بلاگ
16 اکتوبر ، 2021

ڈاکٹر عبدالقدیر سے یادگار ملاقات

(گزشتہ سے پیوستہ)

ڈاکٹر اے کیو خان نے بتایا کہ وہ جنرل امتیاز کے کہنے پر لاہور چلے گئے۔پہلے دن ملاقات میں سیکرٹری خارجہ جناب آغا شاہی بھی موجود تھے۔ میں نے دونوں کو ساری بات بتا دی کہ پروگرام میں کیا مشکلات آ رہی ہیں۔ دوسرے روز کی ملاقات میں سیکرٹری فنانس اے جی این قاضی اور سیکرٹری ڈیفنس غلام اسحاق شریک تھے۔

سب نے تجویز دی کہ منیر احمد خان کو ہٹا کر مجھے چیئرمین بنا دیا جائے۔ میں نے کہا یہ بہت غلط ہو گا کیونکہ پورے یورپ کو پتا ہے کہ میں اس فیلڈ میں کام کررہا ہوں ۔ ریڈ لائٹ جل جائے گی۔ پھر ڈاکٹر علی احمد خان کا نام آیاجس پر میں نے کہا ان کی شہرت تواچھی ہے لیکن ان کا تجربہ زراعت کا ہے۔ آپ بس کسی کو بنا دیں مجھے صرف فری ہینڈ چاہئے۔اے کیو خان انتہائی دلچسپی سے اور سوچ سوچ کر جواب دے رہے تھے۔ کہنے لگے، طے ہوا کہ ایک میٹنگ اسلام آباد میں ہو گی۔میں ان دنوں ایف 8 میں رہتا تھا ۔ میں گاڑی لے کر نکلا تو فارن آفس کا راستہ بھول گیا۔

بڑی مشکل سے پہنچا۔ وہاں بتایا گیا کہ بھٹو صاحب نے فیصلہ کیا ہے کہ ایک بورڈ بنے گا جس میں غلام اسحاق خان، اے جی این قاضی ہونگے اور آغا شاہی سپروائز کریں گے۔ جنرل امتیاز نے پھر بھٹو صاحب کو فون کر کے بتایا تو انہوں نے کہا ’’میری بات کرا دوڈاکٹر صاحب سے‘‘ میں نے بات کی تو انہوں نے مجھ سے پوچھا ’’ڈاکٹر صاحب آپ مطمئن ہیں؟‘‘ میں نے کہا ’’شکریہ! بس مجھے آزادانہ کام کرنے دیا جائے‘‘۔ کچھ دنوں بعد ایک میٹنگ میں ضیاء الحق بھی موجود تھے اور منیر احمد بھی۔ بھٹو صاحب نے واضح کیا کہ اس بورڈ کو وہی اختیار حاصل ہو گا جو وزیر اعظم کو ہے۔

سوال: کیا بھٹو بہت جلدی میں تھے؟ اے کیو خان: جی جی۔ وہ بہت سنجیدہ تھے، اُن جیسا میں نے کوئی اور نہیں دیکھا۔ ان کی سیاست میں وڈیرہ پن اپنی جگہ لیکن میری نظر میں وہ پاکستان کو حقیقتاً آزاد، خود مختار اور طاقتور دیکھنا چاہتے تھے۔

ایک بار میں نے بھٹو صاحب سے کہا کہ سر آرمی کور آف انجینئر کی ایک ٹیم دے دیں کہنے لگے ’’کیوں؟‘‘ میں نے کہا، پاکستان میں سول ورکس میں گڑبڑ بہت ہے۔ اس وقت جنرل ضیاالحق وہاں موجود تھے۔ بھٹو نے کہا جنرل صاحب آپ اس کی نگرانی کریں وہ فوراً تیار ہو گئے۔ پھر خان صاحب نے ہنستے ہوئے کہا کہ دوسرے دن جنرل زاہد علی اکبر شور مچاتے ہوئے آئے ’’خان صاحب مجھے کہاں پھنسوا دیا میں تو سپاہی ہوں‘‘۔ میں نے جواب دیا ہم نے آپ کو بارڈر پر جانے سے بچا لیا۔

یہ کام زیادہ اہم ہے۔ پھر سائٹ کی تلاش شروع کی۔ ایک شاکر صاحب ہوتے تھے اسمال ڈیم کے ڈائریکٹر تھے۔ انہوں نے کہا کہوٹہ کے پاس بھی ا یک جگہ ہے وہ بھی دیکھ لیں۔ مجھے وہ جگہ پسند آئی۔ پہاڑی کے اندر تھی اور خاصی محفوظ بھی لگ رہی تھی۔ جنرل اکبر نے کہا ہیلی کاپٹر سے جگہ کا جائزہ لے لیتے ہیں۔ دوسرے دن وہ جنرل فضل مقیم کے پاس گئے۔ وہ اس زمانےمیں ڈیفنس سیکرٹری تھے۔ انہوں نے فوراً درخواست پر دستخط کر دیے۔

میں نے جنرل زاہد سے کہا کہ یہاں جو لوگ رہتے ہیں انہیں نہ صرف متبادل جگہ دیں گے بلکہ نوکریاں بھی دیں گے۔ سب کو جگہ چھوڑنے پر دو گنا سے زیادہ قیمت دی، یہی وجہ ہے کہ پچاس سال گزرنے کے باوجود منگلا ڈیم اور تربیلا ڈیم کے برخلاف کہوٹہ کے رہائشیوں کی جانب سے کوئی متنازع بات سامنے نہیں آئی۔میں نے اپنے ہاتھ سے سارے نقشے بنانا شروع کیے۔ جنرل اکبر نے عمارت کا کام شروع کیا۔ بہت سادہ عمارت ڈیزائن کی۔

ایک عمدہ آرکیٹیکٹ اقبال والہ کو کنٹریکٹ دیا۔ جب عمارت اپنے اختتام پر تھی توبھٹو صاحب نے الیکشن کا اعلان کر دیا۔ سوال:جب بھٹو نے الیکشن کا اعلان کیا تو آپ کو تعجب ہوا؟ اے کیو خان: جی ان سے کہا کہ ابھی ایک سال باقی ہے جلدی کیوں کر رہے ہیں۔ مگر انہیں قوی امید تھی کہ وہ بھاری اکثریت سے جیت جائیں گے۔ پھر جو ہوا سب کے سامنے ہے۔ بہرحال مارشل لا لگ گیا۔ ضیا الحق مصروف ہو گئے مگر انہوں نے بھٹو کے نیشنل سیکورٹی کونسل کے سیکرٹری جنرل علی ضامن نقوی کو ہمارا ایڈوائزر لگا دیا۔ 1979ء تک اس پروجیکٹ کا کسی کو پتا نہیں تھا۔

اسی سال ہم نے لندن کی ایک کمپنی کو آرڈر دیا تھا، وہاں بونس کے چکر میں ہڑتال ہو گئی۔ وہاں کا ممبر پارلیمنٹ ان سے مذاکرات کرنے گیا۔ ہوا یوں کہ ملازمین نے اسے بتایا کہ پاکستان سے بڑا آرڈر آیا ہے۔ مگر یہ ہمیں بونس نہیں دے رہے۔ فرلنگ کو شبہ ہوا کہ یہ تو سینٹری فیوج کے لئے استعمال ہوتے ہیں اس نے الارم بجا دیا مگر اندازہ نہیں تھا کہ ہم کیا کر رہے ہیں؟اسی دوران فرانس سے معاہدہ ٹوٹ گیا کیونکہ پہلی بار اس قسم کی خبریں آنا شروع ہو گئیں مگر ہمارا کام جا ری رہا کیونکہ دنیا کو علم نہیں تھا۔

جب بھٹو صاحب کو پھانسی کی سزا سنا دی گئی تب ایک نیا بحران شروع ہو گیا۔ سوال:آپ نے کوشش کی بھٹو کو بچانے کی ؟ اے کیو خان:میں نے بہت کوشش کی۔ دراصل میں ضیا الحق سے کھل کر بات کر لیتا تھا۔ مذاق بھی چلتا تھا لہٰذا کبھی کبھار لبرٹی لے لیتا تھا۔ مجھے یاد ہے ایک بار میں اور جنرل نقوی ان کے ساتھ بیٹھے تھے ضیابادام بہت کھاتے تھے اس دن بھی کھا رہے تھے میں نے ازراہ مذاق کہا ضیاءصاحب ہم بھی بہت محنت کرتےہیں فوراً بادام آگئے۔

میں نے موقع مناسب جانا اور ان سے کہا کہ بھٹو کو پھانسی نہ دیں اس کے برے اثرات ہونگے پھر ترکی کی مثال دی کہ قوم تقسیم ہو گئی۔ وہ مذاق میں ٹال گئے۔میں نے بعد میں شیخ زائد کو بھی پیغام بھجوایا کیونکہ ان کے بھٹو سے اچھے تعلقات تھے ان کا جواب آیا کہ ہم پوری کوشش کر رہے ہیں۔ میں خفیہ طور پر ترکی بھی گیا۔ صدر بلندایجوت سے ملاقات طے نہیں تھی۔ بہت مصروفیت کے باوجود انہوں نے کچھ وقت دیا اور میری درخواست پر کہا کہ وہ ایک وفد بھیج رہے ہیں جن کے نام بھی مجھے دیے۔ مگر یہ تمام کوششیں ناکام رہیں۔ 4اپریل1979کو پھانسی ہو گئی۔

مجھے بہت دکھ ہوا۔ تاریخ میں ایک خونی داستان رقم ہو گئی جس کا خمیازہ ہم اب تک بھگت رہے ہیں اگر سعودی عرب کے کہنے پر مشرف نواز شریف کو بھیج سکتے تھے تو ضیا بھی مسئلے کا حل نکال سکتے تھے۔بہرحال پھر روس نے افغانستان پر حملہ کر دیااور پاکستان کی اہمیت بڑھ گئی۔ ہم نے اپنا کام جاری رکھا اور 1984کو میں نے جنرل ضیاء کو یہ خوشخبری سنا دی کہ ہم تیار ہیں۔ اب آپ کے اوپر ہے جب بھی فیصلہ کریں۔ شاید اس وقت حالات ایسے نہیں تھے لہٰذا فیصلہ نہیں ہوا۔

جب مئی 1998میں بھارت نے پانچ ایٹمی دھماکے کئے تو مجھ سے پوچھا گیا تو میں نے کہا ہم تیار ہیں۔ کافی بحث و مباحثہ کے بعد وزیر اعظم نواز شریف نے اعلان کر دیا اور پاکستان اللّٰہ کے فضل سے دنیا کی ایٹمی طاقت بن گیا۔ دوستو مشرف دور کی کہانی پھر کبھی جس کا ڈاکٹر صاحب کو بہت دکھ ہے اور ا س سےزیادہ ان کی اہلیہ کو جو پاکستانی نہیں تھیں مگر اس مشن کی خاطر یہاں آئیں۔ جس دن ڈاکٹر صاحب سے PTV پر کسی اور کا لکھا ہوا بیان پڑھوایا گیا وہ ہماری تاریخ کاسیاہ باب ہے۔ اس وقت کی قیادت کا اپنا موقف تھا مگر شاید کوئی اور بہتر حل نکل سکتا تھا۔ اللّٰہ تعالیٰ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو جنت میں اعلیٰ مقام دے۔ (آمین)

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں 00923004647998)


جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM