Time 30 جولائی ، 2022
بلاگ

سیاسی عدم استحکام اور جنونی ذہنیت؟

انگلینڈ میں زیر تعلیم دوست نے درویش سے سوال کیا ہےکہ پاکستان میں جمہوریت کیوں مضبوط نہیں ہو سکی ؟ پی ٹی آئی چیئرمین عہدے سے ہٹائے جانے کے باوجود پاپولر کیوں ہیں ؟ اس کا بیانیہ سچا نہ ہونے کے باوجود کیوں بک رہا ہے ؟ نواز شریف کا بیانیہ حقیقت پسندی اور سچائی کے باوجود کیوں فیل ہے ؟

 ہمارے’’ لبرل ہیومن فورم ‘‘میں بھی بہت سے دوست اس نوع کے سوالات اٹھا رہے ہیں کہ آج پون صدی گزرنے کے باوجود پاکستان میں جمہوریت کیوں مضبوط نہیں، معاشی کے ساتھ ساتھ سیاسی عدم استحکام کیوں ہے؟ آئین کا پسندیدہ اور روایتی جواب تو مطالعہ پاکستان والا ہی ہے لیکن درایتی جواب ناقابل فہم ہے۔ بہرحال درویش بچتے بچاتے یہ عرض گزار ہے کہ اس المیے کی جڑیں خود تحریک پاکستان میں پیوست ہیں 1906میں جب بمقام ڈھاکہ مسلم لیگ قائم کی گئی تو اس کے بانیان سر سید کی علی گڑھ تحریک کے لوگ تھے،جن کا مطمح نظر انگریز سرکار سے وفاداری استوار رکھتے ہوئے مسلمانوں کیلئے زیادہ سے زیادہ مفادات کا حصول تھا ۔جسے شک ہے وہ اس دور کی کتابیں، اخبارات اور مسلم لیگ کے دستوری مطالبات سمیت تمامتر روداد کا مطالعہ کر سکتا ہے یعنی ہمارا اولین قیام اسٹیبلشمنٹ کی مطابقت میں تھا اور اس میں ہندو ستان کی منافرت بھی شامل ہوتی چلی گئی۔

آگے بڑھ کر جناح صاحب کی مسلم لیگ کو بھی ہم دیکھ سکتے ہیں کہ وہ کبھی کانگریس کی طرح کوئی عوامی پارٹی نہیں رہی بلکہ ا س کا کردار پیہم کبھی کم کبھی زیادہ اسٹیبلشمنٹ کی ہمنوائی و مطابقت میں ہی رہا یا پھریہ جاگیرداروں اور ایلیٹ کلاس کی جماعت رہی۔ شک کرنے والے وہ آج بھی اقبال کے جناح صاحب کے نام خطوط ملاحظہ فرمالیںجن میں موصوف کا یہ تقاضا چھایا ہوا ہے کہ لیگ کو کس طرح عوامی پارٹی بنایا جا سکتا ہے؟

درویش اگر اسی سوال پر رہا تو موجودہ حالات کے حوالے سے اہم سوالات پر بات نہ ہوسکے گی ویسے بھی پہلے سوال پر بہت کچھ لکھا بولا جا چکا ہے لہٰذا آج کے سوال پر آتے ہیں کہ سابق کرکٹر بڑے منصب سے ہٹائے جانے کے باوجود ہنوز پاپولر کیوں ہے ؟ اتحادی حکومت کی کوتاہیاں ایک طرف رکھتے ہوئے اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ وہ ہمارا سابق کرکٹر ہے جس نے ہمیں 92کا ورلڈ کپ جتوایا تھا، ہمارے میڈیا نے اس پس منظر میں دہائیوں سے اسے قومی ہیرو کے روپ میں پیش فرمایا، اُسے طریقے سلیقےسے جناح ثانی خیال کیا جاتا ہے کیونکہ اس میں اور جناح صاحب میں بہت سے اوصاف حمیدہ ایک جیسے ہیں۔

ہم نے پچھلی پون صدی کے مطالعہ پاکستان کی برکت سے نسل در نسل جو ذہنیت تیار کی ہے وہ عوام میں ہی نہیں ہمارے اداروں میں بھی بکثرت پائی جاتی ہے ،یہ بیانیہ جنونیت و جذباتیت سے مالا مال ہے اور جب تک یہ ذہنیت قائم و دائم ہے نہ جہالت و جنونیت میں کمی آئے گی نہ سابق کھلاڑی جیسے کرداروں کی مقبولیت ختم ہو گی بلکہ اس کے بعد بھی اس سے ملتا جلتا کوئی نیا چہرہ یہی کردار ادا کرتے ہوئے منافرت پر مبنی نعرے بازی میں جلوہ افروز ہو جائے گا، جسے شک ہے وہ قائد عوام کی دائمی پاپولیریٹی اور اس کی نفسیاتی بنیادوں کو ملاحظہ فرمالے’’ ہم ہندوستان سے ہزار سال تک جنگ لڑیں گے‘‘ ،’’ ہم گھاس کھالیں گے مگر ایٹم بم بنائیں گے‘‘،’’ ہم تمام انڈسٹری قومیا لیں گے، ہم تمام جاگیریں ہتھیا لیں گے‘‘ اور پھر مذہب کارڈ اللّٰہ اللّٰہ۔

اگر چہ اتنے زیادہ دھوکے اور دھکے کھانے کے بعد بہت سے لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ نواز شریف امن اور خوشحالی کے تقاضے سمجھتا تھا، وہ تمام ہمسایہ ممالک سے اچھے تعلقات کیلئے صدق دل سے گامزن تھا تاکہ اپنے عوام کو ترقی و خوشحالی سے ہمکنار کر سکے۔

اب مصیبت یہ ہے کہ عوام میں اگرچہ بہت سے لوگ موجود ہیں جو نواز شریف کے بیانیے یا اس کی سوچ کے حامل ہیں مگرسب اپنی اپنی مفاداتی تنگناؤں میں بٹے ہوئے ہیں۔ انہوں نے انتخابی معرکے ایک دوسرے کے بالمقابل ہی لڑنے ہیں ان کی آواز بالعموم صدابہ صحرا ثابت ہوتی ہے،وجہ وہ منافرت بھری ذہنیت جس کا اوپر تذکرہ ہوا ہے ۔

یہ بھی واضح رہے کہ اس نوع کے نجات دہندہ بالعموم چرب زبان ہوتے ہیں جس طرح پنجابی میں کہتے ہیں کہ’’ گلاں دا کھٹیا کھانا‘‘ کہہ مکرنیاں یا یوٹرن ان کیلئے بائیں ہاتھ کے کھیل ہیں جبکہ عوامی حافظہ کمزور ہوتا ہے پھر جذباتی قومی نعرے بازی ،چاہے عوامی یا قومی یکجہتی کا جنازہ نکل جائے ایسے لوگ اقتدار کےسنگھاسن پر بیٹھنے کو اپنی معراج خیال کرتے ہیں۔

ہوئی نہ عام جہاں میں کبھی حکومتِ عشق

سبب یہ ہے کہ محبت زمانہ ساز نہیں

رہ گیا نواز شریف کا بیانیہ جس کی ہنڈیا بیچ سیاسی چوراہے کے کسی اور نے نہیں خود ان کے اپنے بھائی بھتیجے اور شہزادی نےپھوڑ ڈالی ہے اس پر بحث پھر سہی فی الحال’ پنجاب کے سب سے بڑے چودھری‘ کو پنجاب کا کانٹوں بھرا تاج مبارک۔


جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔