آفس کے میٹنگ روم میں بچا ہوا سینڈوچ کھانے پر خاتون کو نوکری سے نکال دیا گیا

ایکواڈور سے تعلق رکھنے والی خاتون گیبریلا روڈریگز نے اس کمپنی میں دو سال تک کام کیا اور اب وہ کمپنی کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں—فوٹو: غیر ملکی میڈیا
ایکواڈور سے تعلق رکھنے والی خاتون گیبریلا روڈریگز نے اس کمپنی میں دو سال تک کام کیا اور اب وہ کمپنی کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں—فوٹو: غیر ملکی میڈیا

برطانیہ میں لندن کی ایک معروف قانونی فرم نے صفائی کرنے والی ملازمہ کو بچا ہوا سینڈوچ کھانے پر نوکری سے ہی فارغ کر دیا۔

ایکواڈور سے تعلق رکھنے والی خاتون گیبریلا روڈریگز نے اس کمپنی میں دو سال تک کام کیا اور اب وہ کمپنی کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

یونائیٹڈ وائس آف ورلڈ یونین تنظیم جو تارکین وطن مزدوروں کے حقوق کی نمائندگی کرتی ہے، انہوں نے بتایا کہ خاتون کو گزشتہ سال کرسمس سے چند روز قبل اس وقت نوکری سے نکال دیا گیا تھا جب ٹھیکیدار کو بچا ہوا سینڈوچ واپس نہ کیے جانے کی شکایت موصول ہوئی تھی۔

گیبریلا نے 1.50 یورو ( 455 پاکستانی روپے) مالیت کا ٹونا مچھلی کا سینڈوچ یہ سوچ کر کھایا تھا کہ شاید اسے وکلا کی میٹنگ کے بعد پھینک دیا جائے گا۔

یونین کا دعویٰ ہے کہ محترمہ روڈریگز کی برطرفی کی درخواست امتیازی کارروائی تھی، کیونکہ اگر وہ لاطینی امریکی نہ ہوتیں جنہیں ٹھیک سے انگریزی بھی نہیں آتی تو کمپنی انہیں نہ نکالتی۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق خاتون کی برطرفی کے خلاف احتجاج کرنے اور اس کی بحالی کے لیے یونین کے کئی کارکن 14 فروری کو لا فرم کے دفتر کے باہر 'ٹونا مچھلی کے 100 کین، 300 ہاتھ سے لپٹے ہوئے سینڈوچ، کئی  غبارے، اور روڈریگز کے لیے محبت کے خطوط' کے ساتھ جمع ہوئے۔

اس حوالے سے گیبریلا روڈریگز  نے  اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ عملے کو آفس کا بچا ہوا کھانا کھانے کی اجازت ہے، اس دن میری شفٹ ختم ہو رہی تھی، میں نے بچا ہوا سینڈوچ دیکھا تو اٹھا لیا، اس واقعے کے ایک ہفتے بعد مجھے بلایا گیا اور نوکری سے نکال دیا گیا۔