Can't connect right now! retry
Advertisement

صحت و سائنس
31 اکتوبر ، 2017

ایبولا وائرس کی پیشگی اطلاع دینے کے حوالے سے اہم پیش رفت

فوٹو: فائل

جان لیوا وائرس ایبولا اور جنگلات کے خاتمے کے درمیان تعلق پر تحقیق کرنے والے سائنسدانوں کو موذی مرض کی پہلے سے نشاندہی کرنے کے حوالے سے اہم پیش رفت حاصل ہوئی ہے۔

ایبولا کے حوالے سے پہلے سے موجود تحقیق میں یہ ثابت ہوا تھا کہ اس وبا کی ابتدا مغربی افریقا میں جنگلات کے خاتمے سے جا کر ملتی ہے۔

لیکن اب سائنسدانوں کو جنگلات کے خاتمے اور ایبولا وائرس کے پھیلاؤ کے دورانیے کے درمیان تعلق کے حوالے سے اہم پیش رفت حاصل ہوئی ہے جس کی مدد سے مستقبل میں وبا سے متاثرہ علاقوں کی پیشگی نشاندہی ممکن ہو سکے گی۔

تحقیق میں شامل سینڑ فار انٹرنیشنل فارسٹری ریسرچ کے سینئر ایسوسی ایٹ جان ایمینویل فا نے اس حوالے سے تحقیقی رپورٹ ’نیچر‘ کے آن لائن جرنل ’سائنٹفک رپورٹ‘ میں شائع کرائی۔

جان ایمینویل کا کہنا ہے کہ ہم نے جان لیوا وائرس کے پھیلاؤ کے دورانیے اور جنگلات کے کٹاؤ کے درمیان اہم تعلق دریافت کیا ہے جو اس سے پہلے ظاہر نہیں ہوا تھا۔

مطالعے میں مختلف اوقات کے دوران کانگو کے جنگلات کی کٹائی کا ایبولا سے تعلق کا جائزہ لیا گیا۔ اس کے علاوہ جو علاقے ایبولا کی وبا سے متاثر نہیں ہوئے ان پر بھی تحقیق کی گئی۔

جان ایمینویل کا کہنا تھا کہ ہم نے اعداد و شمار کے ذریعے وبا پھیلنے سے دو سال پہلے جنگلات کے خاتمے کا موذی مرض سے تعلق دریافت کر لیا تھا لیکن اس عرصے کے دوران ہونے والی درختوں کی بے دریغ کٹائی نے ایبولا وائرس کی جڑیں مضبوط کیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک خاص وقت میں جنگلات کی کٹائی کے دوران وبا کی منتقلی بہت اہم ہے کیونکہ اس کا ملطب ہے کہ ہم نے موذی مرض سے متعلق پیشگی اطلاع دینے والا نظام تیار کر لیا ہے۔

میٹروپولیٹن یونی ورسٹی مانچسٹر کے پروفیسر جان ایمینویل نے مزید بتایا کہ سیٹلائٹ کی مدد سے لی گئی تصاویر کے ذریعے کانگو اور مغربی افریقا کے جنگلات کا قریب سے جائزہ لے کر مستقبل میں جان لیوا وبا کے خطرے سے آگاہ کر سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ ایبولا ایک ایسا مرض ہے جو جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے اور اس کی وجہ سے انسان شدید بیمار اور اکثر برین ہیمبرج (دماغ کے مفلوج) کا شکار بھی ہوجاتے ہیں۔

افریقی ممالک میں 1976 میں پہلی بار ظاہر ہونے والا ایبولا کا مرض اب تک 13 ہزار سے زیادہ لوگوں کی جان لے چکا ہے۔

ابتدائی طور پر یہ وبا وسطی افریقا کے دور دراز دیہاتوں میں پھیلی جب کہ 2014 سے 2016 کے درمیان آنے والی وبا مغربی افریقا کے شہری اور دیہی علاقوں میں پھیلی۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ 1994 کے بعد سے افریقا میں پھیلنے والی وبا کا بہت زیادہ تعلق وہاں کے جنگل کے ایکو سسٹم میں بڑے پیمانے پر آنے والی تبدیلی سے جڑا ہوا ہے۔

سائنسدانوں نے پہلے صرف پھل فروٹ کھانے والے چمکادڑوں کو ایبولا پھیلانے کا ذمہ دار قرار دیا تھا لیکن تازہ تحقیق میں ماہرین نے کہا ہے کہ ایبولا کا وائرس چوہوں اور ہرنوں کے ذریعے بھی پھیل سکتا ہے تاہم اس مرض کی جانوروں سے انسانوں میں منتقلی کے حوالے سے مزید کام کی ضرورت ہے۔

Advertisement