27 فروری ، 2012
کراچی…محکمہ آب پاشی کے عارضی ملازمین نے ایک بارپھراحتجاج کرتے ہوئے وزیراعلیٰ ہاوٴس جانے کی کوشش کی اورپولیس نے مظاہرین کو منتشرکرنے کیلئے شیلنگ کی۔ نیشنل پروگرام فار امپروومنٹ واٹر کورس کے عارضی ملازمین نے مستقل نہ کئے جانے کے خلاف کراچی پریس کلب پر مظاہرہ کیا اورمظاہرے کے شرکاء نے وزیراعلیٰ ہاوٴس جانے کی کوشش کی جنہیں روکنے کے لئے پولیس نے واٹر کینن، لاٹھی چارج اورشیلنگ کا استعمال کیااور کئی افراد کو حراست میں لیلیا۔شیلنگ کے بعد مظاہرین کچھ دیر کے لئے منتشر ہوگئے تاہم تھوڑی دیر بعد وہ پھر جمع ہوئے اور آگے بڑھنے کی کوشش کی جس پر پولیس نے ایک بار پھرمظاہرین پر شیلنگ کی۔جس کے بعدسے مظاہرین اور پولیس کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔محکمہ آبپاشی کے ملازمین کی یونین کے رہ نما شائق لاکھیر کا کہناہے کہ ان کاایک ہی مطالبہ ہے کہ اُن کی ملازمتیں مستقل کی جائیں۔انہوں نے بتایا کہ سندھ کے علاوہ باقی تینوں صوبوں میں نیشنل پروگرام فار امپروومنٹ آف واٹر کورسز کے انجینئرز اور کمپیوٹراسپیشلسٹ کو ریگولرائز کیا جاچکا ہے، لیکن ان کی سمری تین سال سے وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کی ٹیبل پر پڑی ہوئی ہے۔