پاکستان
17 اگست ، 2022

ویڈیو: عامر لیاقت سے متعلق دانیہ کی والدہ کا بھاری رقم کی تصاویر دکھا کر دعویٰ

عامر لیاقت کی تیسری اہلیہ دانیہ کی والدہ نے دعویٰ  کیا ہےکہ انتقال سے کچھ روز قبل عامر لیاقت کے پاس کروڑوں روپے آئے اور اسی وجہ سے ان کا قتل کیا گیا۔

سوشل میڈیا پر دانیہ کی والدہ کا بیان وائرل ہورہا ہے جس میں انہوں نےعامر لیاقت کو ملنے والے پیسوں سے متعلق گفتگو کی۔

دانیہ کی والدہ نے کہا کہ عامر لیاقت کا قتل پیسوں کے لیے کیا گیا، انہیں مرنے سے پہلے 25 کروڑ  روپے ملے تھے، 15 کروڑ کا وعدہ کیا گیا تھا جو کہ دانیہ کی موجودگی میں ہی  عامر کو مل گئے تھے جس کی تصاویر بھی میرے پاس ہیں۔

دانیہ کی والدہ نے چند تصاویر دکھاتے ہوئے بتایا کہ ان پیسوں کو عامر لیاقت نے لاکر میں رکھنے سے قبل یہ تصاویر لی تھیں۔

دانیہ کی والدہ کی جانب سے چند تصاویر دکھائی گئیں جن میں پیسوں کی گڈیاں ہیں جب کہ خاتون نے دعویٰ کیا کہ یہ پیسے عامر  لیاقت کے تھے، ان  پیسوں کو گنتے وقت یہ تصاویر لی گئیں۔

خاتون کا کہنا تھا کہ 40 کروڑ کی رقم میں سے کچھ رقم عامر نے ادھار کی واپسی کے طور پر ادا کی اور اسلام آباد میں مقیم اپنے 3 ملازموں میں 30 لاکھ تقسیم کیے جب کہ  عامر نے 3 کروڑ نوکر سے اپنے بینک اکاؤنٹ میں بھی رکھوائے تھے۔

 دانیہ کی والدہ نے مزید کہا کہ یہ اس وقت کی بات ہے جب دانیہ اور عامر عمران خان سے ملنے اسلام آباد گئے، اس کے اگلے روز دانیہ بھانجی کی ولادت پر گھر واپس آگئی اور ہماری لڑائی ہوگئی، اس کے بعد ہمیں پتا چلا کہ عامر لیاقت نے عمران خان کی پارٹی کو چھوڑ کر نواز شریف کی پارٹی جوائن کرلی ہے جس کے بعد 5 جون کو عامر سے ہماری صلح ہوگئی۔

خاتون کا  کہنا تھا کہ پھر عامر نے دانیہ کو کراچی واپس بلایا اور کہا کہ اگر آپ واپس نہیں آسکتیں تو میں آپ کو گاؤں لینے آؤں گا لیکن اس کے 4 دن بعد ہی ان کا قتل ہوگیا ، عامر کے ایکسرے کرنے والے ڈاکٹر جو کہ ہمارے رشتے دار بھی ہیں، انہوں نےانتقال کے روز ہمیں بتایا تھا کہ عامر کی بازو کی ہڈیاں اور پسلیاں ٹوٹی ہوئی ہیں، ان کا قتل کیا گیا ہے لیکن بشریٰ اس قتل کو چھپا رہی ہیں ۔

دانیہ کی والدہ نے حکومت سے عامر لیاقت کا پوسٹ مارٹم کرانے اور ان کے موبائل کے فارنزک کا بھی مطالبہ کیا۔

مزید خبریں :

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM