریزی میڈیم اسکول کی چند طالبات کی طرف سے اپنی ہی ایک کلاس فیلو لڑکی پر تشدد کی ویڈیو نے ہمارے تعلیمی اداروں کی اُس تلخ حقیقت کو ہمارے سامنے کھول کر رکھ دیاجس کا ہم سب کو علم ہے لیکن ہم اُس سے کچھ اس طرح نظریں چراتے ہیں کہ جیسے کوئی مسئلہ ہے ہی نہیں۔ تشدد کرنے والی لڑکیوں کی زبان کی گندگی دیکھیں یا اُن پر منشیات کے استعمال کا الزام ،جو اس واقعے کا سبب بنا ۔

یہ اُس گلے سڑے تعلیمی نظام کی خرابیوں کی چند نشانیاں ہیں جو ہماری نسلوں کو بربادی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔ ہمارے اکثر انگریزی میڈیم اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کا بچوں کو ماڈرن (مغرب زدہ) بنانے اور ماڈرن دکھانے پر سارا زور ہے جبکہ تربیت اور کردار سازی کی کوئی اہمیت ہی نہیں رہی۔یعنی سارا زور انگریزی بولنے پر ہے، لباس اورچال ڈھال بھی ایسی اپنائی جاتی ہے کہ ماڈرن نظر آئیں، لڑکے لڑکیوں میں دوستیوں کے ماحول کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔جب یہ نوجوان ایسا میل جول رکھیں گے اور مغربی انداز ِزندگی اپنائیں گے تو نشہ بھی زندگی کا حصہ بنے گا جو نہ صرف ہمارے لاکھوں نوجوانوں کی زندگیاں تباہ کرنے کا سبب بن رہا ہے بلکہ اور کئی معاشرتی خرابیوں کی بنیادبھی بن رہاہے۔

 سرکاری رپورٹس کے مطابق اسلام آباد جیسے علاقے کے اسکولوں کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بڑی تعداد میں بچے نشہ کرتے ہیں اور ان میں لڑکیوں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے۔ دوسرے شہروں اور علاقوں میں اور بھی بُرا حال ہے۔ مردوں عورتوں کی جب دوستیاں ہوتی ہیں تو پھر ماڈرن دِکھنے کیلئے پارٹیاں بھی کی جاتی ہیں اور ان پارٹیوں میں نشہ تو فیشن کے طور پر لازمی سمجھا جاتا ہے ۔ گویا آج لاکھوں روپے خرچ کر کے بچوں کو بہتر تعلیم کیلئے اسکولوں ،کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بھیجنے والے والدین کو اس بات کا علم نہیں ہوتا کہ اُن کے بچے کس رنگ میں رنگے جا رہے ہیں۔ اکثر لڑکوں اور لڑکیوں کو سگریٹ اور نشے کی لت انہی تعلیمی اداروں سے لگتی ہے جہاں اُن کو دراصل تعلیم کے حصول اور ایک بہت اچھا اور بہتر انسان بننے کیلئے بھیجا جاتا ہے۔

 ہالی وڈ اوربالی وڈ کی بے حیائی سے متاثر کئی تعلیمی اداروں کا ماحول بچوں میں بگاڑ اور بے حیائی کا سبب بن رہا ہے جس کےانتہائی سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ہمارے تعلیمی نظام کا المیہ ہی یہ ہے کہ اس کا سارا زور انگریزی بولنے، زیادہ سے زیادہ نمبر لینے اور مغرب زدہ نظر آنے پر ہے۔ والدین بھی اس بات پر خوش ہوتے ہیں کہ اُن کے بچے فر فر انگریزی بولتے ہیں اور اس خوشی میں وہ اُن خرابیوں کو نظر انداز کرتے رہتے ہیں جو آگے چل کر بڑی برائیوں کا سبب بنتی ہیں۔ ریاست بھی اپنی ذمہ داری سے عاری دکھائی دیتی ہے، اسے نہ تعلیمی اداروں کو نشے سے پاک کرنے کی فکر ہے نہ ہی اُس کے پاس معاشرے کو اس مغربی ثقافت کی یلغار سے بچانے کی کوئی تدبیر ، جو ہمارے معاشرتی بگاڑ کا بڑا ذریعہ بن رہا ہے۔

والدین ہوں، تعلیمی ادارے یا ریاست، سب کو قوم کی نئی نسل کی تربیت اور کردار سازی کی فکر کرنی چاہئے، بغیر تربیت کے تعلیم کسی کام کی نہیں بلکہ اگر کوئی بے ایمان ہو، بدکردار ہو، نشئی ہو، بدتمیز ہو تو محض تعلیم کے بل بوتے پر جتنا اوپر جائے گا اُتنا ہی ملک ، قوم اور معاشرےکیلئے خطرناک ہو گا۔

لاہورکے واقعے میں ملوث لڑکیاں اس معاشرےکی بچیاں ہیں۔ اُن کو اس ماحول میں ہم نے بحیثیت والدین، بحیثیت استاد،بحیثیت معاشرہ اور ریاست دھکیلا ہے ، اس واقعے کو کسی دوسرے کا یا چند افراد کا معاملہ سمجھ کر فراموش یا صرفِ نظر مت کریں۔ سب فکر کریں کہ ہمارے بچے بچیوں کو تعلیمی اداروں میں کیسا ماحول مل رہا ہے۔ ہمیں کیا معلوم ہم میں سے کتنوں کے بچوں بچیوں کو نشے کی لت لگ چکی ہو، کتنے غلط دوستیوں کی وجہ سے برائی کے رستے پر چل رہے ہوں ! اپنے بچوں کو بچانےکیلئے، اپنی نسلوں کے مستقبل کیلئے آپ کی جو بھی حیثیت ہے ،تعلیم کے ساتھ تربیت اور کردار سازی کو لازم حصہ بنانے کیلئے جدوجہد کریں۔ 

گھر میں بھی اور تعلیمی اداروں میں بھی بچوں کو حلال حرام کی تمیز سکھائیں، اُنہیں اپنی دینی اور معاشرتی اقدارپر فخر کرنے اور اپنانے کا کہیں، شرم و حیا اور دوسروں کا احترام کرنے کی تعلیم دیں، ایمانداری اورسچ بولنے پر زور دیں۔ اپنے اور اپنی قوم کے بچوں پر نظر رکھیں، اُن کی دوستیوں اور گھر اور گھر سے باہر کے ماحول پر نظر رکھیں۔ اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو پچھتاوا سب کیلئے ہوگا۔


جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔