27 فروری ، 2012
کراچی … سندھ بھر سے لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق جوڈیشل کمیشن کا کراچی میں اجلاس ہوا جس میں 10لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے بیانات قلمبند کئے گئے، کمیشن 3مارچ تک کیسزکی سماعت کرے گا۔ جوڈیشل کمیشن کے روبرو کراچی سمیت اندرون سندھ سے لاپتہ افراد کے اہل خانہ، پولیس حکام اور تفتیشی افسران پیش ہوئے۔ 3 لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق رپورٹ بھی پیش کی گئی۔کمیشن کو بتایا گیا کہ کراچی سے لاپتہ حاجی سیف مری، عاذب قدوائی، اختیار حسین چانڈیو بازیاب جبکہ طارق کریم کی کوئٹہ سے لاش ملی ہے۔ میجر (ر) اسید زاہدی کی بیوی عدیلہ زاہدی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ان کے 5 بچے گزشتہ ڈیڑھ سال سے اپنے باپ کی صورت دیکھنے کو ترس گئے ہیں۔ کمیشن نے محمد امین، سعید، محمد رمضان، شیر افضل، شیراز، غازی خان، عبدالعزیز اور صحبت کھوسو کے گھر والوں کے بیانات بھی قلمبند کیے۔ کمیشن کراچی سمیت سندھ سے رجسٹرڈ ہونیوالے 54 لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے بیانات ریکارڈ کرے گا۔ ان لاپتہ افراد میں 1992ء کے آپریشن کے دوران ایم کیو ایم کے 25 لاپتا کارکنوں کے کیسز بھی شامل ہیں۔