03 اپریل ، 2025
دنیا کا زہریلا ترین جانور کوئی سانپ نہیں بلکہ ایک سمندری جانور نکلا۔
ہم اپنے بچن سے ہی سنتے آرہے ہیں کہ دنیا کا زہریلا ترین جانور سانپ ہے جس کی بھی دو زہریلی ترین نسلیں ہیں لیکن سمندری گھونگھے نے اس بات کو غلط ثابت کردیا۔
سب سے پہلے بات کی جائے کنگ کوبرا کی تو اسے دنیا کا زہریلا جانور قرار دیا جاتا تھا جس کے زہر کا ایک قطرہ ہی انسان کی زندگی ختم کرنے کیلئے کافی ہے۔
اگر کنگ کوبرا کسی کو کاٹ لے اور آدھے گھنٹے کے اندر علاج نہ کیا جائے تو متاثر شخص زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے، اسی طرح بلیک مامبا کو بھی خطرناک سانپ قرار دیا گیا ہے۔
تاہم سمندر میں پائے جانے والے ایک گھونگھے نے ان دونوں سانپوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے جسے دنیا کا زہریلا ترین جانور قرار دیا جارہا ہے۔
اس گھونگھے کا نام جیوگرافی کون اسنیل ہے جو ہند بحر الکاہل کے گہرے سمندر میں پایا جاتا ہے۔
اس جانور کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ایک بڑا بچھو اپنے شکار کو ختم کرنے کے لیے جس زہر کا استعمال کرتا ہے یہ گھونگھا اس زہر کا صرف 10 فیصد حصہ استعمال کرتا ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق یہ جانور انتہائی نایاب ہے جب کہ یہ جانور اپنے زہر سے 30 سے زیادہ لوگوں کی جانیں بھی لے چکا ہے اور گہرے سمندر میں پائے جانے کی وجہ سے بھی تک اس جانور کے زہر کا توڑ بھی نہیں نکالا جاسکا۔