11 اکتوبر ، 2015
بوسان......جنو بی کوریا کے شہر بوسان میںدس روز تک کا میابی سے جاری ایشیا کا سب سے بڑا فلمی میلہ ’بوسان فلم فیسٹیول‘ ہفتے کی شام کو اختتام پذیر ہوا ۔ فلم فیسٹیول میں 75ممالک کی جانب سے 302 فلمیں پیش کی گئیں، جن میں 125فلموںکے عالمی یا بین الا قوامی پریمئیرز بھی شامل تھے۔
بیسویں بوسان فلم فیسٹیول کے اختتام پرایرانی ہدایتکار ہادی محققی کی فلمImmortal" " (لا فا نی) اورقزاقستان کے ہدایت کار یرلان نور مخمبتوف کی فلم "Walnut Tree" (اخروٹ کا درخت) اعلیٰ ترین ایوارڈ زکی حق دارقرار دی گئیں۔ ان کے ہدایت کاروںکو نیو کرنٹس ایوارڈ زسے نوازا گیااور ہرایک کو تیس ہزار ڈالر کی انعامی رقم بھی دی گئی۔
اختتامی تقریب میں چین کے ہدایت کار لیری یانگ کی ڈرامہ فلم "Mountain Cry" (پہاڑ کا رونا) کا ورلڈ پریمیئر بھی شاملتھا۔یہ فلم دور افتادہ پہاڑی گائوںکی ایک رومانی کہانی پر بنائی گئی ہے۔
اس فلم فیسٹیول کے دوران کُل دو لاکھ 27ہزار337شائقین نےفلمیں دیکھیںجو ایک ریکارڈ ہے۔ یہ تعداد گذشتہ سال کی نسبت کچھ زیادہ تھی۔اس میلے میں فلمی دنیا کےکئی لیجنڈزنے شرکت کی،جن میں تائیوان کےنامور فلم ساز، ہدایت کار، اسکرپٹ رائٹر، اداکار اور گلو کا رہو سیائو سین، فرانس کے مشہورہدایت کار، مصنف اور نقاّد لیوس کاریکس، امریکہ کےمقبول اداکار ہاروے کیٹل، فرانس کی پُرکششںاداکارہ صوفی مارسیو اور جنوبی کوریا کےبےحد پسندیدہ اداکار یُوآن کے علاوہ دیگر اہم شخصیات شامل تھیں۔انہوں نے فلموں کی اسکریننگ پر شائقین کے ساتھ ملاقات اور بحث میں حصّہ لیا۔
بوسان فلم فیسٹیول میں جن دو فلموں کوسب سے بڑے ایوارڈز دئیے گئے ان میں ایرانی فلم Immortal کو جیوری نے، جس کی سربراہ تائیوان کی اداکارہ اور ہدایت کارہ سلوِیا چانگ تھیں، انسانی وقار کو برقرار رکھنے کے بارے میں ’’بصری (تصویری ) قصّہ خوانی کا ایک غیر معمولی کارنامہ‘‘ قرار دیا۔یہ فلم انسانی جذبات و احساسات کی ایک موثّر کہانی تھی جس میں ایک شخص خودکشی کرنا چاہتا ہے مگر اس کا پوتا زندہ رہنے کی کئی وجوہات بتا کر اسے اس اقدام سے باز رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔
فیسٹیول میں دوسرا سب سےبڑا ایوارڈ جیتنے والی فلم Walnut Tree ایک سیدھی سادی کہانی پر مبنی تھی جس کے بارے میں جیوری کے اراکین کا کہنا تھا کہ’’ یہ فلم ہمیں زندگی کا ایسا انداز بتاتی ہےجو ہم میں سے بیشتر کے لئے نامانوس ہے مگر ثابت کرتی ہے کہ مزاح، نرم مزاجی اور عفو و درگزر ہم سب کو کس طرح جوڑے رکھتی ہے‘‘۔
دیگر فلمیں جنہوں نےجیوری اور فلم بینوں کو متاثر کیا اور ایوارڈز حاصل کئےان میںجنوبی کوریا کی "Boys Run" بھی شامل تھی جس میں جنوبی کوریا کے تعلیمی نظام کے متبادل پیش کئے گئے ۔اس کے ہدایت کار کانگ سیوک پِل ہیں۔چین کے ہدایت کار یےیون کیفلم "Look Love" دو بچّوں کی محبت اور توجہ حاصل کرنے کی کوشش پر ہے۔ان کے علاوہ جنوبی کوریا کے ہدایت کارلی سیونگ ون کی فلم "Communication and Lies" ، بھارتی ہدایت کارہری وشواناتھ کی "Radio Set"اور جنوبی کوریا کے ہدایت کاراو موئل کی "Eyelids"نے بھی ایوارڈز وصول کئے ۔
بوسان فلم فیسٹیول میںجن فلموں کی نمائش کی گئی ان میںبھارت کی بلاک بسٹر ’’بجرنگی بھائی جان‘‘ اور چین کی باکس آفس ہِٹ’’مانسٹر ہنٹ(Monster Hunt )‘‘ بھی شامل تھیں۔ ان کے علاوہ جاپان کی اینیمیٹڈ فلم ’’My Neighbor Totoro‘‘ بھی دکھائی گئی۔
ٰن تمام فلموں میں پاکستان سے صرف ایک فلم شامل کی گئی تھی ۔ یہ ہدایت کار جامی محمود کی ’’مور (ماں)‘‘ تھی جوفیسٹیول کے افتتاحی دن نمائش پذیر ہوئی۔کور یا میں رہنے والے پاکستانیوں کی کثیر تعداد اس فلم کو دیکھنے کے لئے آئی ۔ بعد میں پاکستانی شائقین کے اصرار پر اس فلم کے مزید دو شوز کئے گئے۔اس فلم کو اگرچہ کوئی ایوارڈ نہیں ملا مگر اسے موضوع، عکاسی اور تیکنیکی خوبیوں کے باعث سراہا گیا۔
الغرض، بیسواں بوسان فلم فیسٹیول معیاری فلموں کی نمائش ،فنکاروں اور ماہرین کی کثیر تعداد میں شرکت، بزنس اور انتظامات کے لحاظ سے بے حد کامیاب رہا۔