04 اپریل ، 2025
صوبہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے اعلان کیا ہے کہ خیبرپختونخوا سے کسی افغان مہاجر کو زبردستی نہیں نکالیں گے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے علی امین گنڈاپور کا کہنا تھاکہ افغان مہاجرین سے متعلق ہماری روایات بھی ہیں، عزت سے جو افغان مہاجرین جانا چاہتے ہیں انہیں وسائل دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ افغان مہاجرین کو کسی بھی صورت ایسے نکالنے کے خلاف ہیں، خیبرپختونخوا سے کسی افغان مہاجر کو زبردستی نہیں نکالیں گے۔
دوسری جانب حکومتی ڈیڈلائن ختم ہونے کے بعد افغان شہریوں کیخلاف کارروائی تیز کردی گئی ہے جس کے بعد افغان سٹیزن کارڈکےحامل افراد کی گرفتاریاں شروع کردی گئی ہیں۔
راولپنڈی پولیس ذرائع کے مطابق پچاس سےزائد افغان شہریوں کو رفیوجی کیمپ منتقل کردیاگیا ہے، افغان سٹیزن کارڈ کے حامل افراد کوکیمپ سے افغانستان بھجوایا جائے گا۔
پولیس ذرائع نے بتایاکہ کارڈ ہولڈر خاندانوں کوبھی تحویل میں لےکرکیمپ منتقل کیا جائے گا اور آپریشن روزانہ کی بنیاد پر کیا جائے گا۔
خیال رہے کہ پاکستان میں مقیم غیر قانونی افغان مہاجرین کے انخلا کی 31 مارچ 2025 کی ڈیڈلائن ختم ہو چکی اور حکومت نے گزشتہ روز سے ان کی بےدخلی کے عمل کا آغاز کردیا۔
وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق عید کی تعطیلات کے باعث یہ عمل یکم اپریل کو شروع نہیں ہو سکا تھا لیکن اب ملک بھر میں غیر قانونی افغان شہریوں کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے۔
جیو نیوز کے حاصل کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں اس وقت مجموعی طور پر 21 لاکھ رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ افغان مہاجرین موجود ہیں جبکہ وزارت سیفران کے ذرائع کے مطابق 14 لاکھ افغان مہاجرین قانونی طور پر رجسٹرڈ ہیں اور 8 لاکھ افغان شہری ایسے ہیں جو ’افغان سٹیزن کارڈ‘ رکھتے ہیں لیکن ان کے قیام کو اب غیر قانونی تصور کیا جا رہا ہے۔