09 اکتوبر ، 2015
واشنگٹن....... امریکی ایوان نمائندگان نے کاربنانے والی کمپنی واکس ویگن کے اسکینڈل کو کئی سال تک پکڑنے میں ناکامی پر فیڈرل انوائرنمنٹل ریگولیٹرز کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے
ادھر واکس ویگن کے امریکا میں سربراہ مائیکل ہارن نے گاڑیوں میں کاربن کے کم اخراج کو ظاہر کرنے والی ڈیوائس کی تنصیب کی ذمہ داری کچھ ملازمین پر عائد کی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا میں واکس ویگن کے سربراہ مائیکل ہارن گاڑیوں میں کاربن کے کم اخراج کو ظاہر کرنے والے سافٹ وئیر کی تنصیب کی تحقیقات کیلئے ایوان نمائندگان کے سامنے پیش ہوئے جہاں انہوں نے کہا کہ گاڑیوں میں ایسی ڈیوائسز اور سافٹ وئیر کا استعمال کمپنی کا فیصلہ نہیں بلکہ چند ملازمین کا فعل تھا۔ 2 سافٹ وئیر انجینئرزنے ایسا کیا ،جس کا مجھے علم نہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایوان نمائندگان کے ارکان نے ’’واکس ویگن‘‘ کے 2009ء اور اس کے بعد کے ماڈلز میں کاربن کے اخراج کو ظاہر کرنے والی ڈیوائس کے سکینڈل کو کئی سال تک پکڑنے میں ناکامی پر فیڈرل انوائرنمنٹل ریگولیٹرز کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔