Can't connect right now! retry

پاکستان
03 جنوری ، 2018

نیب ریفرنسز: شریف خاندان کیخلاف استغاثہ کے مزید 2 گواہان کے بیانات قلمبند


اسلام آباد: سابق وزیراعظم نواز شریف ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر کے خلاف استغاثہ کے مزید 2 گواہان نے اپنے بیانات قلمبند کرادیے ۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نیب ریفرنسز کی سماعت کی، اس موقع پر سابق وزیراعظم نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کمرہ عدالت میں موجود تھے۔ 

آج کی سماعت کے دوران استغاثہ کے گواہ محمد تسلیم اور زوار منظور نے اپنے بیانات قلمبند کرائے جن پر وکیل صفائی خواجہ حارث نے جرح بھی مکمل کرلی۔ 

استغاثہ کے گواہ کمشنر ان لینڈ ریونیو محمد تسلیم اپنا بیان قلمبند کرانے کے بعد جاتے ہوئے نواز شریف سے ہاتھ ملا کر گئے۔

سماعت شروع ہوئی تو استغاثہ کے گواہ محمد تسلیم نے بیان قلمبند کراتے ہوئے کہا کہ ان لینڈ ریونیو کی عہدیدار فضا بتول کے حکم پر نیب آفس گیا  جہاں نواز شریف، حسن اور حسین نواز کا ویلتھ ٹیکس ریکارڈ فراہم کیا جب کہ فضا بتول کا تصدیق شدہ ریکارڈ بھی جمع کرایا۔

گواہ محمد تسلیم نے مزید بتایا کہ 21 اگست 2017 کو نیب میں ان لینڈ ریونیو کے نمائندہ جہانگیر احمد بھی موجود تھے جنہوں نے تفتیشی افسر کامران محبوب کو نواز، حسن اور حسین نواز کا انکم ٹیکس ریکارڈ فراہم کیا جب کہ ریکارڈ وصول کرنے کے بعد بیان بھی قلم بند کرایا۔

ایون فیلڈ ریفرنس میں استغاثہ کے گواہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر نیب زوار منظور نے بھی اپنا بیان قلمبند کرادیا، جن کا کہنا تھا کہ جوائنٹ رجسٹرار ایس ای سی پی سدرہ منصور نے پیش ہو کر حدیبیہ پیپر ملز کا سالانہ آڈٹ ریکارڈ فراہم کیا۔

گواہ نے بتایا کہ ریکارڈ تفتیشی افسر نے میری موجودگی میں تحویل میں لیا اور میں نے بطور گواہ ریکارڈ پر دستخط کیے، تفتیشی افسر کے سامنے 6 ستمبر 2017 کو پیش ہوا، کلرک محمد رشید نے 11 صفحات پر مشتمل دستاویزات جمع کرائیں، چار صفحات پر مشتمل لندن کوئین بنچ کا حکم نامہ بھی جمع کرایا گیا۔

گواہوں پر جرح مکمل کرنے کے بعد عدالت ریفرنسز کی مزید سماعت 9 جنوری تک کے لئے ملتوی کرتے ہوئے مزید 6 گواہان کو طلب کرلیا۔

خیال رہے کہ فلیگ شپ انویسٹمنٹ کی 18، ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس کی 17 اور العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کی 21 سماعتیں ہوچکی ہیں۔ 

نواز شریف 10 مرتبہ، مریم نواز 12 اور کیپٹن (ر) صفدر 14 مرتبہ عدالت کے روبرو پیش ہوچکے ہیں۔

کیس کا پس منظر

سپریم کورٹ کے پاناما کیس سے متعلق 28 جولائی کے فیصلے کی روشنی میں نیب نے شریف خاندان کے خلاف 3 ریفرنسز احتساب عدالت میں دائر کئے ہیں جو ایون فیلڈ پراپرٹیز، العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسمنٹ سے متعلق ہے۔

نیب کی جانب سے ایون فیلڈ اپارٹمنٹس ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف ان کے بچوں حسن، حسین ، بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کو ملزم ٹھہرایا ہے۔

العزیزیہ اسٹیل ملز جدہ اور 15 آف شور کمپنیوں سے متعلق فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس میں نواز شریف اور ان کے دونوں بیٹوں حسن اور حسین نواز کو ملزم نامزد کیا گیا ہے۔

نواز شریف کے صاحبزادے حسن اور حسین نواز اب تک عدالت کے روبرو پیش نہیں ہوئے جس پر عدالت نے انہیں مفرور ملزم قرار دے کر ان کا کیس الگ کردیا تھا۔

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM