Election 2024 Election 2024

’’پاک فوج زندہ باد‘‘ خان کا نیا بیانیہ

گزشتہ ایک ڈیڑھ سال سے جو کچھ عمران خان ،فوج اور فوجی قیادت کے بارے میں کہہ رہے تھے اور جس بیانیہ کے نتیجے میں9 مئی کا واقعہ بھی ہو گیا، اُس سےمتعلق میں نے ہمیشہ یہ بات کہی کہ عمران خان اور تحریک انصاف بہت بڑی غلطی کر رہے ہیں۔ کوئی بھی سیاسی جماعت فوج سے لڑائی نہیں لڑ سکتی اور نہ ہی ایسی لڑائی میں پڑنا چاہیے لیکن خان صاحب نے اپنے سیاسی مخالفین کی بجائے اسٹیبلشمنٹ اور فوجی قیادت سے ہی لڑنے کا فیصلہ کیا۔

میں نے بار بار لکھااور کہا کہ ایسی لڑائی کا نقصان عمران خان کو ہو گا، اُن کی جماعت کو ہو گا اور اس کے ساتھ ساتھ پاکستان اور فوج کے ادارے کو بھی ہوگا۔ لیکن خان صاحب اپنی مقبولیت کے گھمنڈ میں آگےبڑھتے چلے گئے اور پھر 9 مئی کا سانحہ ہو گیا ،عمران خان اور تحریک انصاف کے ساتھ وہی ہوا جس کا مجھ سمیت بہت سے لوگ کو ڈر تھا۔ اب خان صاحب جیل میں ہیں، اُن کی جماعت کے بڑی تعداد میں رہنما اور سابق ممبران اسمبلی تحریک انصاف کو چھوڑ چکےہیں، کئی ایک جیل میں ہیں جبکہ بہت سے انڈر گرائونڈ ہو چکےہیں۔

9 مئی کے واقعہ کے بعد میں یہ بھی کہتا رہا کہ خان صاحب اور تحریک انصاف کو فوج کے ساتھ لڑائی ختم کرنے کیلئے فوج مخالف بیانیہ بدلنا چاہیے، فوجی عمارتوں، تنصیبات اور یادگاروں پر تحریک انصاف کی طرف سے حملوں کی بغیر اگر مگر کیےمذمت کرنی چاہیے، اس پر معذرت کرنی چاہیے اور اپنی جماعت اور پی ٹی آئی سوشل میڈیا کے ہر ایسے فرد کی کھل کر مذمت کرنی چاہیے جو فوج یا فوج کی قیادت کے خلاف بات کرنے اور اُنہیں بدنام کرنے کی کوشش کرے۔

اس کے باوجود ایسا نہ کیا گیا اور یہ کہا گیا کہ تحریک انصاف اور عمران خان کی مقبولیت تو آسمان پر پہنچ چکی ہے۔ اب کچھ اشارے مل رہے ہیں کہ شاید عمران خان کو وہ بات سمجھ میں آنا شروع ہو گئی ہے جس کے بارے میں اُنہیں بہت سوں نے سمجھانے کی کوشش کی۔ ویسے تو تحریک انصاف کیلئے جلسے جلوس کرنا بہت مشکل ہو چکا لیکن حال ہی میں صوبہ خیبر پختون خوامیں تحریک انصاف نے چند ایک جلسے کیے جن سے پارٹی کے نئے سینئر نائب صدر شیرا فضل خان مروت نے خطاب کیا۔ ان جلسوں میں پاک’’ فوج زندہ باد‘‘ اور ’’شہدا پاک فوج زندہ باد‘‘ کے نعرہ لگوائے گئے۔

اس پر میری شیر افضل مروت صاحب سے بات ہوئی تو اُن کا کہنا تھا کہ عمران خان نے اُن کو ہدایت کی ہے کہ تحریک انصاف اور فوج کے درمیان لڑائی کے تاثر کو ختم کیا جائے اور ایسے تمام افراد کو پارٹی اور پارٹی کے سوشل میڈیا سے نکال باہر کیا جائے جو فوج کو بدنام کر رہے ہیں یا ایسے کسی عمل میں شریک ہیں۔ مروت صاحب کا کہنا تھا کہ عمران خان کا کہنا ہےکہ فوج پاکستان کی سالمیت اور دفاع کیلئے لازم ہے اور فوج کے شہدا قوم کے ہیرو ہیں جن کے ساتھ تحریک انصاف اور عمران خان ہمیشہ کھڑے رہیں گے۔ 

مروت صاحب کا کہنا تھا کہ اب تحریک انصاف کے جلسوں جلوسوں میں پاک فوج زندہ باد کے نعرے گونجیں گے۔ چلیں، دیر آید درست آید۔ امید ہے کہ عمران خان پاک فوج زندہ باد کے اپنے نئے بیانیہ پر کھڑے رہیں گے اور پھر سے فوج سے اُس لڑائی کو دوبارہ نہیں شروع کریں گے جس نے اُن کو اور اُن کی جماعت کو بہت نقصان پہنچایا۔

اس نئے بیانیہ کا مقصد کیا ہے اس بارے میں مجھے معلوم نہیں۔ ہو سکتا ہے کہ کوشش ہو کہ اس سے آئندہ انتخابات کیلئے تحریک انصاف کو الیکشن لڑنے کے لیے کچھ بہتر سپیس مل جائے۔

یہ بھی ہو سکتا ہے کہ عمران خان واقعی اپنے کیے پر پچھتا رہے ہوں۔ وجہ جو بھی ہو عمران خان کو اگر پاکستان میں سیاست کرنی ہے اور اپنی سیاسی جماعت کے سیاسی مستقبل سے دلچسپی ہے تو اپنے گزشتہ ایک ڈیڑھ سال کے بیانیے کو نہ صرف دریا بُرد کرنا پڑے گا بلکہ اپنے ووٹروں، سپورٹروں کے ذہنوں میں بھرے فوج مخالف زہر کو ختم کرنا پڑے گا۔

حرف آخر: گزشتہ چند ہفتوں سے جنگ کے ادارتی صفحات پر محترم سہیل وڑائچ اور محترم عرفان صدیقی کے درمیان بھی ایک بحث چل رہی ہے جومیری نظر میں دونوں کو سوٹ نہیں کرتی۔ میری دونوں سے درخواست ہے کہ اپنی اپنی رائے اور اپنی اپنی بات ضرور کریں لیکن ایک دوسرے کے متعلق طنز اورطعنوں سے باز رہیں۔ ایسی باتیں کرنا ایسے دانشوروں کیلئے مناسب نہیں۔

(کالم نگار کے نام کے ساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں 00923004647998)

مزید خبریں :