پاکستان
29 اگست ، 2014

حکومت نے اسمبلی کے فلور پر مسلح افواج کی ساکھ مجروح کی،الطاف حسین

حکومت نے اسمبلی کے فلور پر مسلح افواج کی ساکھ مجروح کی،الطاف حسین

لندن......متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے کہاہے کہ حکومت کی جانب سے قومی اسمبلی کے فلور پر مسلح افواج کی ساکھ مجروح کی گئی ہے ، مسلح افواج کو چاہیے کہ وہ آئین میں رہتے ہوئے اپنی رٹ بحال کرے اور اگر پاکستان کو بچانے کیلئے اسے کڑوے اور ناپسندیدہ اقدامات بھی لینے پڑیں تولے لیں کیونکہ پاکستان ہے تو سب کچھ ہے اور ملک نہیں تو کچھ بھی نہیں ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایک انٹرویومیں کیا، الطاف حسین نے تاریخی حقائق کے تناظر میں ملک کی موجودہ سیاسی ومعاشی صورتحال ، ملک کودرپیش اندرونی وبیرونی خطرات اور امن عامہ کی صورتحال پر تفصیلی اظہارخیال کیا،اور کہاکہ پاکستان کا ہرذی شعور اس حقیقت سے اچھی طرح واقف ہے کہ ملک گزشتہ 15 ، 20 روز سے انتہائی نازک ترین صورتحال سے دوچار ہے ، فکرمند اورپریشان ہے اور دعا گوبھی ہے کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کی حفاظت فرمائے اور ملک کو قائم ودائم رکھے، 1971ء میں پاکستان میں مارشل لاء کی حکومت تھی اور بدقسمتی سے مغربی پاکستان سے جیتنے والی جماعت کے لیڈروں نے سابقہ مشرقی پاکستان کی جماعت کو حاصل عوامی مینڈیٹ تسلیم نہ کرتے ہوئے یہ کہاکہ ’’اُدھر تم ، ادھرہم ‘‘ یعنی آپ وہاں حکومت کریں اور ہم یہاں حکومت کریں،یہ رویہ اتنا آگے بڑھا کہ ملک ہی تقسیم ہوگیا اور یہاں کی حکومت کی بات آئی اور نہ وہاں کی ۔ ملک میں جاگیرداروں ، وڈیروں ، سرمایہ داروں اور فوجی جرنیلوں کے مشترکہ مفادات کے تحت اقتدار آتے جاتے رہے لیکن اس کے نتائج سے کسی نے بھی سبق نہیں سیکھاکہ اقتدار کے اس کھیل میں ملک کی معاشی صوتحال کتنی آگے بڑھی، ملک میں کیاکیا ترقیاتی کام ہوئے اور عوام کی فلاح وبہبود کیلئے کتنے اسکول، کالج اوراسپتال قائم کیے گئے ۔الطاف حسین نے کہاکہ ایم کیوایم ، پاکستان کی واحد سیاسی جماعت ہے جس نے فرسودہ جاگیردارانہ ماحول میں جنم لینے کے باوجود غریب ومتوسط طبقہ کی قیادت کا صرف نعرہ ہی بلندنہیں کیا بلکہ غریب ومتوسط طبقہ کی تعلیم یافتہ اور ایماندار افراد کو سینیٹ، قومی اورصوبائی اسمبلی کے ایوانوں میں بڑے بڑے جاگیرداروں اوروڈیروں کے برابر بٹھادیا جہاں کوئی غریب آدمی بیٹھنے کاتصورتک نہیں کرسکتا تھا۔ ایم کیوایم کے حق پرستانہ فکروفلسفہ اور پیغام کو دبانے کیلئے استحصالی قوتوں نے لسانی فسادات کرائے لیکن ہم ڈٹے رہے اور قربانیاں دیتے رہے ، ایم کیوایم کے شہیدوں سے قبرستان بھرگئے ،میرے بڑے بھائی اوربھتیجے کو بھی شہیدکردیا گیا ، میں 22 سال سے جلاوطنی کی زندگی گزار رہا ہوں ، میرے علاوہ کوئی مثال نہیں دے سکتا ۔ الطاف حسین نے کہاکہ اسلام آباد میں دھرنوں کی صورتحال پر اگر میں دن رات کوششیں نہیں کرتا تو خدانخواستہ قیمتی انسانی جانوں کے زیاں کا خدشہ تھا،ہردور حکومت میں پاک فوج مصالحانہ کردارادا کرتی رہی ہے ۔ موجودہ سیاسی بحران کے حل کیلئے آرمیچیف جنرل راحیل شریف کی پاکستان عوامی تحریک اور تحریک انصاف کے رہنماؤں سے ملاقات کاتذکرہ کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ اس ملاقات کے حوالہ سے آج قومی اسمبلی کے فلور پر تردید کی گئی کہ یہ ملاقات حکومت کی ایما پر نہیں بلکہ دونوں جماعتوں کے رہنماؤں کی درخواست پر کی گئی، ڈاکٹرطاہرالقادری اور عمران خان نے حکومتی مؤقف کوجھوٹ قراردیا جس سے عوام میں یہ سوچ پیدا ہوئی کہ کون سچ بول رہا ہے ؟ لیکن چند گھنٹوں بعد آئی ایس پی آر نے پریس ریلیز جاری کرکے یہ ابہام دورکردیا کہ حکومت کی جانب سے مسلح افواج کے سربراہ کو کہاگیا تھا کہ وہ مصالحانہ کردارادا کریں۔ حکومت نے ساراالزام دونوں جماعتوں پر ڈال کر فوج کے امیج کو خراب کرنے کی کوشش کی ہے اور اگر وزیراعظم کی جگہ میں ہوتا تو آئی ایس پی آر کے بیان کے بعد رضاکارانہ طور پر اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتا۔ انہوںنے کہاکہ مسلح افواج کے سربراہ جنرل راحیل شریف اورپاک فوج کا کیا قصور ہے جو ان کی ساکھ خراب کرنے کی کوشش کی گئی ؟ مسلح افواج سرحدوں کا دفاع کررہی ہے ، شمالی وزیرستان میں تاریخ کی بدترین جنگ لڑرہی ہے اور قدرتی آفات سے بھی نمٹ رہی ہے ۔ ان حالات میں بھارت کی جانب سے سرحدوں پر اشتعال انگیزی کی جارہی ہے، انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ موجودہ صورتحال کو دیکھ کر بھارتی افواج حملہ کرکے کسی علاقے پر قبضہ کرلے ۔ الطاف حسین نے کہاکہ میں فوجی مارشل لاء اور اسٹیبلشمنٹ کے سخت خلاف تھا اور ہوں ، حق پرستی کی جدوجہد کے دوران میں نے ہرقسم کے مظالم کا سامنا کیا لیکن اپنے ظرف وضمیر، مشن ومقصد اور اپنے شہیدوں کے لہوکا سودا نہیں کیا،میں سمجھتا ہوں کہ ملک وقوم کودرپیش موجودہ سیاسی بحران میں مسلح افواج کو چاہیے کہ وہ پاکستان کے آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے پاکستان کی بقاء وسلامتی اور عوام کی جان ومال کے تحفظ کیلئے اپناکردار ادا کرے ۔ انہوںنے آئینی وقانونی ماہرین کو چیلنج دیتے ہوئے کہاکہ آئین کے آرٹیکل 6 کا اطلاق غیرجمہوری طریقہ سے کیاجارہا ہے ، اس آرٹیکل کے تحت سابق صدرجنرل پرویزمشرف پر مقدمہ چلایاجارہا ہے جبکہ وہ ہوائی جہاز میں سفرکررہے تھے اور جنہوںنے زمین پر ایکشن کیا وہ آرٹیکل 6 کی شقوں سے محفوظ بنادیئے گئے ہیں ۔



















مزید خبریں :