-----

ناریل کا تیل چکنائی سے بھرپور ہوتا ہے، تحقیق

Coconut Oil

امریکی ہارٹ ایسوسی ایشن نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ناریل کے تیل میں زیتون کے تیل سے 6 گنا زیادہ چکںائی ہوتی ہے اس لیے اسے استعمال کرنے سے گریز کیا جائے۔

امریکی ہارٹ ایسوسی ایشن کے مطابق1950 میں کی گئی تحقیقات کے بعد ماہرین نے چکنائی اور کولیسٹرول کی قسم ایل ڈی ایل کو بڑھتے ہوئے دل کے امراض کی وجہ بتایا ہے۔

ایل ڈی ایل کو کولیسٹرول کی سب سے نقصان دہ قسم قرار دیا گیا ہے کیونکہ یہ رگوں میں پلاک بنا دیتا ہے جودل کے امراض اور اسڑوک کی وجہ بنتا ہے۔ اس کے برعکس ایچ ڈی ایل کو کولیسٹرول کی اچھی قسم میں شمار کیا جاتا ہے کیونکہ یہ کولیسٹرول کو جذب کرکے اس کو جگر میں واپس بھیجتا ہے جہاں سے یہ جسم سے باہر نکل جاتا ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق ناریل کے تیل میں 82 فیصد، گوشت میں 50 فیصد اور مکھن میں 63 فیصد چکنائی ہوتی ہے۔ ناریل کے تیل کی وجہ سے کولیسٹرول لیول بڑھتا ہے جو دل کے امراض کے امکانات میں اضافہ کر دیتا ہے۔

ناریل کے تیل کا شمار ایک صحت مند کھانے کے اجزا میں ہوتا ہے لیکن اس میں پورک مکھن سے زیادہ چکنائی ہوتی ہے۔

امریکی ہارٹ ایسوسی ایشن نے مکھن چیز اور ایسی تمام اجزا کے استعمال میں کمی کا مشورہ دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہےکہ چکنائی سے بھرپور چیزیں جیسے کہ تلا ہوا کھانا، میٹھا کھانا یا ناریل کے تیل کے استعمال سے بہتر ہے کہ ایسی اشیا کا استعمال کیا جائے جو کم چکنائی والی ہوں جیسے کہ مچھلی، چکن، خشک میوے، زیتون کا تیل، سبزیوں کا تیل اور کم چکنائی والے دودھ سے بنی اشیا کا استعمال کرنا چاہیے۔

امریکی ہارٹ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ جس کو اپنا وزن کم کرنا ہے وہ دن میں صرف 5 سے 6 فیصد تک چکنائی والی اشیا کا استعمال کریں۔

جب کہ پبلک ہیلتھ انگلینڈ کے مطابق ایک دن میں مرد کو 30 گرام سے زائد اور خواتین کو 20 گرام سے زائد چکنائی کا استعمال نہیں کرنا چاہیے۔