بلاگ
15 جنوری ، 2022

سانحہ مری پر سرکاری ملازمین کا نکتہ نظر

میوزیکل چیئر کی طرز پر قائم طرز حکمرانی ہی سانحہ مری کی بنیادی وجہ ہے کیونکہ گزشتہ تین سال کے دوران مری کے 8 اسسٹنٹ کمشنرز، 6 ڈپٹی کمشنرز اور پانچ کمشنرز کو تبدیل کیا جا چکا ہے۔

سوشل میڈیا گروپس پر سرکاری ملازمین کے درمیان جاری بحث کا حوالہ دیتے ہوئے ایک سینئر سرکاری عہدیدار نے دی نیوز کو بتایا کہ کوئی بھی بیوروکریٹ اس وقت تک کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر سکتا جب تک اُسے مخصوص عہدے پر تین سے چار سال کے مناسب وقت تک کام نہ کرنے دیا جائے۔

لیکن پنجاب کے معاملے میں افسران کو مہینوں میں ہی تبدیل کردیا جاتا ہے اور غیر موثر کارکردگی اور خراب طرز حکمرانی کی بڑی وجہ ہے۔

کہا جاتا ہے کہ کئی سینئر عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اسسٹنٹ کمشنر مری جیسے حساس اور مشکل عہدے کیلئے تین باتیں اہم ہیں: میرٹ پر تقرر، بہتر پیشہ ورانہ ساکھ اور عہدے کی مستحکم معیاد۔ اسسٹنٹ کمشنر مری تحصیل ایڈمنسٹریشن کے سربراہ ہیں اور کسی بھی حادثے یا بحران کی صورت میں ریلیف اور ریسکیو آپریشن کے ذمہ دار ہیں۔

یہ ضروری ہے کہ میرٹ پر تقرر کے بعد افسر کو یہ بھروسہ ہونا چاہئے کہ اسے عہدے کی مکمل معیاد ملے گی۔ تین سے چار سال کیلئے عہدے کی معیاد کے پیچھے انتظامی منطق یہ ہے کہ افسر عوام، علاقے، کلچر، مسائل اور انتظامی اور محکمے کے ساتھیوں اور ٹیموں سے اچھی طرح مانوس ہو جاتا ہے۔

لیکن یہ بات زیر بحث ہے کہ پنجاب کے تمام اضلاع اور محکموں کی طرح، صوبائی حکومت مری کے اسسٹنٹ کمشنرز کو تسلسل کے ساتھ تبدیل کرتی رہی ہے۔

جولائی 2018ء سے، پنجاب میں وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی حکومت آنے سے لیکر اب تک مری کے 8 اسسٹنٹ کمشنرز کو ٹرانسفر کیا جا چکا ہے اور ہر اے سی کے عہدے کی اوسط معیاد پانچ ماہ رہی ہے حالانکہ پالیسی کے تحت یہ معیاد کم از کم تین سال ہونا چاہئے۔

جن 8 اے سیز کو جولائی 2018ء سے لیکر اب تک تیز رفتار انداز سے تبدیل کیا گیا ہے اُن میں عدنان آفریدی (جولائی 2018 تا اکتوبر 2018)، امتیاز کھچی (اکتوبر 2018 تا جون 2019)، اظہار باجوہ (جون 2019ء جنہیں ایک ہی ہفتے میں تبدیل کر دیا گیا)، احمد رانجھا (جون 2019 تا دسمبر 2019 یعنی برف باری کے سیزن کے دوران)، زاہد حسین (دسمبر 2019 تا اکتوبر 2020)، وقار حسین (اکتوبر 2020 تا جنوری 2021 یعنی برف باری کے سیزن کے دوران)، محمد اقبال (جنوری 2021ء تا اکتوبر 2021)، عمر مقبول (اکتوبر 2021 سے آج تک)۔ یعنی موجودہ اے سی کو تین ماہ قبل ہی مقرر کیا گیا ہے۔

سرکاری ملازمین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی حکمت عملی پر خطر ہے اور اس کے نتیجے میں کئی دیگر سانحات پیش آ سکتے ہیں۔ اُن کی رائے تھی کہ برف باری سے دو ماہ قبل مقرر کیے گئے افسر سے کیا توقعات وابستہ کی جا سکتی ہیں کہ وہ چیلنجز سے کیسے نمٹے گا۔

مباحثے میں اس بات پر بھی عجب کا اظہار کیا گیا کہ مسلسل تبادلے صرف مری کے اسسٹنٹ کمشنرز کے ہی نہیں ہوئے بلکہ اس کی زد میں راولپنڈی کے 6 ڈپٹی کمشنرز اور پانچ کمشنرز بھی آ چکے ہیں ہیں جنہیں پی ٹی آئی حکومت نے تین سال چار ماہ میں وقتاً فوقتاً تبدیل کیا ہے اور اس طرح ڈی سی راولپنڈی کے عہدے کی اوسط معیاد ساڑھے 6 ماہ جبکہ کمشنر راولپنڈی کے عہدے کی اوسط معیاد 8 ماہ رہی ہے۔

جن 6 ڈی سیز کو یکے بعد دیگرے تبدیل کیا گیا ہے اُن میں ڈاکٹر عمر جہانگیر، علی رندھاوا، سیف اللہ ڈوگر، کیپٹن انوار الحق، عامر عقیق اور موجودہ ڈی سی محمد علی شامل ہیں۔

راولپنڈی ڈویژن کی انتظامی قیادت کیپٹن سیف انجم، جودت ایاز، کیپٹن ثاقب ظفر، کیپٹن محمود اور گلزار شاہ کے درمیان تبدیل ہوتی رہی ہے۔ مری اہم ترین سب ڈویژنوں (ایڈمنسٹریشن کا بنیادی یونٹ) میں سے ایک ہے اور یہ صرف پاکستان ہی میں نہیں بلکہ یہ آزادی سے قبل بر صغیر ہند میں بھی اہم ترین علاقہ تھا۔

یہ 1853ء میں اُس وقت قائم ہوئی تھی جب برطانیہ نے بر صغیر پاک و ہند میں سویلین ایڈمنسٹریشن قائم کی تھی۔ لیفٹیننٹ پیئرس یہاں کے پہلے سب ڈویژنل مجسٹریٹ تھے۔ امپیریل سول سروس (آئی سی ایس) کے انتہائی شاندار افسران کو برطانوی حکومت مری کا سب ڈویژنل مجسٹریٹ (ایس ڈی ایم) مقرر کرتی تھی۔

ذریعے کا کہنا تھا کہ شیئر کیے گئے ڈیٹا سے معلوم ہوتا ہے کہ 1853ء سے 1947ء تک مری کے تمام ایس ڈی ایمز (اسسٹنٹ کمشنرز) آئی سی ایس سے تعلق رکھتے تھے۔ انڈین سول سروس (جسے امپیریل سول سروس کہا جاتا ہے) برطانوی دورِ حکومت میں اعلیٰ ترین سول سروس تصور کی جاتی تھی۔

جن نمایاں افسران کو یہاں کا ایس ڈی ایم مقرر کیا گیا تھا اُن میں کیپٹن جان مارشل، جی این ریواز، ایل جی ٹائیلر، اے اے ولیمز، جبکہ مری میں آخری مقرر ہونے والے اے سی کے ہڈسر تھے جنہیں 1947ء میں لگایا گیا تھا۔ آئی سی ایس کے تحت پہلے مسلم اے سی مری 1927ء میں ملک شیر محمد خان تھے۔

آزادی کے بعد بھی یہاں شاندار اور اہل سی ایس پی اور ڈی ایم جی افسران کو مری کا اسسٹنٹ کمشنر لگایا گیا تھا۔ اکثر اوقات یہ عہدہ وزیراعلیٰ، گورنر اور اکثر اوقات صدر مملکت یا وزیراعظم انٹرویو کے بعد پُر کرتے تھے۔

چونکہ غیر ملکی شخصیات، وفود اور سربراہان مملکت و حکومت مری آتے تھے اس لئے اسسٹنٹ کمشنر مری وفاقی حکومت کے ساتھ قریبی رابطے میں رہتے تھے۔

آزادی کے بعد پنجاب سول سروس کے دو شاندار افسران کو 1947ء اور 1948ء میں اے سی مری مقرر کیا گیا تھا اُن میں ملک کرم داد خان اور فقیر سید سراج الدین شامل تھے۔

سی ایس پی کے تحت پہلے اے سی مری محمد رضا تھے۔ ایسے مقبول اے سی مری جو بعد میں چیف سیکریٹریز بھی بنے ان میں اجلال حسین، ایم ایس چوہدری اور حفیظ اختر شامل ہیں۔

کئی ایسے افسران جنہوں نے سرکاری ملازمت بحیثیت اے سی مری شروع کی اور وہ وفاقی سیکریٹریز بھی بنے اُن میں جی یزدانی ملک، اے آر صدیقی، خالد جاوید، مظفر قادر، ڈاکٹر عارف، ظفر الطاف، ابو شمیم عارف، شفقت ایزدی شاہ، طارق فاروق، سبطین فضل حلیم، ارشد مرزا، امتیاز عنایت الٰہی اور ظہیر احمد شامل ہیں جنہوں نے حیثیت اے سی مری عہدے کی طویل معیاد پائی۔ موجودہ وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود بھی اسسٹنٹ کمشنر مری رہ چکے ہیں۔


جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM