’’میں اپنی ماں کا بہت لاڈلا ہوں‘‘

’’میں اپنی ماں کا بہت لاڈلا ہوں اگر مجھے کچھ ہوگیا تو میری ماں کا کیا ہو گا؟‘‘ پشاور پولیس لائنز مسجد میں دہشت گردی کا شکار بننے والے ایک شہید کانسٹیبل کا دم توڑنے سے قبل سوال۔ اس دہشت گردی کے واقعہ کے متعلق بی بی سی اردو کی ایک روز قبل شائع ہونے والی ایک خبر کو پڑھ کر دل دہل گیا۔

 خبر کے مطابق وقوعہ سے ایمبولینس کے ذریعے زخمیوں کو ہسپتال منتقل کرنے والے ریسیکو 1122 کے ایک کارکن نے بتایا کہ زخمیوں کی حالت انتہائی نازک تھی، دو زخمی افراد نے ان کے سامنے ایمبولینس ہی میں دم توڑ دیا۔ انھوں نے بتایا کہ’’ایک زخمی جوان بہت حوصلے میں تھا۔ اس کے سر پر چوٹ لگی تھی۔ چوٹ والی جگہ پر کسی نے کوئی کپڑا باندھ دیا تھا مگر اس کے جسم کے دیگر حصوں سے بھی خون بہہ رہا تھا۔ میں نے خون روکنے کی کوشش شروع کی تو اس دوران وہ جوان زخموں سے کراہنے کے باوجود جرات کا مظاہرہ کر رہا تھا۔

‘‘ اہلکار کا کہنا تھا کہ ’’اس دوران میں نے اس کا حوصلہ بلند رکھنے کیلئے بات شروع کی تو اس نے بتایا کہ وہ مسجد کے آخر میں ایک کونے میں نماز ادا کررہا تھا۔ ایک دم دھماکا ہوا اور وہ نیچے گر پڑا۔‘‘اس نے مجھ سے پوچھا ’’جسم کے مختلف حصوں میں درد ہورہا ہے کیا میں بچ پاؤں گا؟‘‘ پھر اُس نے کہا ،’’ اور تو کوئی غم نہیں بس میں اپنی ماں کا بہت لاڈلا ہوں اگر مجھے کچھ ہوگیا تو پتا نہیں میری ماں کا کیا ہوگا۔‘‘ ریسکیو اہلکار کے مطابق ابھی وہ اس پولیس اہلکار کو لے کر ہسپتال کے گیٹ پر بھی نہیں پہنچے تھے کہ اس اہلکار نے دم توڑ دیا۔ نجانے اس شہید کی ماں کی کیا حالت ہوگی۔ پتا نہیں اس حادثہ میں شہید ہونے والے ایک سو سے زیادہ پولیس اہلکاروں اور دوسرے افراد کے بچوں، ماں باپ اور بیوہ ہونے والی خواتین پر کیا گزر رہی ہو گی۔

خبر کے مطابق الخدمت فاؤنڈیشن سے تعلق رکھنے والے ضیا الدین دہشت گرد حملے کی اطلاع ملنے کے چند منٹ بعد ہی لیڈی ریڈنگ ہسپتال پہنچ گئے تھے۔اُنہوں نے بتایا جس وقت میں ہسپتال پہنچا اس وقت تک ایک یا دو ایمبولینس گاڑیاں ہی ہسپتال پہنچی تھیں۔ مگر تھوڑی ہی دیر بعد ایمبولینس گاڑیوں کی لائن لگ گئی۔ زخمی دھڑا دھڑ ہسپتال لائے جا رہے تھے۔ زخمیوں کو ہسپتال کا عملہ اور رضا کار دیکھ رہے تھے جبکہ لاشوں کو ہم لوگ مردہ خانےمیں منتقل کر رہے تھے۔ضیا الدین کہتے ہیں کہ اس وقت ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کی بڑی تعداد بھی ہسپتال پہنچنا شروع ہو گئی تھی۔

ضیا الدین نے بتایا کہ اس دھماکے میں ہلاک ہونے والے ایک پولیس اہلکار جن کا تعلق ہنگو سے تھا کے تین کم عمر بچے موقع پر پہنچ چکے تھے۔وہ بچے بار بار کہہ رہے تھے کہ’’ اب ہمارا ،بابا کے بغیر کیا ہو گا، ہمیں بابا کیوں چھوڑ کر چلے گئے ہیں؟‘‘ریسیکو 1122 کے ایک اور اہلکار نے بھی جائے وقوع کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ’ ’کم از کم چار، پانچ زخمیوں نے میرے سامنے دم توڑا۔ جب میں نے ایک زخمی کو اٹھانا چاہا تو اس نے میرے ہاتھوں میں دم توڑ دیا۔ دوسرے کی طرف گیا تو وہ بھی دم توڑ چکا تھا۔ ساتھ والے کو دیکھا تو وہ بھی زندہ نہیں تھا۔ مجھے لگتا ہے کہ شروع کی صفوں میں شاید کوئی زندہ نہیں بچا ۔

‘‘الخدمت فاؤنڈیشن پشاور کے ایک اہلکار کے مطابق جب وہ جائے وقوعہ پر پہنچے انھوں نے ایک شخص کو ملبے تلے دبے دیکھا۔ اس پر شاید عمارت کا کوئی ستون گرا تھا۔ اس کی وجہ سے وہ بہت تکلیف میں تھا۔ وہ بار بار چیخ کر کہہ رہا تھا کہ پاؤں کاٹ دو مگر مجھے باہر نکالو۔ان کا کہنا تھا کہ اس موقع پر تمام ریسکیو اہلکار بہت محتاط تھے کیوں کہ اس شخص کو زیادہ نقصان نہیں پہنچا تھا اور اس کا صرف پاؤں ملبے تلے دبا ہوا تھا۔ تھوڑی سے بھی بے احتیاطی اس کے لئے نقصان دہ ہوسکتی تھی۔ اس لئے ریسکیو اہلکار ملبے کو بہت احتیاط سے ہٹا رہے تھے۔

ضیا الدین کا کہنا تھا کہ امدادی کارکنوں نے کچھ دیر کی کوشش کے بعد اسے نکال لیا تھا۔ جب اسے نکالا گیا تو پاؤں پر چوٹ تو تھی مگر اسے زیادہ نقصان نہیں پہنچا تھا تاہم وہ کافی دیر ملبے تلے دبے رہنے کی وجہ سے وہ نڈھال ہو گیا تھا ۔دو دن قبل جو کچھ پشاور میں ہوا وہ بہت بڑا ظلم ہے ، جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔

 دہشت گردی کا نشانہ بننے والوں میں بہت بڑی تعدار پولیس اہلکاروں اور افسروں کی تھی۔قوم کی طرف سے پولیس کےان شہیدوں کو سلام جنہوں نے افواج پاکستان، ایجنسیوں اور دوسرے سیکورٹی اداروں کے ساتھ مل کر ہزاروں افسروں اور اہلکاروں کی قربانیاں دے کر عوام کی جان و مال کا تحفظ کیا۔ پاکستان دہشت گردی سے بڑی حد تک پاک ہو چکا تھا لیکن افسوس کہ گزشتہ کئی مہینوں سے دہشت گردی ایک بار پھر پاکستان میں سر اُٹھا رہی ہے اور پشاور میں دہشت گردی کا یہ واقعہ اس دوران سب سے بڑا قومی سانحہ ہے۔ امید ہے کہ ہمارے حکمراں، سیاستدان اور ادارے پاکستان اور عوام کی خاطر ایک بار پھر مل کراس سر اُٹھاتی دہشت گردی کو کچلنے کے لئےیکجا ہو جائیں گے۔


جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔