صحت و سائنس
08 دسمبر ، 2022

آکسیجن لیول چیک کرنے والا آلہ سیاہ رنگت والے مریضوں کی درست معلومات فراہم نہیں کرتا

طویل عرصے سے موضوع بحث رہنے کے باوجود اس سنگین مسئلے کا حل نہ ہوپانا اس بات کی دلیل ہے کہ ’سیاہ فام لوگوں کی زندگیوں کی اہمیت کم ہے‘: ڈاکٹر تھیؤ ڈور — فوٹو: فائل
طویل عرصے سے موضوع بحث رہنے کے باوجود اس سنگین مسئلے کا حل نہ ہوپانا اس بات کی دلیل ہے کہ ’سیاہ فام لوگوں کی زندگیوں کی اہمیت کم ہے‘: ڈاکٹر تھیؤ ڈور — فوٹو: فائل

امریکی ادارے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے کہا ہے کہ مریضوں کی آکسیجن لیول معلوم کرنے کیلئے استعمال ہونے والا طبی آلہ پَلس آکسی میٹر (Pulse oxymeter) سیاہ جلد والے مریضوں کی آکسیجن لیول کی درست معلومات فراہم نہیں کرتا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق گذشتہ ماہ ایف ڈی اے  کی جانب سے پلس آکسی میٹر میں ظاہر ہونے والی اس خرابی کا جائزہ لینے کیلئے میڈیکل ڈیوائس ایڈوائزری کمیٹی کا اجلاس طلب کیا گیا جس میں طبی آلے کے سیاہ فام مریضوں پر استعمال اور اس سے برآمد ہونے والے غلط نتائج کا بغور جائزہ لیا گیا۔

اس حوالے سے ایف ڈی اے ترجمان کا کہنا ہے کہ  اس اہم مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کیلئے اس کی میڈیکل ڈیوائس ایڈوائزری کمیٹی کا اجلاس بلایا گیا تھا جس کی سفارشات پر جلد ہی اگلا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پینل اجلاس کے دوران مریضوں اور ماہرین صحت کے خدشات کے پیش نظر طبی آلے کی کارکردگی بہتر بنا کر درست نتائج حاصل کرنے کے امکانات اور آکسی میٹر کے ڈبوں پر واضح انتباہ تحریر کرنے کے حوالے سے بھی گفتگو کی گئی۔

امریکی میڈیکل ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ آکسی میٹر کاسیاہ فام مریضوں کے آکسیجن لیول کے غلط نتائج ظاہر کرنا تین دہائیوں سے موضوع بحث بنا ہوا ہے ایف ڈی اے کو اس طبی آلے کے نتائج کو سب کیلئے یکساں بنانے کیلئے بروقت اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

جان ہاپکنس یونیورسٹی کے ڈاکٹر تھیؤڈور کا کہنا ہے کہ طویل عرصے سے موضوع بحث رہنے کے باوجود اس سنگین مسئلے کا حل نہ ہوپانا اس بات کی دلیل ہے کہ ’سیاہ فام لوگوں کی زندگیوں کی اہمیت کم ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ہر جگہ موجود اس طبی آلے کے نتائج میں ظاہر ہونے والا نسلی تفریق کا مظہر اور سیاہ فام مریضوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالتا یہ نسلی امتیاز کا مسئلہ ارباب اختیار کی خصوصی توجہ کی تقاضہ کرتا ہے۔

ڈاکٹر تھیؤڈور نے کہا کہ اور اگر اس اہم مسئلے کو حل کرلیا جاتا ہے تو ہم زیادہ بہتر مانیٹرنگ کے آلات بنا کر بلا تفریق سب لوگوں کیلئے محفوظ اور مؤثر طبی سہولیات فراہم کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ پَلس آکسی میٹر مریض کی انگلیوں پر لگایا جاتا ہے جہاں وہ ایک طرف سے روشنی بھیجتا ہے جو دوسری جانب لگے ہوئے سینسر سے ٹکراتی ہے اور یہ سینسر روشنی کے ذریعے خون کی رنگت سے آکسیجن لیول کے نتائج ظاہر کرتا ہے، روشن سرخ رنگ کا مطلب ہوتا ہے کہ مریض کے خون میں آکسیجن کی مقدار زیادہ ہے جبکہ نیلی  یا پرپل رنگت سے مراد خون میں آکسیجن کی کمی کو ظاہر کرتی ہے۔

امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کی جانب سے جاری کردہ سفارشات میں کہا گیا ہے کہ اس اہم مسئلے کا حل دریافت ہونے تک آکسی میٹر پر جو بھی مطالعات کیے جائیں اس میں مختلف عمر، جنس اور مختلف رنگت کے لوگوں کو شامل کیا جائے اور کم از کم 15 فیصد سیاہ رنگت کے لوگوں کو مطالعے میں شامل کیا جائے۔ 

مزید خبریں :

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM