دنیا
29 ستمبر ، 2015

قطر کا امریکا میں 35 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کا منصوبہ

قطر کا امریکا میں 35 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کا منصوبہ

دبئی........ قطر امریکا میں 35 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔ ذرائع کے مطابق قطر کی حکومت نے آئندہ پانچ سال میں امریکا میں کثیر 35 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کا منصوبہ تیار کرلیا ہے۔

غیرملکی سرمایہ کاری کے اس منصوبہ کے تحت قطر جلد ہی نیویارک میں ایک دفتر قائم کرے گا۔ قطر انوسٹمنٹ اتھارٹی کے مطابق سرمایہ کاری کی مدت پانچ سال کی ہوگی۔ ادارے کے سربراہ شیخ عبداللہ بن محمد بن سعود الثانی نے کہا ہے کہ نیویارک میں ہمارے سوان ویلتھ فنڈ کے دفتر کا قیام امریکا میں ہماری سرمایہ کاری اور دلچسپی کا مظہر ہوگا۔

قطر نے سوان ویلتھ فنڈ کو 2005ءمیں تشکیل دیا تھا جس کے ذریعے قطر اب تک یورپ میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کرچکا ہے۔ قطر نے برطانیہ میں ہیرڈز، برکلیز بینک، کریڈٹ سوئس اور ہیتھرو ایئرپورٹ جیسے منصوبوں میں سرمایہ کاری کاری کر رکھی ہے۔


جوہری پروگرام کا تسلسل: خامنہ ای کی جان جاسکتی ہے، ٹیڈ کروز
واشنگٹن........امریکا میں 2016ء میں منعقد ہونے والے صدارتی انتخابات کی دوڑمیں شامل ایک صدارتی امیدوار نے ایران کے حوالے سے سخت لب ولہجہ اختیار کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ جوہری پروگرام کے تسلسل کی پاداش میں امریکہ، ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو قتل کرنے پر مجبور ہوسکتا ہے۔

امریکی ٹی وی چینل سی این این نے امریکی صدارتی امیدوار سینیٹر ٹیڈ کروز انتخابی مہم کے دوران اپنے حامیوں سے کی گئی تقریر کے کچھ اقتباسات نشر کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر میں صدر منتخب ہوا تو ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے طے کیا گیا معاہدہ منسوخ کردوں گا۔ وائٹ ہائوس میں داخل ہونے کے بعد یہ میرا پہلا کام ہوگا۔

خیال رہے کہ ٹیڈ کروز کا خاندانی پس منظر لاطینی امریکا سے ہے۔ وہ پہلے صدارتی امیدوار ہیں جو لاطینی امریکا سے تعلق رکھتے ہیں اور ریاست ٹیکساس سے ایوان نمائندگان کے رکن ہیں۔ صدر براک اوباما کے سخت ناقدین میں وہ سرفہرست رہے ہیں اور انہیں ری یپبلکن پارٹی کے بنیاد پرست ارکان میں شمار کیا جاتا رہا ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان الفاظ کی جنگ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اگر کسی صدارتی امیدوار نے خامنہ ای کے قتل کے بات کی ہے تو دوسری جانب 16 ستمبر کو آیت اللہ خامنہ ای نے تہران میں پاسداران انقلاب کے ایک اہم اجلاس کے دوران امریکہ کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عاید کیا تھا کہ امریکا جوہری معاہدے کے بعد ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا مرتکب اور فیصلہ ساز اداروں تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کررہا ہے۔

ایرانی سپریم لیڈر کے سامنے آنے والے ویڈیو بیان میں انہیں امریکا کو کھری کھری سناتے دکھایا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا مگر جنگ مسلط کی گئی تو دشمن کو ناک رگڑنے پر مجبور کیا جائے گا۔

مزید خبریں :