Can't connect right now! retry

پاکستان
23 اپریل ، 2018

کے الیکٹرک اور سوئی سدرن کا مسئلہ حل کردیا: وزیراعظم

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کابینہ کمیٹی برائے توانائی کے خصوصی اجلاس کی صدارت کے بعد میڈیا سے بات کر رہے ہیں۔ فوٹو: پی آئی ڈی

کراچی: وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ کے الیکٹرک اور سوئی سدرن کا مسئلہ حل کردیا اور اب کے الیکٹرک کو جتنی ضرورت ہوگی اتنی گیس فراہم کی جائےگی۔

21 اپریل کو وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کراچی میں بجلی کی غیر اعلانیہ اور طویل لوڈشیڈنگ کا نوٹس لیتے ہوئے شہر کو بجلی فراہم کرنے والے ادارے کے الیکٹرک کے مسائل پر غور کے لیے کابینہ کمیٹی برائے توانائی کا خصوصی اجلاس پیر 23 اپریل کو کراچی میں طلب کیا تھا۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی آج کابینہ کمیٹی توانائی کے اجلاس کے لیے کراچی پہنچے جہاں وہ ائیرپورٹ سے بذریعہ ہیلی کاپٹر کامرس کالج کے گراؤنڈ میں اترے، وزیراعلیٰ سندھ نے وزیراعظم کا استقبال کیا۔

وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس 

گورنر ہاؤس میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی توانائی کا اجلاس ہوا جس میں گورنر سندھ محمد زبیر، وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف، مشیر خزانہ مفتاح اسماعیل، وفاقی وزیر توانائی اویس، وزیر مملکت عابد شیر علی، سوئی سدرن گیس اور کے الیکٹرک کے نمائندوں سمیت دیگر اعلیٰ حکام بھی شریک ہوئے۔

اجلاس میں کراچی میں بجلی کی لوڈشیڈنگ اور کے الیکٹرک کےمعاملے پر غور کیا گیا جب کہ وزیراعظم کو لوڈ شیڈنگ پر تفصیلی بریفننگ بھی دی گئی۔

وزیراعظم کی میڈیا کو بریفنگ

اجلاس کےبعد میڈیا کو بریفنگ دیتےہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ’کے الیکٹرک اور سوئی سدرن کا مسئلہ حل کردیا ہے، گیس سپلائی بحال کردی گئی ہے، سوئی سدرن آج سےکے الیکٹرک کو مکمل گیس فراہم کرےگی‘۔

وزیراعظم نےکہا کہ ’کے الیکٹرک اور سوئی سدرن کا اپنا مسئلہ تھا اس سے وفاق کا کوئی تعلق نہیں، اس مسئلے کو حل کیا گیا اب کراچی والوں کو بجلی ملے گی جب کہ کے الیکٹرک کا وفاق سے بھی کوئی مسئلہ نہیں البتہ وفاقی حکومت اور کے الیکٹرک کے معاملے پر مفتاح اسماعیل کی ذمہ داری لگائی ہے‘۔

بجلی کےمعاملے پر سندھ حکومت کےبیان کی حمایت نہیں کرتا: وزیراعظم

انہوں نے کہا کہ ’بجلی کےمعاملے پر وفاق سے متعلق اگر سندھ حکومت کا کوئی بیان آیا ہےتو وہ سیاسی ہے اس کی حمایت نہیں کرتا‘۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’شہر میں بجلی ہوگی تو پانی بھی ہوگا، سوئی سدرن کے الیکٹرک کو 190 ایم ایم سی ایف ڈی گیس دے گی اور اگر اس سے بھی زیادہ ضرورت ہوئی تو گیس دی جائے گی جب کہ کے الیکٹرک اور سوئی سدرن کے واجبات کے معاملے پر بھی مفتاح اسماعیل کی ذمہ داری لگائی ہے‘۔

کے الیکٹرک کو سرکاری تحویل میں لینے کا کوئی امکان نہیں: شاہد خاقان عباسی

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’کے الیکٹرک نجی کمپنی ہے اسے سرکاری تحویل میں لینے کا کوئی امکان نہیں جب کہ کے الیکٹرک نیپرا کے ٹیرف پر چلتی ہے، یہ نہ زیادہ چارج کرسکتی ہے اور نہ ہی سرچارج لگا سکتی ہے‘۔

شاہد خاقان عباسی نےبتایا کہ ’کے الیکٹرک نےلکھ کر دیا ہے ان کے فرنس آئل کے پلانٹس پوری سطح پر چل رہے ہیں ان میں کوئی بھی بند نہیں، گیس کی قلت کی وجہ سےلوڈشیڈنگ بڑھی تھی جو اب نہیں ہوگی‘۔

انہوں نے کہا کہ ’جب بل کی ادائیگی سو فیصد ہوگی تو کراچی سےبھی مکمل لوڈشیڈنگ ختم ہوگی کیونکہ بل اور سپلائی کا آپس میں تعلق ہے‘۔

جہاں چوری زیادہ ہوگی وہاں لوڈشیڈنگ بھی زیادہ ہوگی: وزیراعظم

وزیراعظم نےکہا کہ ’ملک کے باقی حصوں کے لیے بھی پالیسی واضح ہے، جو چوری کرےگا وہ تکلیف میں رہے گا، جس سسٹم پر 40 سے 60 فیصد چوری ہو وہاں پیسےکون دے گا، ملک میں آج بھی طلب سے زیادہ بجلی موجود ہے لیکن جہاں چوری زیادہ ہوگی وہاں لوڈشیڈنگ بھی زیادہ ہوگی، ان نقصانات کا بوجھ ملک برداشت نہیں کرسکتا‘۔

ان کا کہنا تھاکہ ’کراچی کے لیے وفاقی حکومت جو کچھ کرسکتی ہے اس سے زیادہ کیا، گرین لائن میں بھی اپنا کام پورا کردیا، اب سندھ حکومت نے بسیں چلانی ہیں، اگر گرین لائن کے لیے سندھ حکومت ہمیں کہے ہم بسیں دینے کو تیار ہیں، اگر 70 سال میں کراچی کی کسی نے خدمت نہیں کی اور یہ حکومت کررہی ہے تو میں اس کا ذمہ دار نہیں، کراچی کے لیے وفاق نے جو کیا وہ ڈھکا چھپا نہیں، 30 ارب مختص کردیئے جس کےبعد مزید 8 ارب بھی مختص کیے ہیں‘۔

جو سیاست میں پولیٹیکل انجینئرنگ کررہا ہے اسی سےپوچھیں: شاہد خاقان

سیاست میں پولیٹیکل انجینئرنگ کے سوال پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’وہ پولیٹیکل انجینئر نہیں، اگر ایسا ہورہا ہے تو پولیٹیکل انجینئر سےہی پوچھیں‘۔

سوئی سدرن کا گیس سپلائی کھولنے کا فیصلہ

دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہےکہ وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس کےبعد سوئی سدرن نے کے الیکٹرک کو فوری گیس سپلائی کھولنےکا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت 190 ایم ایم سی ایف ڈی میں 60 ایم ایم سی ایف ڈی ایل این جی فراہم کی جائےگی۔

ذرائع نےبتایا کہ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ فرم 80 ارب روپےگیس بل کا ازسر نوتعین کرےگی، 15 دن میں طے ہوگا کہ کےالیکٹرک کو کتنی رقم سوئی گیس کو دینی ہے جب کہ مشیر خزانہ مفتاح اسماعیل رقم کی ادائیگی کے معاملے کی نگرانی کریں گے۔

ذرائع کے مطابق سوئی سدرن نے عوامی مفاد اور وزیراعظم کی خواہش پر رضا مندی ظاہر کی، کے الیکٹرک رقم کی ادائیگی پر پیچھے ہٹی تو گیس سپلائی پھر روکیں گے۔

کے الیکٹرک کی گیس میں اضافے کی تصدیق

ترجمان کے الیکٹرک کے مطابق ایس ایس جی سی کی جانب سے گیس 90 ایم ایم سی ایف ڈی سے بڑھا کر 130 ایم ایم سی ایف ڈی کردی گئی ہے۔

ان کے مطابق گیس کی صورتحال بتدریج بہتر ہو رہی ہے اور مقدار 190 ایم ایم سی ایف ڈی ہونے پر بجلی کی فراہمی معمول پر آجائے گی۔

ترجمان نے کہا کہ گیس میں اضافے سے شہر میں اضافی لوڈ شیڈنگ کی صورتحال میں کمی آئی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ گیس کے اس اضافے سے انڈسٹریل زونز آج سے لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ ہو جائیں گے۔

تاجروں کی دھمکی

اس سے قبل شہر کے صنعتکاروں نے بجلی فراہم نہ ہونے پر انڈسٹریز کو تالا لگانے کی دھمکی دی تھی، جس کے بعد مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے خلاف مظاہروں اور احتجاج کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

ایک طرف میئر کراچی وسیم اختر کو اختیارات نہ ملنے کا شکوہ ہے، تو دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ بھی بجلی بحران کے معاملے پر وفاق پر کافی گرم نظر آتے ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ کا شکوہ

گذشتہ ہفتے اپنے ایک بیان میں مراد علی شاہ نے کہا تھا کہ وفاق کے پاس اگر بجلی بحران حل کرنے کی صلاحیتیں نہیں تو وہ اس کا اختیار سندھ حکومت کو دے دے۔

وزیراعلیٰ سندھ کا مزید کہنا تھا کہ اسلام آباد میں بیٹھ کر اجلاس ہورہے ہیں لیکن کراچی کا کسی کو خیال نہیں آرہا، حتیٰ کہ کراچی سے تعلق رکھنے والے مشیر خزانہ بھی کچھ نہیں کررہے۔

وزیراعلیٰ سندھ کے اس بیان پر وفاقی وزیر پاور ڈویژن اویس لغاری نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ مراد علی شاہ پہلے اپنے صوبے کی پولیس کی مدد سے حیدرآباد اور سکھر ڈویژن کے عوام کو بجلی چوری کرنے والوں کی وجہ سے لوڈ شیڈنگ کے عذاب میں مبتلا عوام کے مسئلے کا حل نکالیں، پھر وزیراعظم سیکریٹریٹ کے باہر احتجاج کا شوق پورا کریں۔

مزید خبریں :

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM