گرین پاسپورٹ کی تنزلی

رواں سال دنیا کے پاسپورٹ انڈیکس جاری کرنے والے 2عالمی اداروں کی الگ الگ فہرستوں میں پاکستانی پاسپورٹ کو آخری نمبروں پردنیا کا کمزور ترین پاسپورٹ قرار دیا گیا ہے۔ آرٹن کیپٹل کی جاری لسٹ میں متحدہ عرب امارات کا نام سرفہرست ہے جبکہ ہینلے اینڈ پارٹنرز کی 2023ء کی فہرست میں جاپانی پاسپورٹ کو طاقتور ترین قرار دیا گیا ہے۔

 آرٹن کیپٹل کے مطابق یو اے ای کا پاسپورٹ رکھنے والے شہری ویزہ لئے بغیر 180 ممالک کا سفر کرسکتے ہیں جبکہ دوسری جانب ہینلے انڈیکس کے مطابق جاپانی پاسپورٹ رکھنے والے شہری بغیر ویزہ 193ممالک کا سفر کرسکتے ہیں۔ دونوں فہرستوں میں پاکستان کمزور ترین پاسپورٹ رکھنے والا چوتھا ملک قرار پایا ہے اور اس طرح پاکستان، یمن اور صومالیہ کے ساتھ مشترکہ طور پر 92 ویں نمبر پر ہے جسکے نیچے عراق 93، شام 94 اور افغانستان 95 ویں نمبر پر ہے۔

آرٹن کیپٹل کے مطابق یو اے ای کے بعد سوئٹزرلینڈ، جنوبی کوریا، جرمنی، سوئیڈن، فن لینڈ، لکسمبرگ، اسپین، فرانس، اٹلی، نیدرلینڈ اور آسٹریا مشترکہ طور پر دوسرے نمبر پر موجود ہیں جن کے پاسپورٹ کے حامل شہریوں کو 174ممالک میں جانے کیلئے کسی ویزے کی ضرورت نہیں۔

 اسی طرح ڈنمارک، بیلجیئم، پرتگال، ناروے، پولینڈ، آئرلینڈ، امریکہ اور نیوزی لینڈ کے پاسپورٹس کے حصے میں تیسرا نمبر آیا ہے جن کے حامل شہری 173ممالک کا سفر بغیر ویزا کرسکتے ہیں جبکہ چوتھے نمبر پر چیک ری پبلک، یونان، برطانیہ، آسٹریلیا اور ہنگری کے پاسپورٹس ہیں جہاں کے شہری 171 ممالک کا سفر بغیر ویزا کرسکتے ہیں۔

 اسی طرح 5واں نمبر مشترکہ طور پرسنگاپور، لتھوانیا، سلواکیہ، کینیڈا اور مالٹا کے نام رہا جن کے شہری 170ممالک میں پاسپورٹ دکھا کر ویزے کے بغیر داخل ہوسکتے ہیں۔ یاد رہے کہ گزشتہ سال ہینڈلے اینڈ پارٹنرز نے 2022ء کی پاسپورٹ انڈیکس جاری کی تھی جس میں پاکستانی پاسپورٹ کو دنیا کا چوتھا کمزور ترین پاسپورٹ قرار دیا گیا تھا جبکہ سال 2021ء کی رینکنگ میں پاکستانی پاسپورٹ پانچویں نمبر پر تھا۔

 اس طرح پاسپورٹ رینکنگ میں پاکستان مزید تنزلی کا شکار ہوکر چوتھے نمبر پر آگیا ہے اور پاکستان سے نیچے شام، عراق اور افغانستان جیسے خانہ جنگی کا شکار ممالک ہیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ 70ء کی دہائی تک پاکستانی پاسپورٹ کا شمار مضبوط پاسپورٹس میں ہوتا تھا اور پاکستانی شہری برطانیہ سمیت بیشتر یورپی ممالک میں بغیر ویزا یا ویزا آن آرائیول پر سفر کرسکتے تھے۔

 پاکستانی پاسپورٹ کی ساکھ کو سب سے زیادہ نقصان سوویت افغان جنگ کے بعد پہنچا جب لاکھوں افغان پناہ گزینوں اور پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم بنگلہ دیشی باشندوں نے رشوت کے عوض پاسپورٹ حکام سے پاکستانی پاسپورٹس حاصل کئے۔ یہ لوگ جب بیرون ملک پکڑے جاتے تو اُنہیں پاکستانی تصور کیا جاتاتھا جس سے پاکستانی پاسپورٹ دنیا بھر میں بدنام ہوا جبکہ رہی سہی کسر غیر قانونی طور پر بیرون ملک جانے والے پاکستانیوں نے نکال دی جن کے بیرون ملک پکڑے جانے پر پاکستانی پاسپورٹ اور پاکستانیوں کی جگ ہنسائی ہوئی۔ایسے میں جب عالمی انڈیکس میں پاکستانی پاسپورٹ کی رینکنگ میں گراوٹ آتی جارہی ہے، پاکستانیوں کو ویزے کے حصول کیلئے مزید سختیوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ یہ امر باعث افسوس ہے کہ سری لنکا، بنگلہ دیش، فلپائن اور تھائی لینڈ جیسے ممالک کے ویزے کے حصول کے لئے بھی پاکستانیوں کو ایک ایک ماہ تک انتظار کرنا پڑتا ہے۔ 

ان حالات کے پیش نظر پاکستان کا طبقۂ اشرافیہ کچھ ایسے ممالک میں رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کررہا ہے جہاں اس کیلئے مستقل رہائش اور پاسپورٹ کا حصول ممکن ہے۔ ان ممالک میں آج کل ترکیہ سرفہرست ہے جہاں دو سے ڈھائی لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری پر مستقل رہائش اور صرف ایک سال میں ترکش پاسپورٹ مل سکتا ہے۔ میرے کئی جاننے والے اس اسکیم سے فائدہ اٹھاچکے ہیں۔ یو اے ای حکومت کی ایک اسکیم کے تحت بھی یو اے ای میں رئیل اسٹیٹ یا کسی بھی شعبے میں 2 ملین درہم کی سرمایہ کاری کرنے پر پوری فیملی ’’گولڈن ویزا‘‘ حاصل کرسکتی ہے جس کی مدت 10 سال ہوتی ہے ، اس اسکیم میں بھی پاکستانی بہت دلچسپی لے رہے ہیں۔

پاکستانیوں کے ساتھ دنیا بھر میں ناروا سلوک کی بڑی وجہ یہ ہے کہ آج ہم قائداعظم کا فرمان بھلا کر اپنی عزت، مرتبہ اور پاسپورٹ کا مقام خود گنوا بیٹھے ہیں۔ ماضی کے حکمراں اپنی تقاریر میں اکثر اوقات اس بات کا عہد کرتے رہے کہ وہ پاکستانی گرین پاسپورٹ کا وقار دنیا میں دوبارہ بحال کروائیں گے مگر ان کے دور حکومت میں گرین پاسپورٹ رینکنگ میں اوپر جانے کے بجائے مزید گراوٹ کا شکار ہوتا چلا گیا اور تنزلی کے سفر میں ہم شام، عراق اور افغانستان جیسے خانہ جنگی کا شکار ممالک کو بھی پیچھے چھوڑ گئے جو یقینا ایک لمحہ فکریہ ہے۔


جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

مزید خبریں :