24 اگست ، 2014
ڈیلس .....زاہد خانزادہ...... ڈیلاس میں امریکاکی غیرسرکاری تنظیم سائوتھ ایشیا ڈیموکریسی واچ نےپاکستان کی موجودہ جمہوری حکومت کو عمران خان اور طاہرالقادری کی زیرقیادت سیاسی جلسوں اور غیر جمہوری ہتھکنڈوں کے ذریعے ختم کرنے کی کو ششوں کو جمہوریت کے خلاف سازش قراردیتے ہوئے ان کی پرزور مذ مت کی ہے۔ تنظیم کے ایک ہنگامی اجلاس میں اراکین بورڈ نے سیاسی جماعتوں کی جانب سے اداروں کے گھیرائو پر تشویش کا اظہارکیا، اس قسم کے غیر آئینی اورغیرقانونی اقدا مات کو جمہوری اقدار کے خلاف سیاسی منافقت قراردیا اور حکومت وقت سے ان کے خلاف ہر ممکن اقدامات کی تائید کی۔بورڈ کی جانب سے جاری کیئےگئے ایک بیان میں سیاسی جماعتوں، حکومتی اداروں اور رہنماؤں سے اپیل گئی ہے کہ موجودہ صورت حال کو باہمی مذاکرات سے پرامن طورپر حل کیاجانا چاہیےکہ دوسیاسی لیڈروں اورریاستی قوتوں کے مفادات کی خاطرملکی سالمیت اور جمہوری اقدار کو قربان نہیں کیا جاسکتا۔بیان میں کہاگیا ہےکہ منتخب حکو متوں کو سیاسی پارٹیوں کےجتھوں اور طاقت کے زریعے ہٹانے سے اس جمہوری نظام کی جڑیں کاٹنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں جسے میڈیا، سول سوسائٹی ،عدلیہ اور سیاسی جماعتوں نے ایک طویل جدوجہد کے بعد حاصل کیا ہے۔ تنظیم نے پاکستان کی تاریخ کے حوالے سے کہا ہے کہ ملک میں پہلی مرتبہ جمہوری انتخابات کے بعد ایک سے دوسری سیاسی پارٹی کو اقتدار منتقل ہواہے اور اس تسلسل کوعمران خان اور طاہرالقادری جیسے رہنما ذاتی مفادات کے لیے کھوکھلا کرنا چاہتے ہیں۔تنظیم نے کہاکہ ملکی دستور اور قوانین کے تحت پانچ سال کےلئے منتخب حکومت اوروزیرآعظم کو صرف پارلیمان میں تحریک عدم اعتماد یا انتخابات کے ذریعے ہی ہٹا یا جاسکتا ہے۔ اگرچہ جمہوریت پرامن طورپر کئےجانے والے اظہار رائے کے حق کی ضمانت دیتی ہے لیکن دو سیاسی جماعتوں کے حالیہ دھرنے عوام پر اپنا اعتماد کھوچکے ہیں اور کہا جارہا ہے کہ ان احتجاجی جتھوں کے پردے میں وہی قوتیں کام کررہی ہیں جو ملک کو پھرآمرانہ نظام کے تاریک غاروں میں دھکیلنا چاہتی ہیں۔ مبصرین کے مطابق ان ہی پس پردہ قوتوں اورموجودہ حکومت کے درمیان کچھ اختلافات گزشتہ دنوں سامنے آؑے تھے جس کا انتقام اب وزیرآعظم نواز شریف اور ان کی حکومت سے ان احتجاجی جلسوں کے زریعے لیا جارہاہے۔