03 اگست ، 2014
کراچی......متحد ہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے رکن ڈاکٹر فاروق ستار نے ایم کیوایم کے زیرا ہتمام14، اگست سے پہلے عوامی مسائل کے حل کیلئے عوامی شرکت و شمولیت کے ذریعے دو نکاتی مہم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے ۔مہم کا پہلا بنیادی نکتہ ایک خود مختار ، موثر اور طاقت ور مقامی حکومتوں کے نظام کا قیام جبکہ ملک سے جاگیردارانہ نظام کے خا تمے اور لینڈ ریفامز کیلئے رائے عامہ ہموار کرنا مہم کا دوسرا نکتہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیوایم اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ جب تک ان دو بڑی خرابیوں کو دور نہیں کیا جاتا تب تک پاکستان میں سیاسی و جمہوری عمل مستحکم نہیں ہوسکتا، کراچی کو وفاقی اور صوبائی حکومت اونر شپ دینے کیلئے تیار نہیں،ایوانوں میں عوامی مقدمے کا کوئی حل نہیں نکلتا تو پھر تنگ آمد بجنگ آمد کراچی اور سندھ کے عوام کو سڑکوں پر آنا پڑا تو پاکستان کے 68ویں یوم آزادی 14اگست کے موقع پر کراچی اور سندھ کے عوام بھی اپنے بنیادی مسائل کے حل کیلئے ایک تاریخ دیں ۔وہ اتوار کو نائن زیروپرایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے ۔اس موقع پراراکین رابطہ کمیٹی رشید گوڈیل ، کنور نوید جمیل ، وسیم اختر ، اسلم آفریدی ، گلفراز خان خٹک اورسندھ اسمبلی میں ڈپٹی پارلیمانی لیڈر خواجہ اظہار الحسن بھی موجود تھے ۔ڈاکٹر فاروق ستار نےکہا کہ ملک کے قومی منظر نامے پر سیاسی اختلافا ت واضح طور پر نظر آ رہے ہیں اور ایک محاذ آرائی کی کیفیت پیدا ہورہی ہے اور اس حوالے سے الطاف حسین کی ہدایت پر گزشتہ دو روز سے رابطہ کمیٹی اور حق پرست اراکین سینیٹ و قومی اور صوبائی اسمبلی کے مسلسل اجلاس ہورہے ہیں ۔ انہوں نے عیدپر سی ویو کے ساحل پر متعدد افراد کے ڈوب کر جاں بحق ہونے کے سانحہ پر افسوس کااظہا رکرتے ہوئے کہا کہ سانحہ سی ویو اس بات کامتقاضی ہے کہ ہمیں اپنا احتساب کرنا چاہئے ، اصل خرابی اور بگاڑ کا علاج کرنا چاہئے اگر ایسا نہ کیا تو آئے دن سانحہ سی ویو ہوتے رہیں گے سمندر کی موجیں اسی طرح متعدد افرادکو لقمہ اجل بناتی رہیں گی ، رمضانمیں واٹر بورڈ کی منتیں کیں تب کہیں جاکر عید پر تھوڑا سا پانی ملا ، ٹینکر مافیا نے اودھم مچایا ہوا ہے ، یہ متحدہ کے منتخب نمائندے ہیں جو حکومت ، اداروں اور عوام کے درمیان میں ایک ڈھال بن کر کھڑے ہیں اگر یہ ڈھال ہٹا دیں تو روزانہ واٹر بورڈ ، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے دفاتر پر مظاہرے ہوں ،سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی ،کراچی کے بلڈررز کو لوٹ رہا ہے اور اس نے رشوت ستانی کے بازار لگائے ہیں ، کراچی کے علاوہ حیدرآباد، سکھر، میر پور خاص ، نوابشاہ ، دیہی اور شہری علاقے لاڑکانہ خیرپور ، دادو ، ٹھٹھہ کا حال بھی کراچی سے مختلف نہیں ہے ۔ پانی کا مسئلہ ، بجلی کا بحران ، صفائی ستھرائی کی ناقص صورتحال کا سامنا ہے ، ابھی ایک بارش ہوئی ہے ایک اور ہوگئی تو یہ سارا کچرا اور کچرے کے انبار سے ایسے وبائی امراض پھوٹیں گے جو 2کروڑ والی آبادی کے شہر کیلئے خطرناک ہیں ، بجلی کے بحران کے مسائل ہیں ، لینڈ اورقبضہ مافیا علیحدہ سے کراچی کی زمینوں کی لوٹ مار کررہا ہے ، سندھ میں مقامی حکومت کا موثر نظام ہوتا اور کراچی میں منتخب میئر ہوتا ملٹی پل ایجنسی کنٹرول نظام کا خاتمہ ہوتاتو ساحل سمندر سی ویو کا سانحہ نہ ہوتا، کوئی اونر شپ لینے کو تیا رنہیں تو مجبور اًہمیں آنا ہوگا ، عوام کو ان کا بنیادی حق دیاجائے ، بلدیاتی انتخابات جلد کرائے جائیں ، ہم حکومت سندھ میں رہتے ہوئے مقامی حکومت کے قیام کیلئے صوبائی کابینہ کا اجلاس بلا رہے ہیں اور اس میں سی ویو سانحہ میں جو جانیں گئیں ہیں اس پر بات ہوگی ۔سی ویو پر ایم کیوایم اراکین اسمبلی پہنچے جن کا یہ حلقہ نہیں تھا ، ایم کیوایم نے کیمپ لگایا اور ریسکیو کا کام کیا ،رکن رابطہ کمیٹی کنور نوید جمیل نے بتایا کہ کراچی میں صرف 39ملی میٹر بارش ہوئی ہے اگر یہ ڈیڑھ سو ملی میٹر ہوجاتی تو کراچی کی کیا صورتحال ہوتی، حیدرآباد نے مون سون کی تیاری کیلئے دس کروڑ مانگے مگر صرف پچاس لاکھ منظور ہوئے جو آج تک نہیں ملے، پچھلی مرتبہ میر پور خاص ڈوبتے ڈوبتے بچ گیا تھا ،یہی صورتحال نوابشاہ اور سکھر کی ہے۔