Can't connect right now! retry

نشے کے عادی افراد کا جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے علاج

فوٹو: بشکریہ بی بی سی 

امریکا نےکامیاب آزمائش کے بعد شدید نشے کے عادی افراد کے علاج  کی ٹیکنالوجی متعارف کرا دی ہے۔

اس جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے نشے کے عادی افراد کا علاج کرنے والی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر علی رضائی نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ اس ڈیوائس کا نام ’پیس میکر فار برین‘ ہے اور اس ٹیکنالوجی کو نشے کے عادی ان افراد کے لیے بنایا گیا ہے جن کا دوسرے تمام طریقوں سے علاج کیا جا چکا ہو لیکن اس کے باوجود ان کی نشے کی عادت  نہ چھوٹی ہو۔

ڈاکٹر علی رضائی نے بتایا کہ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے پہلا آپریشن ویسٹ ورجینیا یونیورسٹی میڈیسن اسپتال میں کیا گیا جس میں ان کے ساتھ 3 لوگ اور بھی شامل تھے۔

فوٹو: بشکریہ بی بی سی 

اس سرجری میں ڈاکٹر سب سے پہلے دماغ کے متعدد اسکین لیتے ہیں، جس کے بعد کھوپڑی میں ایک چھوٹا سا سوراخ کیا جاتا ہے اور اس سوراخ کے ذریعے ایک ملی میٹر کے الیکٹروڈ کو دماغ کے اس حصے تک پہنچایا جاتا ہے جو انسان کے جذبات کو کنٹرول کرتا ہے۔

اس پیس میکر کی بیٹری کو انسان کی کالر بون میں لگایا جاتا ہے جس کے بعد انسان کے دماغ کی تمام تر حرکات پر ماہر نفسیات اور دیگر ڈاکٹرز نظر رکھتے ہیں کہ اس انسان کی نشے کی طلب کم ہوئی یا نہیں۔

33 سالہ جیروڈ بکھیلٹر جو کہ کئی دہائیوں سے نشے کی عادت سے لڑ رہے تھے ان کی دماغ امپلانٹ کرنے کی کامیاب سرجری ہو چکی ہے۔

33 سالہ جیروڈ بکھیلٹر جو کہ کئی دہائیوں سے نشے کی عادت سے لڑ رہے تھے ان کی دماغ امپلانٹ کرنے کی کامیاب سرجری ہوچکی ہے۔۔۔۔۔فوٹو: بشکریہ بی بی سی

امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے نشے کی لت، مرگی اور جنونی ڈس آرڈر کے علاج کے لیے اس ٹیکنالوجی کی منظوری دے دی ہے۔

مغربی ورجینیا میں منشیات کا زیادہ استعمال کرنے سے ہونے والی اموات کی شرح سب سے زیادہ ہے، امریکا کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ڈرگ ایبیوز کے مطابق 2017 میں ایک لاکھ لوگوں میں سے 50 فیصد تک اموات کی وجہ نشے کی زیادہ مقدار استعمال کرنا تھی۔

واضح رہے کہ دنیا بھر میں تقریباً دماغ کے امپلانٹ کیے جاتے ہیں لیکن امریکا میں نشے کی عادت سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے دماغ کے علاج کا یہ پہلا آپریشن ہے۔

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM