04 اپریل ، 2025
خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے ایک بار پھر وفاق کو دھمکی دی ہے کہ اگر اس مہینے میں این ایف سی میں طے شدہ چیزیں نہ ملیں تو خیبر پختونخوا کے عوام، پولیس اور سرکاری افسران سمیت سب کو لے کر نکلیں گے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے علی امین گنڈاپور کا کہنا تھاکہ اس وقت جو ملک میں دہشتگردی کے واقعات ہیں اس کا حل ہمارے پاس ہے، ہماری حکومت میں دہشتگردی ختم ہوئی اورپھرحکومت ختم کردی گئی جس طرح بانی پی ٹی آئی کی حکومت ہٹائی گئی ہمیں اس پر تحفظات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کہا گیا ہے جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ نے ہماری حکومت گرائی، اس کے بعد ساری توجہ پاکستان تحریک انصاف پر کریک ڈاؤن پرہوئی، جب ان علاقوں کا پتہ نہ ہوکہ بارڈرکیسا ہے تو کیسے جنگ لڑی جاسکتی ہے؟ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم نے اپنے شہریوں کو تحفظ دینا ہے۔
ان کا کہنا تھاکہ جہاں دہشتگردوں کی موجودگی کی اطلاع ہوتی ہے وہاں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن ہوتے رہتے ہیں، ہم اپنے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہیں، اپنی کپیسٹی بلڈنگ کررہے ہیں، ہم نے ورکنگ شروع کی ہوئی ہے، اس کے بڑے اچھے نتائج آرہے ہیں، کرک میں حملہ ہوا تو عوام نکلے کہ اپنی فورسز کے ساتھ کھڑے ہیں، عوام اپنی فورسز کے ساتھ کھڑے بھی ہوں گے اور دہشتگردی کا خاتمہ بھی کریں گے۔
علی امین گنڈاپور کا کہنا تھاکہ اپیل کررہا ہوں کہ جس بات چیت پر آپ نے آمادگی کی ہے اس پر عمل کریں، جب تک افغانستان میں امن نہیں ہوگا تب تک پورے ریجن میں امن نہیں ہوگا، آپ یہ نہیں دیکھ رہے کہ ہمارے لوگوں نے ہتھیار کیوں اٹھائے؟ اس جنگ کو جیتنے کیلئے آپ کو پہلے لوگوں کے دل جیتنے پڑیں گے۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے ہمیں کہا افغانستان سےبات چیت کےلیے ٹی اوآرزبنائیں، 2 سے 3 مہینے ٹی اوآرز دیے ہوئے ہیں لیکن ہمیں جواب نہیں ملا، وفاقی حکومت نے دہشتگردی پر کوئی جواب نہیں دیا نہ سنجیدہ ہے، وفاقی حکومت نے جس بات چیت کا وعدہ کیا اس پرعمل کیا جائے، افغانستان سے صرف مذاکرات سے ہی آگے بڑھا جاسکتا ہے۔
افغان مہاجرین سے متعلق علی امین کا کہنا تھاکہ افغان مہاجرین سے متعلق ہماری روایات بھی ہیں، عزت سے جو افغان مہاجرین جانا چاہتے ہیں انہیں وسائل دیں گے، افغان مہاجرین کو کسی بھی صورت ایسے نکالنے کے خلاف ہیں، خیبرپختونخوا سے کسی افغان مہاجر کو زبردستی نہیں نکالیں گے۔
اسلام آباد کی طرف مارچ کی دھمکی دیتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا کہنا تھاکہ این ایف سی ایوارڈ پر اپریل میں میٹنگ کا وعدہ کیا گیا تھا، صدرمملکت کو کورونا ہوا ہے، دعا ہے صحتیاب ہوں اور این ایف سی میٹنگ بلائیں، این ایف سی ایوارڈ پرعمل نہ ہوا توپولیس سمیت تمام اداروں کے ساتھ اسلام آباد آئیں گے، ہمیں لاوارث نہ سمجھا جائے۔
انہوں نے کہا کہ 75 ارب روپے جو کہ معمول کے مطابق آنے تھے وہ بھی نہ دیے۔
ان کا مزید کہنا تھاکہ کُرم میں مسئلہ ہوا جس کیلئے سب کچھ صوبائی حکومت کررہی ہے، صوبائی حکومت احسان نہیں کررہی لیکن وفاق کی غیرسنجیدگی بھی واضح ہے، کُرم پاراچنار کے مسئلے کا میں نے حل نکالا ہے، وہاں سڑکیں بن رہی ہیں۔
علی امین گنڈاپور نے کہاکہ کُرم میں اسسٹنٹ کمشنر فرنٹ لائن پر زخمی ہوا، کُرم کے راستے میں کیمرے لگ رہے ہیں اور مکمل امن ہوگا، کُرم میں میرا ہیلی کاپٹر چنگچی رکشے کی طرح چل رہا ہے، کرم کیلئے مجھے نہ وفاق نے سی 130 دیا نہ ہیلی کاپٹر دیا۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھاکہ ڈیل والی بات نہیں، مذاکرات ہونے چاہیے، ملاقات میری ہوئی، تردید کوئی اور کررہا ہے، میں نے تو کوئی بیان نہیں دیا، میں ہر فورم پر بانی پی ٹی آئی کی جنگ لڑتا رہوں گا۔