-----

کراچی و حیدرآباد میں بچوں میں ٹائیفائیڈ کی دوا کا اثر ختم ہونے کا انکشاف

Typhoid In Karachi And Hyderabad

محکمہ صحت سندھ اور نجی اسپتال کی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ کراچی اور حیدرآباد میں بچوں میں ٹائیفائیڈ کی دوا کا اثر ختم ہوگیا ہے۔

صوبائی محکمہ صحت اور نجی اسپتال کے اشتراک سے کراچی اور حیدرآباد کے مختلف علاقوں کا سروے کیا گیا جس کے بعد رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دونوں شہروں میں ٹائیفائیڈ کی دوا بچوں پر اثر نہیں کر رہی۔

رپورٹ کے مطابق بچوں میں ٹائیفائیڈ کے خلاف مزاحمت نہ کرنے کی وجہ آلودہ پانی کا استعمال، صفائی ستھرائی کا فقدان اور ٹائیفائیڈ میں مبتلا ہونے کے بعد اس کا مکمل علاج نہ کرانا ہے۔

ڈائریکٹر ہیلتھ کراچی ڈاکٹر محمد توفیق کا کہنا ہے کہ سروے میں بچوں کے جسم میں نیا "ملٹی ڈرگ ریزسٹینس" جرثومہ سامنے آیا ہے اور اس جرثومے سے بچوں میں ادویات کے خلاف مزاحمت بڑھ گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد توفیق کے مطابق ٹائیفائیڈ کا مکمل علاج نہ کرانے کی وجہ سے بھی دواؤں کا اثر ختم ہوجاتا ہے۔

محکمہ صحت کے مطابق کراچی میں 15 بچے ملٹی ڈرگ ریزسٹینس (ایم ڈی آر) ٹائیفائیڈ کا شکار ہو چکے ہیں جب کہ ٹائیفائیڈ کا شکار بچوں کا تعلق ملیر، نیو کراچی، گلشن حدید اور گلستان جوہر سے ہے۔

محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ حیدرآباد میں 250 سے زائد بچے ایم ڈی آر ٹائیفائیڈ میں مبتلا ہوچکے ہیں، حیدرآباد کے علاقے بھٹائی آباد، قاسم آباد اور وحدت کالونی میں سب سے زیادہ بچے متاثر ہوئے جب کہ لطیف آباد میں بھی ایم ڈی آر کے کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔

ماہرین طب کے مطابق عام طور پر بچوں میں مون سون کے دوران ٹائیفائیڈ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اور اس مرض میں مبتلا ہونے کے بعد اینٹی بائیوٹک کا کورس مکمل نہ کرانے کی وجہ سے اموات کا خدشہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

ماہرین طب مشورہ دیتے ہیں کہ مون سون اور اس کے علاوہ عام موسم میں بھی صاف پانی کے استعمال اور صفائی ستھرائی کو یقینی بنایا جائے کیوں کہ انہی دو عوامل کی عدم موجودگی کی وجہ سے بچے ٹائی فائیڈ کا شکار ہوتے ہیں۔

دوسری جانب ٹائیفائیڈ سے متعلق سنسنی خیز انکشاف سامنے آنے کے بعد محکمہ صحت سندھ کی جانب سے ہنگامی بنیاد پر خصوصی مہم کا آغاز کردیا گیا ہے۔