Can't connect right now! retry
Advertisement

خصوصی رپورٹس
07 جولائی ، 2017

’’پنجاب نہیں جاوٴں گی‘‘: بڑی عید کیلئے بڑی فلم

’’پنجاب نہیں جاوٴں گی‘‘: بڑی عید کیلئے بڑی فلم

’’نامعلوم افراد‘‘ ایک بار پھر تہلکہ مچانے آرہے ہیں لیکن اس بار ان کے سامنے ہمایوں سعید اور مہوش حیات کھڑے ہوں گے کیونکہ فلم ’’پنجاب نہیں جاؤں گی‘‘ کا ٹریلر زورو شور سے سامنے آگیا ہے۔

سپر ڈوپر ہِٹ فلم ”جوانی پھر نہیں آنی“ اورکامیاب ڈرامے ”دل لگی“ کی ہٹ جوڑی ہمایوں سعید اور مہوش حیات ’’ پنجاب نہیں جاؤں گی‘‘ میں جلوہ گر ہوں گے۔

فلم کے ٹریلر نے” ٹیزر“ کی طرح سب کو اپنا دیوانہ بنالیا ہے اور صرف 24 گھنٹوں میں اسے صرف ”یو ٹیوب“ پرہی 6 لاکھ سے زائد بار دیکھا گیا جس کے بعد صرف دو دن میں ہی یہ ٹریلر پاکستان کی تاریخ کا پہلا فلمی ٹریلر بن گیا جسے صرف ”یوٹیوب “ پر10 لاکھ سے زائد بار دیکھا جاچکا ہے۔

اگر اس دیوانگی کو پیمانہ بنایا جائے تو بلاشبہ اب تک یہ پاکستان کا سب سے”مقبول“ فلمی ٹریلر ہے۔

فلم کی کہانی جذبات، رشتوں، محبت، نفرت، دوستی، دشمنی، احسان، دھوکے اور عشق سے گوندھی ہوئی لگ رہی ہے۔ یقیناً فلم کے ٹریلر نے دیکھنے والوں کو فلم کا شدت سے انتظار کرنے پر مجبور کردیا ہے۔

ٹریلر نے ہی سب کو جتادیا کہ فلم کا بجٹ بھی ٹھیک ٹھاک ہے بلکہ یہ پاکستان کی مہنگی ترین فلموں میں سے ایک ہے اور اس بجٹ کو استعمال بھی خوب کیا گیا ہے کیونکہ جو پیسہ خرچ ہوا وہ دِکھ بھی رہا ہے۔

دن کی روشنی میں سورج کی کرنوں، رات کی تاریکی میں برقی قمقموں سے روشن اور پنجاب کے رنگوں سے سجی ہوئی بڑی حویلی کی لوکیشن کوزبردست شوٹ کیا گیا ہے۔

فلم میں کراچی کی وہ لوکیشن بھی دکھائی گئی ہیں جو عام طور پر پردے کی زینت نہیں ہوتیں۔

جیسے کہ سمندر میں کشتی ہویا سمندر پر بنے لمبے پل کا منظر، گولف کورس میں جاگنگ ہو، کشادہ خوبصورت سڑک یا پھر دو دریا پرریسٹورنٹ کا دلکش نظارہ۔

کراچی کی ایسی لوکیشن تو خود شہر قائد کے باسی بھی کم کم ہی دیکھتے ہیں۔

پنجاب کے لہلاتے کھیت ہوں یا ہریالی، بولی ہو یا پھر کانوں کو بھاتے ڈھول تاشے کی آواز، پگڑی اور رنگ برنگی جھنڈیوں سمیت مہلکتے پھول، سب کچھ تو ہے اس فلم میں۔

فلم کا ہیرو مجنوں بھی ہے مہینوال بھی۔ لیکن” رانجھا “ کا رنگ سب سے نمایاں ہے۔

ہمایوں سعید کو ”انتہا “ کے بعد اب اتنا جاندار کردار ملا ہے جس میں مارجن بھی بہت ہے۔ لیکن چیلنج بھی بڑا ہے کیونکہ وہی اتنی بڑی فلم کے ایک اکلوتے ہیرو ہیں۔

فلم میں ہمایوں سعید کو پنجاب کا ”بمشکل میٹرک پاس “گبرو جوان نظر آنا ہے اور ساتھ میں انگریزی اردو دونوں ہی بولنی ہیں۔

اس کے علاوہ ہمایوں فلم کے پروڈیوسرز میں بھی شامل ہیں جنہوں نے بجٹ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔

انہوں نے اپنا اسٹائل اور لہجہ سب کچھ فلم کے حساب سے بدلنے کی کوشش کی ہے۔ ہمایوں کو یہاں ڈائریکٹر ندیم بیگ اور خلیل الرحمن کی بھی بھر پور رہنمائی حاصل ہے لہٰذا ہمایوں کے لیے غلطی کی گنجائش نہیں۔

فلم کے سپر ہٹ ہونے کے بعد بھی اگر فلم بین ہمایوں کے اِس کردار سے ”جُڑتے“ نہیں اور ان کے فلمی فین نہیں بنتے تو انہیں فلم کی پروڈکشن اور ڈراموں میں ایکٹنگ تک محدود ہوجانا چاہیے۔

ان کی گھوڑے پر انٹری بھی شاندار ہے لیکن وہ ”ٹیزر“ میں زیادہ بہتر انداز میں دکھائی گئی ہے۔

فلم کے ٹریلر میں مہوش حیات نے سب کو حیران کردیا ہے۔ انہوں نے کراچی کی ماڈرن لڑکی کا کردار ادا کیا ہے جس کے لیے ہمایوں کی” محبت“ نہیں بلکہ شہری بابو اظفر کی ”انڈر اسٹینڈنگ“ ہی شادی کے لیے کافی ہے۔

مہوش حیات ” من جلی“ اور ”دل لگی“ سے بھی خوبصورت اس فلم میں نظر آئی ہیں۔ ”جوانی پھر نہیں آنی“ تو الگ قسم کی ملٹی اسٹارر فلم تھی لیکن اِس فلم کا ٹریلر ہی ان کے اگلے سال تمام ایوارڈ جیتنے کے لیے کافی ہے۔

جی ہاں ابھی تو جولائی ہے اور آدھا سال پڑا ہے اس لیے ہمیں اپنے الفاظ سنبھال کر بھی رکھنے چاہیے لیکن بہترین اداکارہ کا ایوارڈ ”مہوش حیات“ کا ہی ہوگا۔

کھیت، حویلی، بارش، سوئمنگ پول اورجاگنگ ٹریک سمیت مہوش جہاں جہاں نظر آئیں انہوں نے اس لوکیشن کی رونق بڑھائی۔ ہر منظر اور گانے میں وہ بہت حسین اور کردار میں ڈوبی ہوئی نظر آئی ہیں جب کہ  ہر لباس ان پر دلفریب دکھائی دیا۔

پہلے اس کردار میں ”ایمان علی“ کو سائن کیا گیا تھا لیکن شاید کہانی آہستہ آہستہ بدلی اور ہیروئن بھی بدل گئی۔

فلم میں منڈا پنجاب کا اور ہیروئن کراچی کی ہے۔ یعنی دو مختلف ثقافت رہن سہن اور مزاج کا ٹکراوٴ۔

’’پنجاب نہیں جاوٴں گی‘‘ تو ایک ہی ملک کے دو حصوں کی کہانی ہے لیکن اس میں” دیسی بابو اور ولایتی میم“ ایسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے اکشے کمار اور کترینہ کیف کی ”نمستے لندن“ جو خودمنوج کمار کی ” پورب اور پچھم“ سے متاثر تھی۔

”خلیل الرحمن قمر“ کے کلاسک ڈرامے ”بوٹا فرام ٹوبہ ٹیک سنگھ“ کا رنگ اور جذبات بھی فلم کے ٹریلر میں نظر آرہے ہیں اور ہمایوں اور مہوش کا ”دل لگی“ والا رومانس کا جادو بھی سر چڑھ کر بول رہا ہے۔

فلم کی عکاسی سینئر ڈی او پی سلمان رزاق کی ہے جسے دیکھ کر لگتا ہے کہ انہوں نے کیمرے کے ساتھ دیکھنے والوں کی آنکھیں ہی جمادی ہیں۔

ہر فریم دیکھنے والا اور رنگوں سے بھرا ہے جس کے لیے آرٹ ڈائریکشن اور پروڈکشن ڈیزائن والوں نے دل سے کام کیا ہے۔ ایڈیٹنگ اور بیک گراوٴنڈ اسکور کا تو کیا کہنا، شانی ارشد کا کمپوز کیا ہوا بیک گراوٴنڈ میوزک ٹیزر میں بھی بہت ہی عمدہ تھا اور ٹریلر میں بھی اس نے کمال بلکہ دھمال کردیا۔

اب فلم کے دو بڑے سرپرائز کی بات ہوجائے۔ ایک سینئر ٹی وی آرٹسٹ اور میزبان نوید شہزاد صاحبہ جنہوں نے مہوش کی ”بیبو جی “ کا کردار نبھایا ہے۔ نوید شہزاد صاحبہ کی یہ پہلی فلم ہے انہوں نے کافی عرصہ ٹی وی پر بہت چُن کر کام کیا اور اِس فلم میں ایسی دبنگ انٹری دی کہ دیکھنے والے دیکھتے رہ گئے۔

”گریس فل“ دادی کے اس کردار کے کچھ شیڈز ”گرے“ بھی لگ رہے ہیں۔ ان کو فلم میں اس کردار کے لیے کاسٹ کرنے والے نے زبردست کام کیا ہے۔ فلم دیکھنے کے بعد سب کی خواہش ہوگی کہ وہ اور کام کریں۔

دوسری سرپرائز انٹری ہے سب کے ”عزیزی“ سہیل احمد صاحب جو ہمایوں کے دادا بنے ہیں۔

ٹریلر کا آخری مکالمہ بتاتا ہے کہ فلم کی” کہانی“ سہیل احمد اور نوید شہزاد جیسے ایکٹنگ پاور ہاوٴس کے گرد بھی خوب چکر لگائے گی۔ سہیل احمد نے ٹی وی پر کئی یادگار کردار ادا کیے۔ انہوں نے جوانی میں ہی بڑھاپے کے کئی کردار نبھائے، فشار کے اینگری ینگ مین اسٹوڈنٹ لیڈر سمیت متعدد کرداروں کو بھلا کون بھول سکتا ہے اور لگتا یہی ہے کہ اس بار ان کا فلمی کردار بھی یادگار ہوجائے گا۔

فلم میں احمد علی بٹ بھی ہیں اور عروہ حسین بھی، فلم میں کامیڈی کا مارجن اتنا تونہیں لیکن احمد نے فلم کے لیے گیٹ اپ بھی تبدیل کیا ہے۔ ان کی بے ساختہ اداکاری کسی بھی کردار کو ہِٹ کراسکتی ہے۔ عروہ کے گانے بھی ہیں اور چناب سے سمندر والا مکالمہ بھی اور جذباتی مناظر بھی۔

فلم میں ہمایوں کے والدین کا کردار وسیم عباس صاحب اور صبا حمید نے کیے ہیں تو دوسری طرف بہروز صاحب اور سفینہ بہروز صاحبہ نے اسپیشل اپیئرنس میں مہوش حیات کے بڑوں غالبَا والدین کے کردار ہی ادا کیے ہیں۔ وسیم صاحب نے سالوں بعد فلم کے لیے کام کیا ہے اور سفینہ صاحبہ کی تو یہ پہلی انٹری ہے۔

کیا اتفاق ہے کہ ان کے بیٹے اور بہو کا بطور ہیرو اور ہیروئن اسی سال ڈیبیو ہوا اور خود انہوں نے بھی پہلی باراسی سال ”پنجاب نہیں جاؤں گی“ کے لیے کام کیا۔ سفینہ صاحبہ شہروز کی امی، سائرہ کی ساس، مومل اور شہزاد کی پھپھواور جاوید شیخ صاحب اور سلیم شیخ کی بہن بھی ہیں۔

فلم میں موسیقی کے لیے تین میوزک ڈائریکٹرز نے کام کیا ہے جن میں ایک شیراز اُپل، دوسرے شانی ارشد اور تیسرے ساحر علی بگا ہیں۔ گانے ایسے ہیں جو فلم کی کہانی کے لحاظ سے بنائے گئے ہیں جو ٹریلر میں زبردست تڑکا لگاتے ہیں۔

فلم کے ڈائریکٹر ندیم بیگ نے اپنی سپر ڈوپر ہٹ فلم ”جوانی پھر نہیں آنی“سے بالکل مختلف کام کیا ہے۔ کامیابی کے باوجود انہوں نے جلدی نہیں کی اور پہلے سے زیادہ پسینہ اور پیسہ بہا کر اور بہتر کام کیا ہے۔

ہر کردار، مکالمے، گانے اور رقص سے لے کر ٹیزر، ٹریلر اورریلیز تک سب اصل امتحان تو فلم کے کپتان ”ڈائریکٹر “ کا ہی ہوتا ہے اس لیے وہی کامیاب ہوتا ہے وہی ناکام۔

فلم کا ہٹ ہونا اور کتنا ہونا ان سب کا فیصلہ تو عوام کرتے ہیں اور اس فلم کا نتیجہ بھی آئے گا لیکن ابھی عوام نے ٹریلر دیکھ کر اپنا فیصلہ سنادیا ہے اور اس فلم کے ٹریلرکو پاکستان کا سب سے کامیاب فلمی ٹریلر بنادیا ہے باقی فلم کی ریلیز باقی ہے۔

دوستو ریکارڈز تو بنتے ہی ٹوٹنے کے لیے ہیں تو سب فی الحال بڑی عید پر بڑی پکچر دیکھنے کے لیے تیار رہیں۔ نام یاد ہے نا ” پنجاب نہیں جاوٴں گی“۔

Advertisement