07 جنوری ، 2025
کراچی میں شہری کے شارٹ ٹرم اغوا اور اس سے لاکھوں ڈالر لوٹنےکےکیس کی تحقیقات میں انچارج سی ٹی ڈی راجہ عمرخطاب اور ڈی ایس پی سی پیک سکیورٹی فرخ یونس کو عہدوں سے ہٹادیا گیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق کیس کی انکوائری رپورٹ کی روشنی میں دونوں افسران کو عہدوں سے ہٹایا گیا ہے۔
راجہ عمرخطاب اور فرخ یونس کو فوری طور پر سینٹرل پولیس آفس رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق 25 دسمبر کو کراچی میں پولیس کی وردی پہنے ملزمان کی جانب سے شارٹ ٹرم کڈنیپنگ کی واردات سامنے آئی تھی۔ ملزمان نے شہری کے اکاؤنٹ سے 3 لاکھ 40 ہزار ڈالر اپنے اکاؤنٹس میں منتقل کیے تھے۔
متاثرہ شہری ارسلان نارتھ کراچی کارہائشی ہے اور کرنسی کا آن لائن کاروبار کرتا ہے۔ واقعےکا مقدمہ منگھوپیر تھانے میں درج کیا گیا جس کی تفتیش اے وی سی سی کو منتقل کی گئی۔
گزشتہ دنوں واقعے میں ملوث 7 ملزمان کو گرفتار کیا گیا تھا جن میں سے ایک سی ٹی ڈی سول لائنز کا اہلکار عمیر تھا۔ اس کے علاوہ سی ٹی ڈی کے ایک اور اہلکار علی رضا کے بھی ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں جوکہ واقعے کے بعد سے اب تک مفرور ہے۔
ذرائع کے مطابق شارٹ ٹرم کڈنیپنگ میں گرفتار عمیر چونکہ راجہ عمرخطاب کی ٹیم میں تھا، اس لیے انہیں عہدے سے ہٹا کر سینٹرل پولیس آفس رپورٹ کرنے کی ہدایت کردی گئی۔
اس کے علاوہ واردات میں استعمال ہونے والی پولیس موبائل چونکہ اسپیشل پروٹیکشن یونٹ سی پیک کی تھی اس لیے ڈی ایس پی سی پیک سکیورٹی فرخ یونس کو بھی عہدے سے ہٹادیا گیا۔
اس سلسلے میں ایک اعلیٰ پولیس افسر نے جیو نیوز سے ٹیلیفونک گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ سی ٹی ڈی میں اس قسم کی شکایات بڑھتی جارہی تھیں اور اس سے قبل بھی افسران و اہلکاروں کے خلاف کارروائیاں کی جاچکی ہیں۔
دوسری جانب راجہ عمر خطاب کے مطابق واقعے کی تحقیقات کے دوران انہوں نے نے اہلکار علی رضا کے خلاف مس کنڈکٹ کی رپورٹ بھی اعلیٰ حکام کو بھیجی تھی جس میں سفارش کی گئی تھی کہ شہری کے اغوا میں علی رضا سمیت جو بھی اہلکار یا افسر ملوث ہے اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔