دنیا
27 اکتوبر ، 2019

حضرت عیسیٰ علیہ السّلام (دوسرا اور آخری حصّہ)

دمشق کا وہ مقام، جہاں حضرت عیسیٰ علیہ السّلام قیامت کے قریب آسمان سے اُتریں گے—

’قصص الانبیاء‘‘ کی آخری نگارش پیشِ خدمت ہے۔ان سلسلے وار مضامین میں حضرت آدم علیہ السّلام سے حضرت عیسیٰ علیہ السّلام تک کُل 27 انبیائے کرامؑ کا ایمان افروز تذکرہ کیا گیا، جب کہ خاتم الانبیاء، سرورِ کونینﷺ کا ذکرِ مبارک تو ہر شمارے ہی کی زینت ہوتا ہے کہ آپﷺ ہی سے جہانِ رنگ و بُو کی رونق ہے۔ 

قارئین نے اِس سلسلے میں جس دِل چسپی کا اظہار کیا اور اپنی قیمتی آرا سے نوازا، اس پر اُن کے شُکر گزار، نیز، اللہ تعالیٰ سے اس مساعی کی قبولیت اور کوتاہیوں سے درگزر کے خواست گار ہیں۔

حواریوں کی فرمائش

ارشادِ باری تعالیٰ ہے’’اور جب حواریوں نے کہا’’ اے عیسیٰ ؑابنِ مریمؑ! کیا آپؑ کا پروردگار ایسا کر سکتا ہے کہ ہم پر آسمان سے (طعام کا) خوان نازل کرے؟‘‘ اُنہوں نے کہا’’ اگر ایمان رکھتے ہو، تو اللہ سے ڈرو۔‘‘ وہ بولے’’ ہماری خواہش ہے کہ ہم اُس میں سے کھائیں اور ہمارے دِل تسلّی پائیں۔ اور ہم جان لیں کہ تم نے ہم سے سچ کہا اور ہم اس (خوان کے نزول) پر گواہ رہیں۔‘‘ حضرت عیسیٰ ؑابنِ مریمؑ نے دُعا کی’’ اے ہمارے پروردگار! ہم پر آسمان سے خوان نازل فرما کہ ہمارے لیے(وہ دن) عید قرار پائے، یعنی ہمارے اگلوں اور پچھلوں (سب) کے لیے اور وہ تیری طرف سے نشانی ہو اور ہمیں رزق دے، تو بہتر رزق دینے والا ہے۔‘‘

اللہ نے فرمایا’’ میں تم پر ضرور خوان نازل فرماؤں گا، لیکن جو اس کے بعد تم میں سے کفر کرے گا، اُسے ایسا عذاب دوں گا کہ اہلِ عالَم میں کسی کو ایسا عذاب نہ دوں گا‘‘ (سورۃ المائدہ آیات 111 تا 115)۔ 

ان آیاتِ مبارکہ میں خوان یا طعام کے لیے’’مائدہ‘‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ مائدہ، ایسے دسترخوان کو کہتے ہیں، جس پر کھانا چُنا جاتا ہے۔ حضرت عمّار بن یاسرؓ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’ آسمان سے دسترخوان اُترا،جس میں روٹی اور گوشت تھا۔ اُن کو حکم ملا کہ خیانت نہ کریں، ذخیرہ نہ کریں اور نہ کل کے لیے اُٹھا رکھیں، لیکن اُنہوں نے خیانت کی، ذخیرہ کیا اور اُٹھا کر رکھا، تو وہ بندروں اور سؤروں میں تبدیل ہوگئے‘‘ (ابنِ کثیرؒ)۔

عقیدۂ تثلیث

ارشادِ باری تعالیٰ ہے’’آپؐ کہہ دیجیے کہ وہ اللہ تعالیٰ ایک (ہی) ہے۔ (وہ) معبودِ برحق بے نیاز ہے۔ کسی کا باپ ہے اور نہ کسی کا بیٹا۔ اور کوئی اس کا ہم سَر نہیں‘‘ (سورۃ الاخلاص)۔نصاریٰ نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ حضرت عیسیٰ علیہ السّلام اور رُوح القدس، یعنی حضرت جبرائیلؑ ہی کو شریک کرنے پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ حضرت مریمؑ کو بھی خدا کا درجہ دے دیا۔ دراصل، نصاریٰ بھی یہودیوں کی طرح مختلف فرقوں میں تقسیم ہو گئے تھے۔ اُس وقت ان میں تین فرقے تھے ایک قسطوریہ ،جو عیسیٰ علیہ السّلام کو خدا کا بیٹا کہتا تھا، دُوسرا یعقوبیہ ،جو عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کے ساتھ متحد مانتے تھے۔ تیسرا ملکانیہ، جو حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کو تین خدائوں میں سے ایک مانتے تھے۔ نزولِ قرآن کے وقت بھی نصاریٰ فرقوں میں تقسیم تھے۔ اُن کا عقیدہ تین الگ الگ اُصولوں پر مبنی تھا۔ ایک فرقہ کہتا تھا کہ مسیح عینِ خدا ہیں اور خدا ہی بہ شکلِ مسیح دُنیا میں اُترا۔

دُوسرے فرقے کا کہنا تھا کہ مسیح اِبنُ اللہ ہیں اور تیسرا فرقہ دعویٰ کرتا تھا کہ وحدت کا راز تین میں پوشیدہ ہے، یعنی باپ، بیٹا اور مریمؑ۔ اس جماعت میں بھی دو گروہ تھے۔ دوسرا گروہ حضرت مریمؑ کی جگہ رُوح القدس کو شامل کرتا تھا۔ غرض وہ حضرت مسیح ؑکو ثالث ثلاثہ تسلیم کرتے تھے(معارف القرآن ج 2 ،ص 618)۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں فرمایا’’اے اہلِ کتاب، اپنے دین میں حد سے نہ بڑھو اور اللہ کے بارے میں حق کے سِوا کچھ نہ کہو۔ مسیح ؑ، مریمؑ کے بیٹے، اللہ کے رسول اور اس کا کلمہ تھے۔ اور تین خدا کہنے سے باز آ جائو۔ یہی تمہارے لیے بہتر ہے۔ اللہ ہی معبودِ واحد ہے اور اس سے پاک ہے کہ اس کی اولاد ہو۔ جو کچھ زمین، آسمانوں میں ہے، سب اسی کا ہے اور اللہ کارساز ہے‘‘(سورۃ النساء آیت 171)۔ سورۃ المائدہ میں ارشاد ہے’’یقیناً وہ لوگ کافر ہوگئے، جنہوں نے کہا’’ مسیح ؑابنِ مریمؑ ہی اللہ ہیں۔‘‘ 

آپؐ کہہ دیجیے کہ اگر اللہ تعالیٰ مسیح ؑ، اُن کی والدہ اور رُوئے زمین کے سب لوگوں کو ہلاک کرنا چاہے، تو کون ہے جو اللہ تعالیٰ پر کچھ اختیار رکھتا ہو‘‘(آیت 17)۔ سورۂ مریم میں اللہ تعالیٰ ایسا کہنے والوں کو عذابِ الٰہی یاد کرواتے ہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے’’اور کہتے ہیں کہ اللہ بیٹا رکھتا ہے۔ تم بہت بُری بات (زبان پر) لاتے ہو۔ قریب ہے کہ اس (افتراء) سے آسمان پھٹ جائیں اور زمین شق ہو جائے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں کہ وہ اللہ کی اولاد ثابت کرنے بیٹھے ہیں اور اللہ کو شایانِ شان نہیں کہ کسی کو بیٹا بنائے‘‘(آیات 88-92)۔

قتل کا منصوبہ

حضرت عیسیٰ علیہ السّلام یہود و نصاریٰ کے بھٹکے ہوئے لوگوں کو توحیدِ حق کی تعلیم دیتے رہے اور اُنہیں وعظ و نصیحت فرماتے رہے، لیکن یہودیوں نے نہ صرف اُن کی تکذیب کی، بلکہ مسلسل اہانت بھی کرتے رہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کی نبوّت کو تین سال ہی کا عرصہ گزرا تھا کہ بنی اسرائیل نے آپؑ کو اپنے لیے بڑی رُکاوٹ سمجھتے ہوئے قتل کا منصوبہ بنا لیا۔ قرآنِ کریم میں ہے’’اور کافروں نے مکر کیا اور اللہ تعالیٰ نے بھی خفیہ تدبیر کی اور اللہ تعالیٰ سب خفیہ تدبیر کرنے والوں سے بہتر ہے‘‘(سورۂ آلِ عمران 54)۔ حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کے زمانے میں شام کا علاقہ رومیوں کے زیرِ نگیں تھا، یہاں اُن کی طرف سے جو حکم ران مقرّر تھا، وہ کافر تھا۔ یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کے خلاف اُس کے کان بھر دیئے۔ چناں چہ اُس نے یہودیوں کے مطالبے پر حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کو سولی دینے کا فیصلہ کرلیا، لیکن اللہ تعالیٰ نے اُنہیں بہ حفاظت آسمان پر اُٹھا لیا اور اُن کی جگہ اُن کے ہم شکل کو سولی دے دی گئی۔ تاہم، وہ یہی سمجھتے رہے کہ اُنھوں نے مسیح ؑابنِ مریمؑ کو سولی پر لٹکایا۔

آسمان پر اُٹھا لیا گیا

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے’’اور یہ کہنے کے سبب کہ ہم نے مریمؑ کے بیٹے عیسیٰ مسیح علیہ السّلام کو، جو اللہ کے پیغمبر تھے، قتل کر دیا ہے، حالاں کہ اُنہوں نے عیسیٰ کو قتل کیا اور نہ ہی سولی پر چڑھایا، بلکہ اُن کے لیے اُن (عیسیٰ ؑ) کا مشابہ بنا دیا گیا تھا۔ جو لوگ اُن کے بارے میں اختلاف کرتے ہیں، وہ اُن کے حال سے شک میں پڑے ہوئے ہیں اور پیرویٔ ظن کے سِوا اُن کو اس کا مطلق علم نہیں اور اُنہوں نے عیسیٰ علیہ السّلام کو یقیناً قتل نہیں کیا، بلکہ اللہ نے اُن کو اپنی طرف اُٹھا لیا اور اللہ غالب اور حکمت والا ہے‘‘(سورۃ النساء 158-157)۔

حضرت ضحاکؒ فرماتے ہیں کہ قصّہ یوں پیش آیا کہ جب یہود نے حضرت مسیح علیہ السّلام کے قتل کا ارادہ کیا، تو آپؑ کے حواری ایک جگہ جمع ہوگئے۔ حضرت مسیح علیہ السّلام بھی اُن کے پاس تشریف لے آئے۔ ابلیس نے یہود کے اُس دستے کو، جو آپؑ کے قتل کے لیے تیار کھڑا تھا، حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کا پتا بتایا، اس طرح چار ہزار افراد نے مکان کا محاصرہ کر لیا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السّلام نے اپنے حواریّین سے فرمایا’’ تم میں سے کوئی شخص اس کے لیے آمادہ ہے کہ وہ باہر نکلے اور اُسے قتل کر دیا جائے اور پھر جنّت میں وہ میرے ساتھ ہو۔‘‘ ایک شخص نے اس قربانی کے لیے اپنے آپ کو پیش کر دیا۔ آپؑ نے اُسے اپنا کُرتا، عمامہ عطا فرمایا۔ پھر اس پر آپؑ کی مشابہت ڈال دی گئی۔ اور جب وہ باہر آیا، تو یہود اُسے پکڑ کر لے گئے اور سولی پر چڑھا دیا، جب کہ حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کو اللہ تعالیٰ نے آسمانوں پر اُٹھا لیا‘‘ (قرطبی)۔

قیامت سے پہلے دوبارہ نزول

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اُمّتی کی حیثیت سے حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کا دوبارہ نزول، اُمّتِ مسلمہ کی قیادت و رہنمائی، فتنۂ دجال کی سرکوبی، خنزیر کا قتل، صلیب کا توڑنا، یاجوج ماجوج کا خاتمہ، فسق و فجور کا سدّ ِباب، امن و امان کا قیام، اسلام کا بول بالا، قُربِ قیامت کی وہ حقیقتیں ہیں کہ جن کے ظہور کا تذکرہ احادیث کی تمام کُتب، بہ شمول صحیح بخاری اور مسلم شریف میں موجود ہے۔ امام ابنِ کثیرؒ فرماتے ہیں کہ ان احادیث کے راویان میں حضرت ابو ہریرہؓ، حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سمیت دیگر صحابۂ کرام شامل ہیں۔ ان احادیث میں آپؑ کے نزول کی تفصیل اور جگہ کا بیان ہے۔ آپؑ دمشق میں منارۂ شرقیہ کے پاس اُس وقت اُتریں گے، جب فجر کی نماز کے لیے اقامت ہو رہی ہوگی۔

اُن کے دَور میں سب مسلمان ہو جائیں گے۔ دجال کا قتل بھی آپؑ کے ہاتھوں ہوگا اور یاجوج ماجوج کا ظہور و فساد بھی آپؑ کی موجودگی میں ہوگا۔ بالاخر آپؑ ہی کی بددُعا سے اُن کی ہلاکت ہوگی۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’ قسم ہے اُس ذات کی، جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، ضرور ایک وقت آئے گا کہ تم میں ابنِ مریمؑ حاکم و عادل بن کر نازل ہوں گے، وہ صلیب توڑ دیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، جزیہ اُٹھا دیں گے اور مال کی اتنی بہتات ہو جائے گی کہ کوئی اُسے قبول کرنے والا نہیں ہوگا (یعنی صدقہ اور خیرات لینے والا کوئی نہیں ہوگا)، حتیٰ کہ ایک سجدہ دُنیا و مافیہا سے بہتر ہوگا‘‘(صحیح بخاری، کتاب الانبیاء)۔

اللہ تعالیٰ کے پانچ وعدے

سورۂ آلِ عمران کی آیت 55 میں اللہ عزّ و جل نے اپنے رسول، حضرت عیسیٰ ؑابنِ مریمؑ سے پانچ وعدے فرمائے۔

سب سے پہلا وعدہ یہ تھا کہ اُن کی موت یہودیوں کے ہاتھوں قتل کے ذریعے نہیں ہوگی، بلکہ طبعی طور پر وقتِ مقرّرہ پر ہوگی اور یقیناً وہ وقت قیامت کے نزدیک آئے گا، جب حضرت عیسیٰ علیہ السّلام آسمان سے زمین پر نازل ہوں گے۔

دوسرا وعدہ عالمِ بالا کی طرف اُٹھا لینے کا تھا۔ یہ اُسی وقت پورا کر دیا گیا۔

تیسرا وعدہ اُنھیں دشمنوں کی تہمتوں سے پاک کرنے کا تھا۔ وہ اس طرح پورا ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور یہود کے سب الزامات کی تردید کردی۔

چوتھا وعدہ، آپؑ کے تابع داروں کو آپؑ کے منکرین پر قیامت تک غالب رکھنے کا تھا، چناں چہ تاریخ گواہ ہے کہ نصاریٰ اور مسلمان غالب رہے اور اُن ہی کی حکومتیں دُنیا میں قائم ہوئیں اور رہیں گی۔

پانچواں وعدہ، قیامت کے روز اُن مذہبی اختلافات کا فیصلہ فرمانے کا ہے ، جو آپؑ سے متعلق ہیں۔

حُلیہ مبارک

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’جس رات مجھے(آسمانوں پر) لے جایا گیا، تو مَیں نے حضرت موسیٰ علیہ السّلام سے ملاقات کی، وہ متحرّک اور جوش و جذبات والے تھے، اُن کے بال کچھ گھنگھریالے تھے، گویا شنوء(قبیلے) کے لوگوں میں سے ہوں۔ مَیں نے حضرت عیسیٰ علیہ السّلام سے ملاقات کی، وہ درمیانے قد، سُرخ و سفید چہرے والے تھے(اور یوں لگ رہے تھے) گویا غسل خانے سے(نہا کر) نکلے ہوں۔

حضرت ابراہیم علیہ السّلام کو دیکھا اور مَیں اُن کی اولاد میں سب سے زیادہ اُن سے مشابہ ہوں‘‘(صحیح بخاری)۔ مسندِ احمد میں حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’ دُنیا و آخرت میں عیسیٰ ؑابنِ مریمؑ سے سب سے زیادہ قریب تر میں ہوں، کیوں کہ ہم دونوں کے درمیان کوئی اور نبی نہیں۔ جب وہ اُتریں گے، تم اُنھیں دیکھو، تو پہچان لینا، درمیانے قد کے حامل، مائل بہ سُرخی و سپیدی، بَھرے جسم والے ہیں، گویا سَر سے پانی ٹپک رہا ہے، اگرچہ تَری نیچے تک نہیں پہنچتی، وہ تمام اُمّتوں کو ختم کر دیں گے، حتیٰ کہ اُن کے زمانے میں صرف اسلام رہ جائے گا اور زمین پر ایسی خوش حالی، برکت اور امن ہوگا کہ اونٹ اور شیر، چیتے اور گائیں، بھیڑ اور بکریاں ایک ساتھ چَریں گے۔ بچّے، بچیاں سانپوں کے ساتھ کھیلیں گے۔ ایک دوسرے کو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا، جب تک اللہ نے چاہا، یوں ہی ہوتا رہے گا، پھر حضرت عیسیٰ علیہ السّلام وفات فرمائیں گے، تو مسلمان اُن پر نماز پڑھ کر اُنھیں دفنائیں گے۔‘‘ ایک روایت میں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السّلام چالیس سال تک دُنیا میں رہیں گے۔ آپؑ کو روضۂ اطہر میں دفنایا جائے گا، جہاں ایک قبر کی جگہ باقی ہے۔

قرآنِ پاک میں سب سے زیادہ ذکر

مفتی محمّد شفیعؒ تحریر فرماتے ہیں کہ قرآنِ کریم میں انبیائے کرامؑ میں سے سب سے زیادہ ذکر حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کا کیا گیا ہے۔ سورۂ آلِ عمران کے گیارہویں رکوع میں حق تعالیٰ نے انبیائے سابقینؑ کا ذکر ایک ہی آیت میں اجمالاً کرنے پر اکتفا فرمایا۔ اُس کے بعد تقریباً تین رکوع اور بائیس آیات میں حضرت عیسیٰ علیہ السّلام اور اُن کے خاندان کا ذکر کیا گیا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کی نانی کا ذکر، اُن کی نذر کا بیان، والدہ کی پیدائش، اُن کا نام، تربیت کا تفصیلی ذکر، حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کا بطنِ مادر میں آنا، پھر ولادت کا مفصّل حال، ولادت کے بعد ماں نے کیا کھایا، پیا اُس کا ذکر، اپنے خاندان میں بچّے کو لے کر آنا، اُن کے طعن و تشنیع، نومولود مسیح ؑکو بہ طورِ معجزہ گویائی عطا ہونا، قوم کو دعوت دینا، اُن کی مخالفت، حواریّین کی امداد، یہودیوں کا نرغہ، زندہ آسمان پر اُٹھایا جانا وغیرہ۔ پھر احادیثِ متواترہ میں اُن کی مزید صفات، شکل و صورت، ہیئت، لباس وغیرہ کی پوری تفصیلات۔ یہ ایسے حالات ہیں کہ قرآن و حدیث میں کسی نبی اور رسول کے حالات اس تفصیل سے بیان نہیں کیے گئے۔‘‘ (معارف القرآن ج 2، ص 80)۔

مزید خبریں :

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM